ٹیکس شعبے میں اصلاحات: نجی سیکٹر کی تجاویز پر غور کیلئے کمیٹی قائم
اشاعت کی تاریخ: 2nd, December 2025 GMT
اسلام آباد:
وزیراعظم نے ٹیکس کے شعبے میں اصلاحات کے لیے نجی ماہرین کی تجاویز پر غور کے لیے وزیر خزانہ کی صدارت میں کمیٹی قائم کردی جو تجاویز پر عمل اقدامات کے لیے سفارشات پیش کرے گی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیرِاعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت نجی شعبے کے ماہرین و کاروباری شخصیات پر مبنی ٹیکس شعبے کی اصلاحات کیلئے قائم ورکنگ گروپ کا اجلاس آج اسلام آباد میں منعقد ہوا۔
اجلاس میں شریک کاروباری شخصیات و سرمایہ کاروں نے گزشتہ اجلاس میں ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ سرچارج ختم کرنے کے احکامات پر وزیر اعظم کا شکریہ ادا کیا۔
اجلاس میں وفاقی وزراء احد خان چیمہ، محمد اورنگزیب، علی پرویز ملک، وزیر مملکت بلال اظہر کیانی، معاون خصوصی ہارون اختر اور متعلقہ اعلی حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں ورکنگ گروپ کے چیئرمین شہزاد سلیم سمیت دیگر ممبران نے بھی شرکت کی۔
اجلاس کو کارپوریٹ شعبے سمیت مختلف شعبوں میں ٹیکسز کی شرح اور تقابلی جائزہ پیش کیا گیا۔ اجلاس کو پاکستان میں نجی شعبے کی ترقی، برآمدات اور سرمایہ کاری میں اضافے کیلئے ضروری ٹیکس اصلاحات پر تجاویز پیش کی گئیں۔ اجلاس کو خطے میں پاکستانی کاروباری شعبے کی مسابقت بڑھانے کے حوالے سے بھی تجاویز پیش کی گئیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ برآمدات میں اضافے پر مبنی ملکی معاشی ترقی کیلئے عملی اقدامات اٹھا رہے ہیں، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کار قابل احترام ہیں، مختلف ورکنگ گروپس کی تجاویز پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے گا۔
وزیراعظم نے کہا کہ حکومت ٹیکس دینے والے کاروباری حضرات اور کمپنیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے، کاروبار اور مضبوط معیشت ہی سے ٹیکس آمدن میں اضافہ ہوگا، طویل مدتی اقدامات کے ذریعے ملک میں کاروبار کو بہتر اور مسابقتی بنانا چاہتے ہیں، حکومت روزاول سے برآمدات میں اضافے پر مبنی معاشی ترقی کیلئے عملی اقدامات اٹھارہی ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ نجی شعبے کے ماہرین کی جانب سے جامع تجاویز پیش کی گئی ہیں جن پر مشکور ہوں، ان تجاویز پر غور و خوض کے بعد انہیں قابل عمل بنانے کیلئے وزیر خزانہ کی صدارت میں کمیٹی قائم کر رہا ہوں، کمیٹی عملی اقدامات پر مبنی لائحہ عمل پیش کرے گی۔
وزیراعظم نے کہا کہ نجی شعبے کے ماہرین کی جانب سے جامع تجاویز پیش کی گئی ہیں جن پر مشکور ہوں، ان تجاویز پر غور و خوض کے بعد انہیں قابل عمل بنانے کیلئے وزیر خزانہ کی صدارت میں کمیٹی قائم کر رہا ہوں، کمیٹی عملی اقدامات پر مبنی لائحہ عمل پیش کرے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: وزیراعظم نے کہا کہ تجاویز پر غور تجاویز پیش کی عملی اقدامات کمیٹی قائم اجلاس میں
پڑھیں:
اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب ملکر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کیساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔ اسلام ٹائمز۔ لداخ کی سیاسی جماعتوں کی جانب سے یکجا طور حکومتِ ہند کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی پیشرفت سے حوصلہ پا کر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو خطوط لکھ کر جموں و کشمیر کے حقوق اور وقار کی بحالی کے لئے متحد ہونے کی اپیل کی ہے۔ اپنے خط میں سابق وزیراعلٰی محبوبہ مفتی نے عمر عبداللہ کو لکھا کہ "لیہہ ایپکس باڈی" اور "کرگل ڈیموکریٹک الائنس" کی جانب سے مرکز کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی حالیہ کامیابیاں ایک اہم سبق فراہم کرتی ہیں کہ بامعنی نتائج صرف بات چیت کے ذریعے ہی حاصل کئے جا سکتے ہیں۔
محبوبہ مفتی نے خط میں کہا کہ جموں و کشمیر ایک بار پھر اپنی تاریخ کے ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے، جہاں مایوسی اور بددلی کا احساس عوام پر غالب ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال سے نکلنے کے لئے سیاسی اور جماعتی اختلافات سے بالاتر ہو کر وسیع اتفاق رائے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر عوام کے وقار اور تحفظ کو بحال کرنا ہے تو حکومت ہند کے ساتھ تعمیری مذاکرات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب مل کر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔
جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کے علاوہ محبوبہ مفتی نے بی جے پی کے قائد حزب اختلاف سنیل شرما، جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر طارق حمید قرہ، سی پی آئی (ایم) رہنما ایم وائی تاریگامی، پیپلز کانفرنس کے چیئرمین سجاد غنی لون، رکن پارلیمان انجینئر رشید، عام آدمی پارٹی کے صدر معراج ملک، پی ڈی ایف کے چیئرمین حکیم محمد یاسین، جموں و کشمیر نیشنل پینتھرس پارٹی کے صدر ہرش دیو سنگھ، شیو سینا (جموں و کشمیر یونٹ) کے صدر منیش ساہنی، کشمیری پنڈت سنگھرش سمیتی کے صدر سنجے ٹکو اور گوردوارہ پربندھک کمیٹی کے چیئرمین جسپال سنگھ کو بھی خطوط ارسال کیے ہیں۔
انہوں نے تمام رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ وزیراعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے مشترکہ اور منظم انداز میں رابطہ قائم کرنے کے لئے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوں۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ ہمیں اپنے اختلافات اور متضاد خیالات کو ایک طرف رکھ کر عوامی مفاد اور اجتماعی فلاح کے لئے متحد ہونا ہوگا۔ یہ سیاسی کریڈٹ لینے یا ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے کا معاملہ نہیں بننا چاہیئے بلکہ ان لوگوں کے وسیع تر مفاد میں اتحاد کا موقع ہونا چاہیئے جن کی نمائندگی کا ہم سب دعویٰ کرتے ہیں۔ علاقائی جماعتوں کے درمیان اختلافات اور کشیدگی نے ہمیشہ جموں و کشمیر کے اجتماعی مفادات کو نقصان پہنچایا ہے، اس لئے خاص طور پر 2019ء کے بعد ایک معقول اتفاق رائے ہی واحد راستہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر لداخ ایسا کر سکتا ہے تو ہم بھی کر سکتے ہیں۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے اپیل کی کہ وہ ایک کل جماعتی اجلاس طلب کریں تاکہ مرکز کے ساتھ رابطے کے عمل کا آغاز کیا جا سکے۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ اس سیاسی پلیٹ فارم کی کامیابی کے لئے عمر عبداللہ کی حمایت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ غیر معمولی اور مشکل حالات میں حقیقی اتحاد ہی عوام کے ان حقوق اور وقار کی بحالی کی راہ ہموار کر سکتا ہے جن کی ضمانت بھارتی آئین دیتا ہے۔ محبوبہ مفتی کا یہ خط ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند دن قبل لیہہ ایپکس باڈی اور کرگل ڈیموکریٹک الائنس نے دعویٰ کیا تھا کہ حکومتِ ہند کے ساتھ ان کے مذاکرات میں اہم پیشرفت ہوئی ہے۔
یہ مذاکرات آرٹیکل 371 کے تحت چھٹے شیڈول کا درجہ اور قانون ساز اسمبلی کے مطالبات سے متعلق تھے۔ اگست 2019ء میں سابق ریاست جموں و کشمیر کی تقسیم کے بعد لداخ میں یہ سیاسی اتحاد سامنے آیا تھا۔ پی ڈی پی، نیشنل کانفرنس، پیپلز کانفرنس اور دیگر علاقائی جماعتوں نے 5 اگست 2019ء کو آرٹیکل 370 کی منسوخی سے دو روز قبل پیپلز الائنس فار گپکار ڈیکلریشن (PAGD) قائم کیا تھا۔ تاہم نومبر اور دسمبر 2020ء میں مرکز کی جانب سے ضلع ترقیاتی کونسل (DDC) انتخابات کے انعقاد کے بعد اس اتحاد میں اختلافات نمایاں ہونے لگے۔