پاکستان اور ایران کا ریلوے و تجارتی روابط مزید مضبوط بنانے پر اتفاق
اشاعت کی تاریخ: 4th, December 2025 GMT
پاکستان اور ایران نے استنبول–تہران–اسلام آباد ٹرین کو رواں سال دوبارہ بحال کرنے پر اتفاق کیا ہے، جسے علاقائی رابطوں کے فروغ کے لیے اہم پیش رفت قراردیا گیا۔
پاکستان میں ایرانی سفیر ڈاکٹر رضا امیری مقدم نے وزیرِ ریلوے محمد حنیف عباسی سے ملاقات کی، جس میں ایرانی کمرشل کونسلرکمالی مقدم بھی شریک تھیں۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی سرکلر ریلوے کی بحالی: بازگشت یا حقیقت؟
ملاقات میں پاک ایران دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔
فریقین نے دونوں ممالک کے درمیان مثبت تعاون اور ایک دوسرے کی مسلسل حمایت پر اظہارِ تشکرکرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ دوطرفہ تعلقات کو مزید وسعت دی جائے گی۔
ملاقات میں پاکستان–ایران تجارت میں اضافے، باہمی درآمدات و برآمدات کے حجم میں توسیع اوراقتصادی تعاون بڑھانے پر بھی زور دیا گیا۔
وزیرِ ریلوے محمد حنیف عباسی نے کہا کہ تجارت میں اضافہ نہ صرف ریلوے ریونیو میں بہتری لائے گا بلکہ ملکی معیشت کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہوگا۔
مزید پڑھیں: لاہور ریلوے اسٹیشن پر ٹھیکیداری نظام کا خاتمہ، قلیوں کا ’بوجھ‘ کم
ملاقات میں پاک ایران تجارت میں اضافے، باہمی درآمدات و برآمدات کے حجم میں توسیع اوراقتصادی تعاون بڑھانے پر بھی زور دیا گیا۔
ایرانی سفیر ڈاکٹر رضا امیری مقدم نے اس موقع پر وزیرِ ریلوے کو ایران کے سرکاری دورے کی دعوت بھی دی۔
حنیف عباسی نے کہا کہ ایران میں زیارات کی سعادت حاصل کرنا ان کے لیے باعثِ شرف ہوگا، جبکہ دورے کے دوران ایرانی ریلوے نظام کا جائزہ لینا بھی ان کے ایجنڈے کا حصہ ہوگا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اقتصادی تعاون ایرانی سفیر برآمدات ٹرین حنیف عباسی درآمدات ڈاکٹر رضا امیری مقدم ریونیو زیارات وزیر ریلوے.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اقتصادی تعاون ایرانی سفیر برا مدات حنیف عباسی درا مدات ڈاکٹر رضا امیری مقدم ریونیو زیارات وزیر ریلوے حنیف عباسی کے لیے
پڑھیں:
وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ
وزیراعظم اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں - فوٹو بشکریہ پی آئی ڈیوزیراعظم شہباز شریف نے چین میں بی ٹو بی کانفرنس کے دوران ہوئی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ کیا ہے۔
دورہ چین میں پاک چین بزنس ٹو بزنس کانفرنس کے دوران لیے گئے فیصلوں کی پیشرفت کا جائزہ لینے کیلئے وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس ہوا۔ جس میں وفاقی وزرا رانا تنویر، احد چیمہ، احسن اقبال، شزا فاطمہ خواجہ اور متعلقہ حکام شریک ہوئے۔
اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان اور چین کے نجی شعبے کے درمیان کاروباری روابط میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ یہ اضافہ دونوں ممالک کی اقتصادی شراکت داری کے نئے دور کا آغاز ہے۔
اسلام آباد پاکستان اور چین نے سرمایہ کاری، زراعت...
انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ صنعتی، زرعی اور تکنیکی تعاون سے برآمدات بڑھنے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ ہانگژو بی ٹو بی کانفرنس میں ایم اویوز کو جلد باقاعدہ معاہدوں اور مشترکہ منصوبوں میں تبدیل کیا جائے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ چین کی اکیڈمی آف ایگریکلچرل سائنسز اور پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل کے درمیان تعاون کو عملی جامہ پہنایا جائے۔ پاک چین مشترکہ منصوبوں سے پاکستان کے زرعی شعبے میں انقلابی تبدیلی لائی جاسکیں گی۔
اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ہانگژو میں 24 مئی کو پاکستان چین بی ٹو بی کانفرنس میں 123 پاکستانی اور 436 چینی کمپنیوں نے شرکت کی۔ کانفرنس کے دوران تقریباً 7.54 ارب ڈالر مالیت کی 207 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔