Express News:
2026-06-03@07:58:45 GMT

ضمنی انتخاب سے پشاور حملے تک

اشاعت کی تاریخ: 28th, November 2025 GMT

پاکستان کی انتخابی سیاسی تاریخ کا المیہ یہ ہے کہ اول دن سے تادم تحریر ہونے والے تمام عام انتخابات اور ضمنی الیکشن ہمیشہ متنازعہ رہے ہیں۔ منصفانہ، شفاف، غیر جانبدارانہ اور آزادانہ انتخابات کا خواب آج بھی تشنہ تعبیر ہے۔

الیکشن کمیشن جس کی یہ آئینی ذمے داری ہے کہ وہ ملک میں منصفانہ اور شفاف الیکشن کو یقینی بنائے۔ انتخابات میں حصہ لینے والی تمام سیاسی جماعتوں کو اپنی انتخابی مہم چلانے کے یکساں مواقع فراہم کرے لیکن افسوس کہ الیکشن کمیشن کا کردار بھی ہمیشہ متنازعہ رہا ہے۔

جیتنے والی جماعتیں اپنی فتح و کامیابی کا جشن مناتی ہیں تو ہارنے والی سیاسی جماعتیں انتخابات میں دھاندلی و بدعنوانی کے الزامات عائد کر کے انتخابی نتائج کو بھی مسترد کر دیتی ہیں۔ انتخابی سروے کرنے والے اداروں کی نتائج کے حوالے سے جاری کی جانے والی رپورٹس پر بھی مبصرین و تجزیہ نگار سوالات اٹھاتے ہیں۔بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ انتخابی ماحول سے شاکی جماعتیں انتخابات کا بائیکاٹ کر کے اپنا احتجاج ریکارڈ کراتی ہیں۔ معروف سیاسی جماعتوں کے بائیکاٹ کرنے کے باعث مخالف سیاسی جماعتوں کے لیے مقابلے کا میدان خالی ہو جاتا ہے اور ان کے لیے جیتنے کے مواقع آسان ہو جاتے ہیں۔

اس کی تازہ مثال 23 نومبر اتوار کو پنجاب اور کے پی کے میں قومی و صوبائی اسمبلی کی مجموعی طور پر 13 نشستوں پر ہونے والے ضمنی الیکشن ہیں جس میں مسلم لیگ (ن) نے واضح برتری حاصل کرتے ہوئے قومی اسمبلی کی پانچ اور صوبائی اسمبلی کی 6 نشستوں پر کامیابی حاصل کی جب کہ پیپلز پارٹی صرف ایک نشست ہی جیت سکی۔ حسب معمول ضمنی الیکشن میں ووٹر ٹرن آؤٹ بھی کم رہا۔ پی ٹی آئی نے ضمنی الیکشن کا بائیکاٹ کر کے اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا۔

پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے ضمنی الیکشن کو نظام کے لیے ’’ ویک اپ کال‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ صوبے کی تاریخ کا اس قدرکم ٹرن آؤٹ تشویش ناک اور واضح طور پر جاری سیاسی نظام پر عوام کے عدم اعتماد کی نشان دہی کرتا ہے۔ جب کہ صوبے کی وزیر اعلیٰ مریم نواز کا کہنا ہے کہ ضمنی انتخابات ریفرنڈم ثابت ہوا، مقبولیت کا بت پاش پاش اورمخالفین کے بیانیے کی شکست ہے۔

مسلم لیگ (ن) نے کارکردگی پر الیکشن جیتا ہے۔ ماضی کی انتخابی مہم یہ بتاتی ہے کہ ضمنی الیکشن عموماً وہی جماعت جیتتی ہے جو اقتدار میں ہو اور اس خوش کن فتح کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اقتدار میں ہونے کے باعث انتخابی مشینری کے تمام ریاستی ادارے اس کے اشارہ ابرو پر کام کرتے ہیں۔ اسی لیے ممکنہ دھاندلی کا پلڑا بھی اسی جانب جھک جاتا ہے۔

ایک بڑی وجہ پی ٹی آئی کے بائیکاٹ کو قرار دیا جا رہا ہے۔ مبصرین و تجزیہ نگاروں کے مطابق قید تنہائی میں ہونے کے باوجود بانی پی ٹی آئی کی عوامی مقبولیت آج بھی برقرار ہے اور آیندہ عام انتخابات بھی اگر شفاف، منصفانہ اور غیر جانبدارانہ طریقے سے منعقد ہوئے اور الیکشن کمیشن اپنی ذمے داری پوری کرنے میں کامیاب رہا اور پی ٹی آئی کو اپنی انتخابی مہم چلانے کے لیے دوسری سیاسی جماعتوں کی طرح یکساں مواقع ملے اور فارم 45 اور 47 کا رولا نہ پڑا تو (ن) لیگ اور پی پی پی کے لیے واضح برتری حاصل کرنا آسان کام نہ ہوگا۔ ان تبصروں اور تجزیوں میں کتنی صداقت ہے اس کا فیصلہ آنے والے انتخابات میں ہی ہو سکے گا۔

فی الحال تو مسلم لیگ (ن) نے جو کامیابی سمیٹی ہے، اس نے اسے قومی اسمبلی میں مستحکم پوزیشن پر کھڑا کر دیا ہے، اسے اب پی پی پی کی بے ساکھیوں کی ضرورت نہیں رہے گی۔ تاہم سینیٹ میں آج بھی اس کی پوزیشن کمزور ہے اور قانون سازی کے لیے اسے ہر صورت پی پی پی کی محتاجی رہے گی۔

ایک طرف تو مسلم لیگ (ن) انتخابی کامیابی کا جشن منا رہی ہے جب کہ دوسری جانب خیبرپختونخوا کے دارالخلافہ پشاور میں ایف سی ہیڈ کوارٹر پر افغان دہشت گردوں نے خودکش حملہ کرکے حکمرانوں کو یہ پیغام دیا ہے کہ لاکھ رکاوٹوں، آپریشن اور ہلاکتوں کے باوجود موقع ملتے ہی وہ اپنا کام کر گزریں گے۔ ہماری سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردی کے اس حملے کو ناکام بنا دیا اور تینوں دہشت گرد ہلاک ہو گئے اور ہمارے تین جوان بھی شہید ہو گئے۔

مذکورہ دہشت گردوں کی افغان شہری ہونے کی نشانی اس بات کی علامت ہے کہ پاک افغان حالیہ مذاکرات کا کوئی نمایاں نتیجہ نہیں نکلا۔ افغانستان کی طالبان حکومت نے دہشت گردی کے خلاف کارروائی کے پاکستان کے مطالبے کو کوئی اہمیت نہیں دی بلکہ بھارت کے اکسانے پر اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال کرنے کی دہشت گردوں کو کھلی چھوٹ دے رکھی ہے جو نہ صرف پاکستان بلکہ خطے کے امن کے لیے بھی بڑا خطرہ ہے۔ قطر اور ترکیہ کی ثالثی موثر ثابت نہ ہو سکی پاکستان کو سفارتی محاذ پر امریکا، چین، روس اور دیگر ممالک کو صورتحال کی نزاکت اور سنگینی سے آگاہ کرنا چاہیے۔ فتح کا جشن اپنی جگہ لیکن عوام کی آواز بھی سننا چاہیے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: سیاسی جماعتوں ضمنی الیکشن پی ٹی آئی مسلم لیگ کے لیے

پڑھیں:

بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 17دہشتگرد ہلاک

فائل فوٹو۔

بلوچستان کے مختلف علاقوں میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر آپریشنز کے دوران بھارتی حمایت یافتہ فتنہ الخوارج کے 17دہشت گرد ہلاک کر دیے گئے۔ 

مسلح افواج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے یہ آپریشنز 24 مئی کے ٹرین واقعہ کے بعد کیے، جو مستونگ، نوشکی، زہری، خضدار اور کیچ کے اضلاع میں کیے گئے۔ 

آئی ایس پی آر کے مطابق دہشت گردوں کی ہلاکت سے ان علاقوں میں دہشت گرد نیٹ ورکس کو بہت زیادہ نقصان ہوا، ہلاک دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ، بڑی مقدار میں بارودی مواد اور آئی ای ڈیز برآمد کیے گئے۔ 

آئی ایس پی آر کے مطابق یہ دہشت گرد علاقے میں متعدد دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث رہے تھے۔ ان علاقوں میں کلیئرنس آپریشنز جاری ہیں۔

آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی اداروں کی ملک گیر انسدادِ دہشت گردی مہم بھرپور انداز میں جاری رہے گی اور ملک سے بیرونی حمایت یافتہ دہشت گردی کے خطرے کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  •   جی بی الیکشن: مسلم لیگ ن نے اسکردو سے بڑی کامیابی حاصل کر لی
  • جی بی الیکشن:سکردو سےمسلم لیگ ن کو بڑی کامیابی مل گئی
  • گلگت بلتستان انتخابات: پی ٹی آئی پر مقامی سیاسی عمل کو متاثر کرنے اور افراتفری پھیلانے کا الزام
  • پی ٹی آئی کے علاوہ سب کو انتخابی مہم کی اجازت ہے، شفیع جان
  • سکیورٹی فورسز کی مختلف کارروائیوں میں 17 دہشت گرد جہنم واصل
  • بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 17دہشتگرد ہلاک
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • نواز شریف گلگت بلتستان روانہ، انتخابی مہم میں حصہ لیں گے
  • مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
  • ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر