الزام تراشی حکومت کی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش ہے، پی ٹی آئی کا احسن اقبال کے بیان پر ردعمل
اشاعت کی تاریخ: 19th, October 2025 GMT
پاکستان تحریک انصاف نے وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کے حالیہ بیانات پر شدید ردِعمل دیتے ہوئے انہیں افسوسناک اور گمراہ کن قرار دیا ہے۔ ترجمان تحریک انصاف کا کہنا ہے کہ وفاقی وزیر کی الزام تراشی دراصل حکومت کی معاشی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کی ایک ناکام کوشش ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی کی آن بان شان سمجھے جانے والے علی امین گنڈاپور کی مقبولیت میں کمی کیوں آئی؟
تحریک انصاف کے مطابق، عمران خان کی قیادت میں پاکستان کی معیشت ترقی کے راستے پر گامزن تھی۔ برآمدات میں اضافہ، صنعتوں کا استحکام، زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری، کسان اور مزدور طبقے کی خوشحالی اور روزگار کے مواقع میں اضافہ اُس دور کی نمایاں خصوصیات تھیں۔ تعمیرات، آئی ٹی اور صنعتی شعبوں میں حقیقی نمو دیکھنے میں آئی اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہو رہا تھا۔
ترجمان نے کہا کہ موجودہ حکومت انہی منصوبوں کو اپنی تختی لگا کر پیش کر رہی ہے لیکن عوام جانتے ہیں کہ معیشت کو تباہی کے دہانے پر پہنچانے والے کون ہیں۔ مہنگائی، بے روزگاری اور غیر یقینی نے عوام کا جینا دوبھر کر دیا ہے۔
ترجمان نے مزید کہا کہ عمران خان کی قیادت میں پاکستان خودداری، استحکام اور ترقی کی طرف بڑھ رہا تھا۔ قوم جانتی ہے کہ کون ملک بنا رہا تھا اور کون صرف اقتدار بچانے کے لیے جھوٹ بول رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ’اڑان پاکستان‘ کے تحت 2035 تک پاکستان کو ایک کھرب ڈالر کی معیشت بنائیں گے، احسن اقبال
یاد رہے کہ وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے پنجاب کے ضلع نارووال میں سڑک کی تعمیر کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ بانی تحریک انصاف کی غلط پالیسیوں کی بدولت پاکستان ڈیفالٹ کے قریب پہنچ گیا تھا، تاہم آج پوری دنیا میں پاکستان کی معیشت کی بحالی کے چرچے ہیں۔
احسن اقبال نے کہا کہ مسلح افواج نے بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا اور وزیراعظم و فیلڈ مارشل کی بہترین حکمت عملی سے معرکہ حق میں عظیم فتح حاصل ہوئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ افغانستان سے ہونے والی جارحیت کا بھی منہ توڑ جواب دیا گیا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ ہمیں اپنے شہدا پر فخر ہے۔ مسلح افواج نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے پناہ قربانیاں دیں۔ اب معرکہ حق کے بعد معرکہ ترقی میں کامیابی کے لیے پوری قوم کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی کے قیدیوں کی رہائی کیسے ممکن ہے؟ احسن اقبال نے بتا دیا
احسن اقبال نے نوجوانوں کی فلاح و بہبود کے لیے حکومتی اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ملک اب مزید انتہا پسندی اور فساد کا متحمل نہیں ہو سکتا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news احسن اقبال بانی پی ٹی آئی پاکستان عمران خان مسلم لیگ ن ملک ڈیفالٹ وفاقی وزیر.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: احسن اقبال بانی پی ٹی ا ئی پاکستان مسلم لیگ ن ملک ڈیفالٹ وفاقی وزیر احسن اقبال نے تحریک انصاف وفاقی وزیر کہا کہ کے لیے
پڑھیں:
سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
پاکستان نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی آئل ٹینکر پر حملے اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کو درپیش خطرات کی پرزور الفاظ میں مذمت کی ہے اور سعودی عرب کی سلامتی و خودمختاری کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے بحرِ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔وزیراعظم نے حملے کو بزدلانہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”ایسے اقدامات قطعی ناقابلِ قبول ہیں. یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، جہاز رانی اور تجارتی نقل و حمل کی آزادی کے لیے خطرہ ہیں اور علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں“۔وزیراعظم نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں خود، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پوری پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت اور مملکت کے برادر عوام کے ساتھ مضبوطی اور عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے مزید یقین دہانی کرائی کہ پاکستان مملکت سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے اور بحرِ احمر، آبنائے ہرمز اور خطے میں سمندری تجارت کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے عالمی برادری اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔گفتگو کے دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان کی اس مستقل حمایت اور دونوں ممالک کے درمیان قائم قریبی برادرانہ تعلقات کی تعریف کی۔ اس موقع پر وزیراعظم پاکستان نے خادمِ حرمین شریفین، شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے بھی نیک خواہشات اور خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کیا۔
دوسری جانب، دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”گزشتہ ہفتے بھی حوثیوں کی جانب سے حملہ کیا گیا تھا. جس کی وزیراعظم پاکستان نے فوری مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا تھا“۔طاہر اندرابی نے کہا کہ ہمارے بحری جہازوں پر حملہ ریڈلائن ہوگی. ہم سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور سعودی عرب کے ساتھ تمام معاہدوں کی پاسداری کریں گے۔انہوں نے خبردار کیا کہ یمن کے مسلح گروہوں کی جانب سے سعودی عرب پر ایسے حملے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، اس لیے پاکستان تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مسائل کا پرامن حل سفارتی راستے سے نکالنے کی اپیل کرتا ہے۔خطے میں امن قائم کرنے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان نے اپنی سفارتی رفت و آمد میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ترجمان کے مطابق حال ہی میں ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے پاکستان کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وزیراعظم، فیلڈ مارشل اور وفاقی وزیر داخلہ سمیت اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں تاکہ علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔اس کے علاوہ پاکستان اور کویت کے وزرائے خارجہ کے درمیان رابطہ ہوا، جبکہ منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے موقع پر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مصر، عمان، فلپائن، روس اور بنگلہ دیش کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ اہم ملاقاتیں کیں۔ان ملاقاتوں کی تفصیل بتاتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ”مصر کے وزیر خارجہ سے ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے تمام ممالک کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے احترام پر زور دیا، جبکہ عمان کے وزیر خارجہ نے خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن و استحکام کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہا“۔اس کے ساتھ ساتھ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمان سے بھی باہمی تعلقات اور تعاون کو آگے بڑھانے پر بات چیت کی گئی۔ترجمان دفترِ خارجہ نے مزید بتایا کہ پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اب شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں شرکت کے لیے بشکیک پہنچیں گے. جہاں ان کی کرغزستان کے صدر اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے بھی حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا ہے، جو گزشتہ بیس سالوں میں کسی کینیڈین وزیر خارجہ کا پہلا دورہ تھا اور اس دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی کے لیے اعلیٰ سطح پر بات چیت کی گئی۔