ویرات کوہلی اور گوتم گمبھیر کے درمیان تعلقات مزید بگڑنے لگے
اشاعت کی تاریخ: 2nd, December 2025 GMT
بھارت کی ون ڈے ٹیم میں دراڑ گہری ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ میڈیا میں ہیڈ کوچ گوتم گمبھیر اور ویٹرن بلے باز ویرات کوہلی کے درمیان تعلقات مزید بگڑنے کی خبریں زور پکڑ رہی ہیں۔
جنوبی افریقا کے خلاف ایک روزہ سیریز کے دوسرے میچ سے قبل رائے پور کے ایئر پورٹ موجود بھارتی ٹیم کی ایک اور ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے جس سے یہ سمجھا جا رہا ہے کہ ویرات کوہلی ہیڈ کوچ گوتم گمبھیر سے دوربیٹھے ہیں اور پراگیان اوجھا کے ساتھ گفتگو میں محو ہیں۔
Some serious discussion between Virat Kohli and selector pragyan Ojha.
ایئر پورٹ پر ویٹنگ میں موجود ٹیم کے فلمائے گئے کلپ میں پراگیان اوجھا اور ویرات کوہلی کو سنجیدہ بحث میں مشغول دیکھا جا سکتا ہے۔
ایک اور ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ روہت شرما پراگیان اوجھا (جو ہیڈ کوچ گوتم گمبھیر کے برابر میں بیٹھے ہیں) سے ہاتھ ملا رہے ہیں۔
Rohit Sharma meeting his best friend team India selector pragyan Ojha. Gautam Gambhir, Rohit and Ojha having fun chat at airport yesterday.❤️ pic.twitter.com/NhVRo3nUZE
— ????????????????????????????⁴⁵ (@rushiii_12) December 2, 2025
واضح رہے اس وقت بھارت میں ویرات کوہلی کی ون ڈے ٹیم میں جگہ اور 50 اوورز ورلڈ کپ 2027 میں ٹیم کا حصہ ہونے پر بحث جاری ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ویرات کوہلی گوتم گمبھیر
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔