یوکرین جنگ؛ ٹرمپ تجاویز پر روس اور امریکا کے مذاکرات بے نتیجہ ختم
اشاعت کی تاریخ: 3rd, December 2025 GMT
روسی اور امریکی وفد کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں کوئی سمجھوتہ طے نہیں پایا جا سکا تاہم تعاون جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اس ملاقات میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور داماد جیرڈ کُشنر نے صدر ولادیمیر پیوٹن سے ملاقات کی۔
روسی حکومت کے ترجمان یوری اوشاکوف نے ملاقات کے بعد میڈیا کو بتایا کہ گفتگو بہت مفید اور تعمیری تھی لیکن مذاکرات میں کوئی سمجھوتہ نہیں ہوسکا۔
انھوں نے مزید کہا کہ دونوں ممالک نے مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے اور آئندہ بھی مذاکرات کے دور ہوں گے۔
یوری اوشاکوف نے مزید بتایا کہ یوکرین کی زمینی حدود سے متعلق سب سے اہم معاملے پر کوئی پیشرفت نہیں ہوسکی۔
اس سے بل یوکرین اور یورپی ممالک نے بھی ٹرمپ کے امن نکات کو مسترد کردیا تھا جس کے بعد کچھی تبدیلیاں بھی کی گئیں۔
امریکی اور روسی وفد نے ایک دوسرے کے ملک کا دورہ بھی کیا اور چند نکات پر روسی صدر نے مثبت اشارہ دیا۔
جس کے یوکرینی صدر نے بھی مشاورتی اجلاس طلب کیا اور صدر ٹرمپ سے خصوصی ملاقات کا عندیہ بھی دیا تھا۔
امریکی صدر ٹرمپ نے بھی اس صورتحال کو مشکل اور بڑا گھمبیر معاملہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ جنگ ہر ماہ دسیوں ہزار جانیں لے رہی ہے۔
صدر ٹرمپ نے یوکرین امن مذاکرات کے لیے جو نکات پیش کیے وہ تاحال خفیہ ہیں تاہم ان میں سے کچھ نکات لیک ہوگئے تھے۔
جن کے مطابق امریکی امن منصوبے میں روس نے یوکرین کی فوج کی تعداد محدود کرنے، پورے ڈونباس پر کنٹرول اور زاپوریژیا و خیرسون میں اپنی موجودگی کے باضابطہ اعتراف جیسے مطالبات کیے تھے۔
جس پر یوکرین نے ان نکات کو ہتھیار ڈالنے کے مترادف قرار دے کر مسترد کر دیا تھا۔
.
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
غزہ جنگ بندی کے مذاکرات نازک مرحلے میں داخل، قطر کا انتباہ
قطر کے وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمٰن الثانی کا کہنا ہے کہ غزہ کی جنگ میں امریکا کی حمایت سے ہونے والی جنگ بندی کو مضبوط بنانے سے متعلق مذاکرات ایک “انتہائی نازک مرحلے” میں داخل ہو چکے ہیں۔
دوحہ فورم کانفرنس میں ایک سیشن سے خطاب کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ ثالث کار جنگ بندی کے اگلے مرحلے کو آگے بڑھانے کے لیے کوششیں کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سماجی ترقی و غربت کے خاتمے پر عالمی اتفاق، دوحہ سیاسی اعلامیہ منظور
واضح رہے کہ قطر اس جنگ میں اہم ثالث کا کردار ادا کرتا رہا ہے۔
The nearly two-month-old ceasefire in Gaza will not be complete until Israeli troops withdraw from the Palestinian territory under a peace plan backed by Washington and the UN, Qatari Prime Minister Sheikh Mohammed bin Abdulrahman al-Thani says.#Gaza #Israel pic.twitter.com/wzhOUbhN91
— Al Arabiya English (@AlArabiya_Eng) December 6, 2025
’ہم ایک نہایت اہم لمحے پر کھڑے ہیں، ابھی ہم وہاں نہیں پہنچے، جو کچھ ہوا ہے وہ محض ایک وقفہ ہے، اس سے مراد وہ نسبتاً کمی ہے جو تقریباً ایک ماہ قبل طے پانے والی غزہ جنگ بندی کے بعد تشدد میں آئی۔‘
انہوں نے واضح کیا کہ اسے مکمل جنگ بندی نہیں کہا جا سکتا کیونکہ جنگ بندی تب ہی ممکن ہے جب اسرائیلی افواج کا مکمل انخلا ہو، غزہ میں استحکام واپس آئے اور لوگ آزادانہ اندر باہر آ جا سکیں، جو بقول ان کے اس وقت ممکن نہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس منصوبے کے اگلے مراحل کے لیے مذاکرات جاری ہیں، جس کا مقصد فلسطینی علاقے میں 2 سال سے جاری جنگ کو ختم کرنا ہے۔
مزید پڑھیں: سماجی ترقی کا خواب غزہ جنگ کو نظرانداز کرکے پورا نہیں ہوسکتا، صدر مملکت کا دوحہ کانفرنس سے خطاب
اس منصوبے کے مطابق غزہ میں ایک عبوری ٹیکنوکریٹ فلسطینی حکومت قائم ہوگی، جس کی نگرانی ایک بین الاقوامی ’امن بورڈ‘ کرے گا، اور اسے ایک بین الاقوامی سیکیورٹی فورس کی معاونت حاصل ہوگی، اس فورس کی تشکیل اور اختیارات پر اتفاق رائے سب سے مشکل مرحلہ ثابت ہو رہا ہے۔
جمعرات کے روز ایک اسرائیلی وفد نے قاہرہ میں ثالثوں سے ملاقات کی، جس میں غزہ میں موجود آخری یرغمالی کی فوری واپسی پر بات چیت ہوئی، یہ ٹرمپ منصوبے کے اہم ابتدائی حصے کی تکمیل ہوگی۔
مزید پڑھیں:’صدر ٹرمپ کے غزہ امن منصوبے میں پاکستان نے بڑا اہم کردار ادا کیا ہے‘
کمزور جنگ بندی کے آغاز سے اب تک حماس تمام 20 زندہ یرغمالیوں اور 27 لاشیں واپس کر چکی ہے، جبکہ اس کے بدلے تقریباً 2,000 فلسطینی قیدی اور زیرِ حراست افراد کو رہا کیا گیا ہے۔
اگرچہ 10 اکتوبر کی جنگ بندی کے بعد تشدد میں کمی آئی ہے، لیکن اسرائیل نے غزہ میں حملے اور حماس کے مبینہ انفرااسٹرکچر کی تباہی جاری رکھی ہے، حماس اور اسرائیل ایک دوسرے پر امریکی حمایت یافتہ معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام لگاتے رہے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا ٹرمپ ٹیکنوکریٹ ڈونلڈ ٹرمپ سیکیورٹی فورس شیخ محمد بن عبدالرحمٰن الثانی غزہ فلسطینی قاہرہ قطر وزیر اعظم