بگ بیش لیگ میں اپنا بہترین کھیل پیش کرنے کی کوشش کروں گا، محمد رضوان
اشاعت کی تاریخ: 4th, December 2025 GMT
پاکستان کے وکٹ کیپر بیٹر محمد رضوان نے کہا ہے کہ بگ بیش لیگ میں اپنا بہترین کھیل پیش کرنے کی کوشش کروں گا۔
محمد رضوان بگ بیش لیگ میں میلبرن رینیگیڈز کی نمائندگی کریں گے، اس بارے میں اُن کا کہنا تھا کہ اگر آپ آسٹریلیا میں پرفارم کرتے ہیں تو دنیا آپ کو جاننےلگتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ میں بگ بیش لیگ میں کھیلنے کے لیے بہت پرجوش ہوں، 2019 سیریز کے بعد لوگ مجھے پہچاننا شروع ہو گئے تھے۔
محمد رضوان نے مزید کہا کہ آسٹریلوی کھلاڑی دل سے اور بہادری کے ساتھ کھیلتے ہیں، وہاں کی کنڈیشنز مجھے بہت اچھی لگتی ہیں کیونکہ یہ بیٹر اور بولرز دونوں کے لیے چیلنجنگ ہوتی ہیں۔
اُن کا کہنا تھا کہ آسٹریلیا میں کھیلی جانےوالی میری اننگز کریئرکو تبدیل کرنے والی تھی، جس انداز سے آسٹریلین کھیلتے ہیں وہ مجھے اچھا لگتا ہے کیونکہ وہ یہ نہیں دیکھتے کہ دنیا کیا کر رہی ہے۔
وکٹ کیپر بیٹر نے یہ بھی کہا کہ شاہین آفریدی مجھے اٹیک کرتے ہیں اور میں بھی جواب میں اٹیک کرتا ہوں، میں ان کے خلاف باؤنڈریز لگاؤں گا اور وہ میری وکٹ لینےکی کوشش کریں گے، میں اپنا بہترین کھیل پیش کرنے کی کوشش کروں گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: بگ بیش لیگ میں محمد رضوان کی کوشش
پڑھیں:
ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔
میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔
ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔
تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔
اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔
ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔
گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔
آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔
مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔