Jang News:
2026-06-03@00:49:46 GMT

وفاقی حکومت کی گندم پالیسی 26-2025ء کی منظوری

اشاعت کی تاریخ: 19th, October 2025 GMT

وفاقی حکومت کی گندم پالیسی 26-2025ء کی منظوری

—فائل فوٹو

وفاقی حکومت نے گندم پالیسی 26-2025ء کی منظوری دے دی، کسانوں کو مناسب قیمت دی جائے گی۔

اس حوالے سے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ گندم کسانوں کے لیے آمدنی کا سب سے بڑا ذریعہ ہے، کسانوں کی فلاح و بہتری کے لیے ہر ممکن کوششیں کی جا رہی ہیں، پاکستان ایک زرعی معیشت اور گندم کی فصل کلیدی اہمیت کی حامل ہے، گندم پاکستان کے لوگوں کی بنیادی خوراک ہے۔

شہباز شریف نے کہا کہ حکومت کسانوں کو درپیش مشکلات سے بخوبی آگاہ ہے، کسان پاکستان کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں،  گندم پالیسی کے لیے تمام صوبائی حکومتوں، اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کی،  کسان تنظیموں، صنعتکاروں اور کاشتکار برادری کے ساتھ بھی تفصیلی مشاورت کی گئی، مشاورت کی بنیاد پر حکومت قومی گندم پالیسی 26-2025ء کا اعلان کر رہی ہے۔

وزیرِ اعظم نے کہا کہ پالیسی کا مقصد عوامی مفادات کا تحفظ کرتے ہوئے کسانوں کے منافع کو یقینی بنانا ہے، اتفاقِ رائے پر مبنی پالیسی تیار کرنے میں صوبائی حکومتوں کے تعاون کو سراہتے ہیں، یہ پالیسی زرعی ترقی کو فروغ دے گی، کسانوں کی آمدنی میں اضافہ ہو گا، پالیسی پاکستان کے عوام کے لیے غذائی تحفظ کو یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کرے گی۔

اعلامیے کے مطابق نئی گندم پالیسی کے تحت کسانوں کو مناسب قیمت دی جائے گی، حکومت مستحکم ذخائر اور کسانوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے اسٹریٹجک اسٹاک خریدے گی، وفاقی اور صوبائی حکومتیں تقریباً 6.

2 ملین ٹن کے اسٹریٹجک ذخائر حاصل کریں گی، خریداری 3500 روپے فی من، گندم کی بین الاقوامی درآمدی قیمت کے مطابق کی جائے گی، یہ اقدام مارکیٹ کی مسابقت کو برقرار رکھتے ہوئے کسانوں کو منصفانہ قیمت و منافع کو یقینی بنائے گا۔

 بریفنگ میں بتایا گیا کہ گندم کی دستیابی یقینی بنانے کے لیے بین الصوبائی نقل و حرکت پر پابندی نہیں ہو گی، وفاقی وزیر گندم کی نگرانی کی ایک قومی کمیٹی کی صدارت کریں گے، کمیٹی میں تمام صوبوں کے نمائندے شامل ہوں گے،  کمیٹی پالیسی اقدامات پر عمل درآمد اور ہم آہنگی کی نگرانی کرے گی، کمیٹی ہفتہ وار اجلاس کرے گی اور براہِ راست وزیرِ اعظم کو رپورٹ کرے گی۔

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: گندم پالیسی کسانوں کو کو یقینی گندم کی کے لیے کرے گی

پڑھیں:

سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب

فائل فوٹو 

سپریم کورٹ نے اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا۔

کیس کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی، جسٹس عرفان سعادت نے کہا کہ درخواست 25 دن تاخیر سے دائر کی گئی۔

پشاور ہائیکورٹ فیصلے پر توہین عدالت کی درخواست شہداء کےلواحقین کی جانب سے دائر کی گئی تھی، پشاور ہائیکورٹ نے توہین عدالت کی درخواست خارج کردی تھی۔

درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ شہداء کے لواحقین کو اعلان کردہ پیکیج نہیں ملا۔

جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ اگر کوئی پیکیج ملا ہے تو سب کو دیں،  وفاقی حکومت بتائے کہ پشاور ہائیکورٹ فیصلے پر عملدرآمد ہوا یا نہیں۔

کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردی گئی۔

متعلقہ مضامین

  • 5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس، معیشت کی مجموعی ترقی اور پالیسی اقدامات پر جائزہ
  • وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری
  • کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
  • وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار