قومی اسمبلی سے البیرونی انٹرنیشنل یونیورسٹی اسلام آباد بل 2025 کثرت رائے سے منظور
اشاعت کی تاریخ: 2nd, December 2025 GMT
اسلام آباد:
پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے بعد قومی اسمبلی کے اجلاس سے البیرونی انٹرنیشنل یونیورسٹی اسلام آباد بل 2025 کو کثرتِ رائے سے منظور کر لیا جبکہ عالیہ کامران کی ترامیم کثرتِ رائے سے مسترد کر دی گئیں۔
مشترکہ اجلاس کے بعد قومی اسمبلی کا اجلاس بھی اسپیکر ایاز صادق کی زیر صدارت ہوا، جہاں دن بھر کی طویل کارروائی کے باوجود اراکین بڑی تعداد میں موجود رہے۔
اسپیکر نے ہلکے انداز میں اراکین سے کہا کہ آج لمبا دن ہوگیا ہے، آپ سب صبح سے یہاں موجود ہیں، تھوڑا اجلاس چلنے دیں پھر جو کرنا چاہتے ہیں کر لیجیے گا۔ انہوں نے یونیورسٹی بل پر بھی اپوزیشن سے درخواست کی کہ اس پر ہاتھ ہلکا رکھیے گا۔
اجلاس میں اسلام آباد کے رہائشیوں کو راولپنڈی انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں علاج کی سہولت نہ ملنے سے متعلق توجہ دلاؤ نوٹس رکن اسمبلی ابرار احمد نے پیش کیا۔
وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ صحت سب کا بنیادی حق ہے اور اسلام آباد و راولپنڈی میں مریضوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم نے ایک ریسرچ انسٹیٹیوٹ کا افتتاح کیا ہے اور ’’ایک مشہور کیس کے 90 ملین روپے اسی پر خرچ کیے جائیں گے۔‘‘
اجلاس میں ضمنی ایجنڈا بھی پیش کیا گیا جس میں علاقہ دارالحکومت اسلام آباد میں غذائی ضیاع کی روک تھام بل 2025 اور البیرونی انٹرنیشنل یونیورسٹی اسلام آباد بل 2025 شامل تھے۔
رکن اسمبلی عالیہ کامران نے یونیورسٹی بل کی سخت مخالفت کی اور کہا کہ جتنی یونیورسٹیاں بن رہی ہیں ہمیں دنیا میں سب سے آگے ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اٹھارویں ترمیم کے بعد یہ معاملہ صوبائی ہے اور ہم نجی کمپنیوں کے لیے قانون سازی کر رہے ہیں۔
اس موقع پر اسپیکر ایاز صادق نے مزاحیہ انداز میں کہا کہ ’’آپ تو ہر بل کی مخالفت کرتی ہیں، کبھی اپنے بل کی مخالفت نہ کر دینا۔‘‘ ان کی بات پر ایوان میں قہقہے گونج اٹھے۔
عالیہ کامران کی ترامیم کثرتِ رائے سے مسترد کر دی گئیں۔ بعدازاں آغا رفیع اللہ نے ایک ترمیم پیش کی جس کے تحت یونیورسٹی 25 فیصد کوٹا مستحق طلباء کے لیے مختص کرے گی۔
وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے ترمیم کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک اچھی شق ہے۔ ایوان نے البیرونی انٹرنیشنل یونیورسٹی اسلام آباد بل 2025 کو کثرتِ رائے سے منظور کر لیا۔
قومی اسمبلی کا اجلاس بروز جمعہ صبح 11 بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: البیرونی انٹرنیشنل یونیورسٹی اسلام آباد بل 2025 قومی اسمبلی کہا کہ
پڑھیں:
مالی سال 26-2025 کے اختتام پر کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ 12 جون مقرر
اکاؤنٹنٹ جنرل پاکستان ریونیو (اے جی پی آر) اسلام آباد نے مالی سال 26-2025 کے اختتام کے سلسلے میں ادائیگیوں، بلوں اور کلیمز کی وصولی کے لیے اہم ڈیڈ لائنز مقرر کردی ہیں۔
اے جی پی آر کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق تمام ڈرائنگ اینڈ ڈسبرسنگ آفیسرز (ڈی ڈی اوز) کو ہدایت کی گئی ہے کہ حالیہ خریداریوں اور حاصل کی گئی خدمات کے تمام کلیمز 12 جون 2026 تک لازمی طور پر جمع کرائے جائیں۔
نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ 12 جون 2026 تک جاری کیے گئے ٹوکنز کے تحت تمام غیر منظور شدہ بلوں اور دعوؤں کو دوبارہ جمع کرانے کی آخری تاریخ 15 جون 2026 مقرر کی گئی ہے۔
اسی طرح اے جی پی آر اسلام آباد اور اس کے ماتحت دفاتر کے زیر انتظام اسائنمنٹ اکاؤنٹس کے لیے ریلیز جمع کرانے کی آخری تاریخ 19 جون 2026 ہوگی۔
اے جی پی آر نے واضح کیا ہے کہ 12 جون 2026 کے بعد اعزازیہ (ہونوریرئم) سے متعلق کوئی کلیم وصول نہیں کیا جائے گا۔
مزید برآں آف سائیکل ادائیگیوں کے حوالے سے کمپیوٹرائزڈ تبدیل شدہ اسٹیٹمنٹس صرف 11 جون 2026 تک وصول کی جائیں گی، جبکہ ان پر کارروائی عارضی طور پر 16 جون 2026 تک مکمل کر لی جائے گی۔
نوٹیفکیشن میں تمام ڈی ڈی اوز اور متعلقہ دفاتر کو تاکید کی گئی ہے کہ ادائیگیوں اور مالی معاملات میں کسی قسم کی تاخیر سے بچنے کے لیے تمام کیسز مقررہ مدت کے اندر جمع کرائے جائیں۔
اے جی پی آر نے یہ بھی آگاہ کیا ہے کہ موجودہ مالی سال سے متعلق تنخواہوں کے چیکس مالی سال کے اختتام پر زائد المعیاد (اسٹیل) تصور ہوں گے اور 30 جون 2026 کے بعد ان کے متبادل چیکس جاری نہیں کیے جائیں گے۔
ادارے نے تمام متعلقہ سرکاری دفاتر اور مالیاتی حکام پر زور دیا ہے کہ بلوں، ادائیگیوں اور کلیمز سے متعلق تمام مقررہ ڈیڈ لائنز پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے تاکہ مالی سال 26-2025 کے حسابات بروقت اور مؤثر انداز میں مکمل کیے جا سکیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews آخری تاریخ مقرر کلیمز مالی سال کا اختتام وی نیوز