جسٹس طارق جہانگیری ڈگری کیس میں پیش رفت، ایچ ای سی کے ذریعے متعلقہ تعلیمی ریکارڈ طلب
اشاعت کی تاریخ: 2nd, December 2025 GMT
اسلام آباد ہائی کورٹ میں جسٹس طارق جہانگیری کے مبینہ ڈگری تنازع سے متعلق کیس میں بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے۔
چیف جسٹس سرفراز ڈوگر اور جسٹس اعظم خان پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے سماعت کے دوران احکامات جاری کرتے ہوئے ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کے ذریعے کراچی یونیورسٹی سے متعلقہ تعلیمی ریکارڈ طلب کر لیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: جسٹس جہانگیری ڈگری کیس میں بڑی پیش رفت، مقدمے کی سماعت کے لیے مقرر بینچ ٹوٹ گیا
سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ بغیر کیس کے میرٹس پر گئے ہم ایچ ای سی سے ریکارڈ طلب کر رہے ہیں۔
سماعت کے دوران اسلام آباد بار ایسوسی ایشن کے وکیل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ایسوسی ایشن کی کیس میں فریق بننے کی درخواست بھی موجود ہے، جس پر عدالت نے ریکارڈ طلب کرنے کے احکامات جاری کرتے ہوئے مزید کارروائی آئندہ سماعت تک مؤخر کر دی۔
اس سے قبل 28 اکتوبر کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں جسٹس جہانگیری ڈگری کیس کی سماعت کرنے والا 2 رکنی بینچ ٹوٹ گیا تھا۔ جسٹس خادم حسین سومرو نے بینچ میں بیٹھنے سے معذرت کر لی۔
یہ بھی پڑھیے: جعلی ڈگری کیس: جسٹس جہانگیری نے اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا
کیس کی سماعت چیف جسٹس سرفراز ڈوگر اور جسٹس خادم حسین سومرو پر مشتمل بینچ کر رہا تھا۔ سماعت کے دوران اسلام آباد بار ایسوسی ایشن کی کیس میں فریق بننے کی متفرق درخواست مقرر تھی۔
دورانِ سماعت جسٹس خادم حسین سومرو نے کیس سننے سے معذرت کرتے ہوئے خود کو بنچ سے الگ کر لیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس جہانگیری.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسلام ا باد ہائیکورٹ جسٹس جہانگیری سماعت کے دوران جسٹس جہانگیری ریکارڈ طلب اسلام آباد ڈگری کیس کیس میں
پڑھیں:
فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
اسلان درانی : فیصل آباد میں حکومت اور پٹرول پمپ مالکان کے درمیان مذاکرات کامیاب نہ ہو سکے، جس کے بعد پٹرول پمپ مالکان نے ہڑتال کا اعلان کر دیا, ہڑتال کے باعث شہر میں متعدد پٹرول پمپس پر پٹرول کی فراہمی معطل ہو گئی، جس سے شہریوں کو ایندھن کے حصول میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
اطلاعات کے مطابق پاکستان اسٹیٹ آئل (PSO) اور گو (GO) کے چند پمپس کے علاوہ بیشتر مقامات پر پٹرول دستیاب نہیں، جبکہ کھلے پمپس پر بھی گاڑیوں کی لمبی قطاریں دیکھی جا رہی ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ پٹرول تک رسائی ان کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
شہریوں نے شکایت کی کہ پٹرول پہلے ہی مہنگا ہو چکا ہے اور اب اس کی عدم دستیابی نے مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ بعض شہریوں کا کہنا ہے کہ پٹرول پمپ مالکان سپلائی میں تعطل کو جواز بنا رہے ہیں، جس سے عام صارفین متاثر ہو رہے ہیں۔
شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ عوامی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے فوری اقدامات کیے جائیں، پٹرول کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے اور حکومت و پٹرول پمپ مالکان کے درمیان پیدا ہونے والے تنازع کو جلد از جلد حل کیا جائے تاکہ معمولاتِ زندگی متاثر نہ ہوں۔
جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ