شاندار تعلیمی ریکارڈ، برطانیہ سے پاکستانی نژاد طالب علم کی بیدخلی روک دی گئی
اشاعت کی تاریخ: 4th, December 2025 GMT
برطانیہ میں پاکستانی نژاد نوجوان کی ڈی پورٹیشن اُس کی شاندار تعلیمی کارکردگی کی بنیاد پر روک دی گئی۔
22 سالہ محمد اذہان، جو ماضی میں دکان سے چوری، کلاس میں چاقو لانے اور اسکول سے اخراج جیسے واقعات میں ملوث رہا، بعد ازاں کلاس اے اور کلاس بی منشیات کی ترسیل میں پکڑا گیا تھا اور اسے 30 ماہ قید کی سزا ہوئی۔
غیرملکی خبر رساں ادارے کے مطابق محمد اذہان نے سزا پوری کرلی ہے جس کے بعد برطانوی حکام اسے پاکستان ڈی پورٹ کرنا چاہتے تھے۔ تاہم ٹربیونل نے اپیل سن کر ڈی پورٹیشن روک دی۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ اذہان اپنے اسکول میں ایک وقت کا ’’اسٹار اسٹوڈنٹ‘‘ تھا اور مثبت کردار کی بنیاد پر اسے موقع دیا جانا چاہیے۔
رپورٹس کے مطابق عدالت نے سابقہ تعلیمی کارکردگی، اساتذہ کی رائے اور بحالی کی کوششوں کو مدِنظر رکھتے ہوئے فیصلہ نوجوان کے حق میں دیا۔
اس فیصلے کے بعد وہ برطانیہ میں رہ سکے گا، تاہم حکام نے خبردار کیا ہے کہ مستقبل میں کسی بھی خلاف ورزی کی صورت میں فیصلے پر نظرِ ثانی کی جاسکتی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ایران پر حملوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کا استعمال بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسے اقدامات ایران کے خلاف براہِ راست جارحیت میں شرکت تصور کیے جا سکتے ہیں، جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ وزارت خارجہ نے خبردار کیا کہ جو بھی ملک ایران پر حملوں میں مدد فراہم کرے گا، اسے اپنے اقدامات کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔