پنجاب میں 25 سال بعد بسنت کی خوشیاں واپس، اب تیوہار مکمل طور پر محفوظ ہوگا
اشاعت کی تاریخ: 4th, December 2025 GMT
وزیر اطلاعات و ثقافت پنجاب عظمٰی زاہد بخاری نے کہا ہے کہ پنجاب میں 25 سال بعد بسنت کی خوشیاں واپس آئیں، لیکن اب یہ خوشی محفوظ اور سخت قوانین کے تحت منائی جائے گی۔
عظمٰی زاہد بخاری نے واضح کیا کہ اب بسنت صرف خوشی کا تیوہار ہے اور کسی کو قانون توڑنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ خونی ڈور کا دھندہ ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا گیا ہے اور 18 سال سے کم عمر بچے اب پتنگ نہیں اُڑا سکتے۔ ڈور بنانے اور بیچنے والوں کی رجسٹریشن لازمی کر دی گئی ہے اور ہر ڈور پر QR کوڈ کے ساتھ شناخت ہوگی۔
مزید پڑھیں: پنجاب میں 25 سال بعد پتنگ بازی کی مشروط اجازت، بسنت منانے سے متعلق آرڈیننس جاری
وزیر اطلاعات نے بتایا کہ دھات یا کیمیکلی کوٹڈ ڈور بنانے یا بیچنے پر 3 سے 5 سال تک قید اور 20 لاکھ روپے جرمانہ ہوگا، جبکہ بچوں کی جانب سے پتنگ بازی کی پہلی خلاف ورزی پر 50 ہزار اور دوسری بار 1 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا جائے گا۔
عظمٰی زاہد بخاری نے ٹریفک قوانین پر زور دیتے ہوئے کہا کہ موٹرسائیکل سواروں کے لیے حفاظتی اقدامات لازمی ہیں اور نئے قوانین کا مقصد صرف سزا دینا نہیں بلکہ ہر شہری کی جان اور خاندان کی حفاظت ہے۔
انہوں نے کہا کہ جو شہری قوانین کی پابندی نہیں کرے گا اس پر جرمانہ عائد ہوگا اور بار بار خلاف ورزی پر گاڑی نیلام کی جائے گی۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ احتیاط کریں، قوانین کی پابندی کریں اور اپنی اور دوسروں کی زندگی کو محفوظ بنائیں۔
مزید پڑھیں: نواز شریف اور مریم نواز بسنت کروانا چاہتے ہیں، کامران لاشاری
وزیر اطلاعات نے مزید بتایا کہ وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے کم عمر بچوں کو ہتھکڑیاں لگانے سختی سے منع کر دیا ہے اور کم عمر بچوں کا صرف چالان کیا جائے گا۔ پنجاب میں بائیک چلانے والے کم عمر بچوں کو قانونی کورر دینے کے لیے قانون سازی بھی کی جائے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
25 سال بسنت پنجاب عظمٰی زاہد بخاری وزیر اطلاعات و ثقافت پنجاب.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: 25 سال عظم ی زاہد بخاری وزیر اطلاعات و ثقافت پنجاب عظم ی زاہد بخاری وزیر اطلاعات کے لیے ہے اور
پڑھیں:
میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔
منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔
میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔
یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔
برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔
مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں
مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔