فیلڈ مارشل سے ترک وزیر توانائی کی ملاقات‘ توانائی کے شعبے میں تعاون بڑھانے پر اتفاق
اشاعت کی تاریخ: 3rd, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251203-08-31
راولپنڈی (مانیٹرنگ ڈیسک) انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ترک وزیر توانائی نے جنرل ہیڈ کوارٹرز (جی ایچ کیو) میں ملاقات کی ہے، جس میں پاکستان اور ترکیہ کا توانائی کے شعبے میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے بتایا کہ اہم ملاقات میں پاک-ترک تعلقات مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیاگیا، آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے ترکیہ کے ساتھ تاریخی برادرانہ تعلقات پر اظہار اطمینان کیا۔ اعلامیے میں ترکیہ کی پاکستان کے لیے عالمی فورمز پر مسلسل حمایت کو قابل تحسین قرار دیا گیا ساتھ ہی پاکستان اور ترکیہ کا شراکت داری مزید مضبوط بنانے پر زور دیا گیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
نیوز بریفنگ کے دوران وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ توانائی اور سول جوہری تعاون کا معاہدہ سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت سے مشروط ہے۔ نیوز بریفنگ کے دوران کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ ماضی میں بھی سعودی عرب کے ساتھ مختلف معاہدوں کے حوالے سے بات چیت کر چکے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ سعودی عرب ابراہیم اکارڈز پر دستخط کرے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان متوقع ملاقات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کی مبینہ چوری کا معاملہ بھی زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔ کیرولین لیویٹ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکا سعودی عرب کے ساتھ توانائی اور سول جوہری تعاون سے متعلق مذاکرات جاری رکھے گا، تاہم کسی بھی حتمی معاہدے کے لیے متعلقہ شرائط پوری ہونا ضروری ہوں گی۔