ولادیمیر پیوٹن نے کچھ امریکی تجاویز قبول اور کچھ کو مسترد کیا، کریملن
اشاعت کی تاریخ: 4th, December 2025 GMT
کریملن کے مطابق یہ کہنا غلط ہوگا کہ صدر پیوٹن نے امریکی تجاویز کو مسترد کر دیا ہے، یہ پہلی بار تھا کہ ان امریکی تجاویز پر براہ راست تبادلہ خیال کیا گیا۔ کریملن کا کہنا ہے کہ صدر پیوٹن نے کچھ تجاویز قبول کیں اور کچھ کو مسترد کیا، یہ معمول کا مذاکراتی عمل تھا۔ اسلام ٹائمز۔ کریملن نے کہا کہ صدر پیوٹن نے یوکرین جنگ کے خاتمے کیلئے کچھ امریکی تجاویز کو قبول اور کچھ کو مسترد کیا ہے۔ امریکا اور روس کے درمیان یوکرین جنگ کے خاتمے پر مذاکرات ہوئے۔ اس حوالے سے ماسکو سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ معاہدے کیلئے جتنی بار ضرورت ہوئی، روس امریکی مذاکرات کاروں سے ملنے کو تیار ہے۔ کریملن کے مطابق یہ کہنا غلط ہوگا کہ صدر پیوٹن نے امریکی تجاویز کو مسترد کر دیا ہے، یہ پہلی بار تھا کہ ان امریکی تجاویز پر براہ راست تبادلہ خیال کیا گیا۔ کریملن کا کہنا ہے کہ صدر پیوٹن نے کچھ تجاویز قبول کیں اور کچھ کو مسترد کیا، یہ معمول کا مذاکراتی عمل تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: اور کچھ کو مسترد کیا کہ صدر پیوٹن نے امریکی تجاویز
پڑھیں:
’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔
انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔
قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔
بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔
ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔