ایک فراموش شدہ قومی ہیرو
اشاعت کی تاریخ: 28th, November 2025 GMT
26 جنوری1931،کیمرج میں سخت سردی پڑ رہی تھی، جب ہندوستان کے صوبہ پنجاب سے آنے والا لانبے قد، اکہرے بدن اور نسبتاً پختہ عمرکا یہ نوجوان عمانویل کالج میں نووارد طالب علم کی حیثیت سے داخل ہوا۔ کون جانتا تھا کہ اب اس کی ساری زندگی اسی شہر میں گزرے گی، اور یہی سرزمین اس کا ابدی مسکن ٹھہیرے گی۔
کیمرج پہنچنا اس نوجوان کے لیے چنداں آسان نہیں تھا۔ ضلع ہوشیار پور کے گاؤں موہراں کی دیہی فضا سے نکل کر پہلے وہ لاہورآیا تھا۔ اسلامیہ کالج سے بی اے کرنے کے بعد برطانیہ میں اعلیٰ تعلیم کے اخراجات کا بندوبست کرنے کے لیے اگلے بارہ سال اس شہر میں دن رات مشقت کی تھی۔
اس جدوجہد میں نہ کبھی گھر بنانے کا خیال آیا، نہ گھر بسانے کے۔ کیمرج یونیورسٹی کے قواعد کی رو سے انڈرگریجوایٹ طلبہ کے لیے ہوسٹل میں رہنا لازم تھا، مگر جب اس نوجوان نے اپنی مجبوری بیان کی کہ وہ ہوسٹل کا خرچہ برداشت کرنے کی سکت نہیں رکھتا، تو اسے شہر کے نواح میں کوئی کمرہ لے کر رہنے کی اجازت دے دی گئی ۔ یہ کمرےdigs کہلاتے تھے، جو پرانی آبادیوں میں مکانوں کے اندر ہی ہوتے، اور ضرورت مند لوگ انھیںکرایہ پر دے دیتے تھے۔
ریکارڈ کے مطابق 1932 میں یہ طالب علم 3 ہمبرسٹون روڈ پر مقیم تھا، اسٹریٹ میں داخل ہوں تو بائیں طرف دوسرا مکان۔ مورخ کے کے عزیز تحقیقی جستجو میں1971 میں یہ مکان دیکھنے گئے اور اس علاقہ کو گمبھیر خاموشی میں ڈوبا ہوا پایا تو سوچنے لگے کہ 1932-33 میں تو یہاں اس سے زیادہ گہری چپ کا راج ہو گا۔ یہی وہ تاریخی مکان ہے، جس کے اندر کرایہ کے ایک سنگل بیڈ کمرے میں، بشارت کے کسی وقت، اس طالب علم چوہدری رحمت علی نے تنہا بیٹھ کرNow or Never پمفلٹ قلمبند کیا، جس سے دنیا کو پہلی بار لفط ’’پاکستان‘‘ اور اس نام سے مستقبل قریب میں معرض وجود میں آنے والی سب سے بڑی اسلامی مملکت کی جغرافیائی حدود اور اس کے نظریاتی خال و خد سے کامل آگاہی حاصل ہوئی، یہ رتبہ بلند ملا جس کو مل گیا۔
یہ وہ زمانہ ہے، جب لندن گول میز کانفرنسوں میں برطانیہ کے زیر سایہ انڈین فیڈریشن کو ابدی حقیقت سمجھ کر اسی کے اندر نئی اصلاحات پر پخت و پز جاری تھی۔ مسلم زعماء بھی یہی کہتے پائے جاتے کہ کوئی ہوش مند مسلمان برطانوی دولت مشترکہ سے باہر شمال مغربی ہندوستان میںآزاد مسلم ریاست کے منصوبہ کو قابل عمل نہیں سمجھتا۔ مگر بقول چوہدری رحمت علی، انھیں ان دنوں جیسے کوئی غیر مرئی طاقت حکم دے رہی تھی کہ وہ ہندوستانی وفاق کو چیلنج کریں اور آزاد مسلم ریاست ’پاکستان‘ کا مقدمہ لڑیں۔ برطانیہ اور ہندوستان کے سیاسی حلقوں میں ’ اب یا کبھی نہیں‘ کا واضح اور دوٹوک پیغام کسی بھونچال سے کم نہ تھا۔
اس پمفلٹ میں پاکستان کے حق میں جو تاریخی، مذہبی، سیاسی اور قانونی دلائل دیے گئے، وہ اتنے بھرپور اور مکمل تھے کہ اس کے بعد خود مسلم لیگ ان کے اندر قیام پاکستان تک کوئی اضافہ نہ کر سکی اور انھی کو دہراتی رہی۔ ’پاکستان‘ کے نام سے آزاد مسلم ریاست کی اسکیم پیش کرنے کے بعد چوہدری رحمت علی خاموش بیٹھ نہیں گئے، بلکہ اس خاکہ میں حقیقت کا رنگ بھرنے کے لیے ’پاکستان نیشنل موومنٹ‘ کے نام سے ایک تنظیم کی بنیاد بھی رکھ دی۔ دیکھنے والے دیکھتے تھے کہ ہندو سیاست دان اس اسکیم کو کیمرج کے چوہدری رحمت علی اور ان کے ساتھی طلبہ کا بچکانہ مطالبہ قرار دے رہے تھے۔ وجہ یقینی طور پر یہ تھی کہ پہلی بار پنجاب، کشمیر، سندھ، سرحد، بلوچستان پر مشتمل آزاد مسلم مملکت کے قیام کا مطالبہ کیا جا رہا تھا، جو ان کے لیے ناقابل برداشت تھا۔
چوہدری رحمت علی کی پاکستان اسکیم کو اس نازک مرحلہ پر بھرپور غیبی مدد اس طرح پہنچی کہ اس عرصہ میں شہرت یافتہ ترکی ادیبہ اور صحافی خالدہ ادیب نے ہندوستان کا دورہ کیا۔ 1937میں اس کی روداد پر مشتمل ان کی کتاب Inside India منظر عام پر آئی، تو اس کے اندر کیمرج میں مقیم پاکستانی اسکیم کے خالق چوہدری رحمت علی کے ساتھ ان کا طویل مکالمہ بھی شامل تھا۔ ہندوستان کے باقی مسلم راہ نماؤں کو اس نے کوئی خاص اہمیت نہ دی۔ چوہدری رحمت علی نے اس انٹرویو میں پاکستانی اسکیم کو مزید شرح و بسط سے پیش کیا، اور اسے ہندوستان کے فرقہ وارانہ مسائل کا واحد مستقل حل قرار دیا۔
اس کتاب کی وساطت سے چوہدری رحمت علی کا پیغام برطانیہ اور ہندوستان، بلکہ اس سے باہر ان حلقوں تک بھی پہنچ گیا، جہاں عام حالات میں پہنچنا ناممکن تھا۔کتاب اور مکالمے کا ترجمہ ہندوستان کے کثیر الاشاعت اردو اخبارات میں شائع ہوا، تو ہر ہندوستانی مسلمان کو ’پاکستان‘ اپنی روح کی پکار محسوس ہوا۔ 1940ء کی قرار داد لاہور میں اس کی بازگشت صاف سنی جا سکتی ہے۔ حقیقتاً، ’اب یا کبھی نہیں‘ اور قرارداد لاہور میں اسی ہم آہنگی کے باعث ہندو پریس نے ’قرارداد لاہور‘ کو ’قرارداد پاکستان‘ قرار دیا اور شدومد سے اس کی مخالفت شروع کردی تھی؛ اور، یہیں سے اس کہانی کا دوسرا اور دلخراش دور شروع ہوتا ہے۔
مسلم لیگ خاص طور پر پنجاب کی جاگیردارقیادت، جو زیادہ تر یونی نسٹوں پر مشتمل تھی، پاکستانی اسکیم کا کریڈٹ ہندوستان سے دورکیمرج میں کرایے کے ایک چھوٹے سے کمرے میں شب و روز کرنے والے چوہدری رحمت علی کو دینے پر تیار نہ تھی، جن کے قلب پر پہلی بار یہ خدائی منصوبہ منکشف ہوا تھا۔ چنانچہ 1940 میں وہ ہندوستان آئے، تو یونینسٹ حکومت نے انھیں پنجاب کی حدود میں داخل نہیں ہونے دیا۔ 1948 میں وہ کیمرج سے سب کچھ سمیٹ کر اپنے خوابوں کی جنت پاکستان میں آ گئے تھے، لاہور میں گھر کا بندوبست بھی ہو گیا تھا، لیکن قائد اعظمؒ کی وفات کے بعد حکومت کے نامناسب سلوک سے دل برداشتہ ہو کر بوجھل دل کے ساتھ واپس کیمرج لوٹ گئے۔
ان کی پاکستانی پاسپورٹ پر سفر کرنے کی آخری خواہش بھی پوری نہ ہو سکی۔ بحری راستے سے کراچی پہنچنے والا ان کے گھر کا قیمتی سامان کراچی اور لاہور ہی میں کہیں رل گیا، ’سحر آئی بھی تو لائی اس چراغ کی موت، جو ساری رات سلگتا رہا سحرکے لیے‘۔ جرم کیا تھا ؟محض یہ کہ وہ متحدہ پنجاب اورکشمیر کے بغیر پاکستان کو ادھورا سمجھتے اور تقسیم ہندوستان کے منصوبہ کو من و عن قبول کرنے پر مسلم لیگی قیادت کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے تھے۔
چوہدری رحمت علی یوں تو زندگی بھر تنہا رہے، مگر جن حالات میں انھیں پاکستان چھوڑنا پڑا، اس کے بعد وہ خودکو حقیقتاً بہت اکیلا، بے بس اور لاوارث محسوس کر تے تھے، مگر پاکستان اب بھی ان کی پہلی اور آخری محبت تھا۔ جنوری 1950 میں قوم کے لیے آخری پیغام تحریر کیا، تو اس میں بھی ہموطنوں کو درپیش چیلنجوںسے خبردارکیا اور بڑے مخلصانہ مشورے دیے۔ ان کی صحت مگر مسلسل گرتی جا رہی تھی ۔یہ29 جنوری1951، کی سرد شام تھی۔ کیمرج میں تیز کاٹ دار ہوا کے ساتھ ساتھ مسلسل بونداباندی ہو رہی تھی۔ Miss Watson نے ناگہاں باہر دیکھا تو ان کے سابق کرایہ دار چوہدری رحمت علی، جو پاکستان سے واپسی کے بعد دنوں اور ہفتوں میں بوڑھے ہو رہے تھے، لیٹر بکس سے حسب معمول اپنی ڈاک نکال رہے تھے۔ اس روز اس کے پاس نہ چھتری تھی اور نہ وہ اوورکوٹ پہنے ہوئے تھا۔
انگریز خاتون نے قدرے ڈانٹ کے کچھ دیر آتشدان کے پاس بیٹھ جانے کے لیے کہا، مگر وہ ڈاک لے کر اسی طرح بارش میں بھیگتے ہوئے واپس چل دیے۔ اپنے کمرے میں پہنچتے پہنچتے سردی رگ و پے میں سرایت کر چکی تھی۔ یہاں بھی مالک مکان انگریز خاتون ہی نے انھیں قریبیEvelyn نرسنگ ہوم میں داخل کرایا، گراونڈ فلور پر اندرجاتے ہی بائیں جانب پہلا کمرہ، جس کی کھڑکی اتفاق سے ان کی محبوب درس گاہ کیمرج یونیورسٹی کی طرف کھلتی تھی۔
عمانویل کالج میں ان کے شفیق استاد Welbourne کو معلوم ہوا کہ ان کا پاکستانی طالب علم رحمت علی باٹنی گارڈن سے متصل نرسنگ ہوم میں بے کسی کے عالم میں مر رہا ہے، تو تڑپ اٹھے، فوراً اسپتال پہنچے، اس کے علاج کا خرچہ اپنے ذمہ لیا، بلکہ اس کی وفات کے بعد تجہیز و تکفین کا بندوبست بھی کیا اور اس کے اخراجات بھی ادا کیے۔ آخری وقت میں کوئی ہموطن دو بول ہمدردی کے کہنے کے لیے بھی نہیں آیا، جان و جہاں سے گزرا میں میرؔ جن کی خاطر، بچ کر نکلتے ہیں وے میرے مزار سے بھی۔ پندرہ روز تک کوئی رشتہ دار، دوست اور ہموطن نہ پہنچا، تو کیمرج نے چوہدری رحمت علی کو اس طرح اپنی مہربان آغوش میں سمیٹ لیا کہ پھر کبھی خود سے جدا نہیںہونے دیا، وہی کیمرج شہرکی خنک سرزمین جہاں برسوں پہلے وہ ایک نووارد طالب علم کی حیثیت سے آئے تھے۔
زکوئے یار بیار اے نسیم صبح غبارے
کہ بوئے خون دل ریش ازاں غبار شنیدم
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: چوہدری رحمت علی ہندوستان کے کیمرج میں طالب علم رہی تھی کے ساتھ کے اندر کے لیے اور اس کے بعد
پڑھیں:
عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
بین الاقوامی سیاست کے افق پر بعض لمحات ایسے طلوع ہوتے ہیں جو محض روزمرہ سفارتی سرگرمیوں کا حصہ نہیں ہوتے بلکہ تاریخ کے دھارے میں ایک معنی خیز موڑ کی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں۔ آج مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر اسی نوع کی بے یقینی، اضطراب اور کشمکش سے دوچار ہے۔
ایک طرف جنگ کے بادل ہیں جو لبنان، غزہ اور خطے کے دیگر حساس مقامات پر مسلسل گہرے ہوتے جا رہے ہیں، دوسری طرف سفارت کاری کی وہ نحیف مگر روشن کرن بھی موجود ہے جو انسانیت کو ایک بڑے تصادم سے بچانے کی جدوجہد کر رہی ہے۔ ایسے نازک ماحول میں پاکستان کے کردار کو عالمی سطح پر ملنے والی پذیرائی نہ صرف قومی سفارت کاری کی کامیابی کا اعتراف ہے بلکہ اس حقیقت کی علامت بھی ہے کہ بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں پاکستان کو ایک ذمے دار، متوازن اور قابلِ اعتماد ریاست کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس کی جانب سے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہنا بظاہر ایک بیان ہے، مگر اس کے مضمرات کہیں زیادہ گہرے ہیں۔ عالمی سیاست میں تعریف کے الفاظ اکثر مفادات کے پردے میں لپٹے ہوتے ہیں، لیکن جب کسی ملک کی ثالثی کی صلاحیت، اس کی قائدانہ بصیرت اور امن کے لیے اس کی سنجیدہ کوششوں کا اعتراف مختلف بین الاقوامی حلقوں سے ہونے لگے تو یہ محض سفارتی آداب نہیں رہتے بلکہ ایک نئی حقیقت کا اظہار بن جاتے ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی گزشتہ نصف صدی سے عالمی سیاست کے حساس ترین موضوعات میں شمار ہوتی رہی ہے۔
ان دونوں ممالک کے درمیان محاذ آرائی صرف دو ریاستوں کا تنازع نہیں بلکہ اس کے اثرات توانائی کی عالمی منڈیوں، بین الاقوامی تجارت، علاقائی سلامتی اور عالمی اقتصادی استحکام تک پھیل جاتے ہیں۔ ایسی صورت میں اگر پاکستان نے متعدد مواقع پر دونوں فریقوں کو جنگ کے دہانے سے واپس لانے میں کردار ادا کیا ہے تو یہ ایک ایسی کامیابی ہے جسے محض رسمی تعریف کے پیمانے سے نہیں ناپا جا سکتا۔ یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ موجودہ عالمی نظام میں طاقت کی تعریف تبدیل ہو رہی ہے۔
ماضی میں عسکری قوت کو ریاستی برتری کی سب سے بڑی علامت سمجھا جاتا تھا، مگر آج دنیا بتدریج اس نتیجے پر پہنچ رہی ہے کہ مستقل اثر و رسوخ صرف وہی ریاست حاصل کر سکتی ہے جو تنازعات کے حل میں معاون ثابت ہو، جو پل تعمیر کرے، دیواریں نہیں؛ جو رابطے پیدا کرے، فاصلے نہیں۔ پاکستان کی حالیہ سفارتی سرگرمیاں اسی نئے تصور قوت کی عکاسی کرتی ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان براہِ راست یا بالواسطہ روابط کی راہیں ہموار کرنا، مختلف سطحوں پر اعتماد سازی کے عمل کو زندہ رکھنا اور کشیدگی کو جنگ میں تبدیل ہونے سے روکنے کی کوشش کرنا درحقیقت ایک ایسی ذمے داری ہے جس کے نتائج پوری دنیا پر مرتب ہوتے ہیں۔ دوسری طرف لبنان کی صورتحال عالمی ضمیر کے لیے ایک کڑا امتحان بن چکی ہے۔
اسرائیلی حملوں، حزب اللہ کے ساتھ جاری محاذ آرائی اور علاقائی طاقتوں کی مداخلت نے اس ملک کو ایک مرتبہ پھر عدم استحکام کے بھنور میں دھکیل دیا ہے۔ لبنان ایک ایسا معاشرہ ہے جو پہلے ہی معاشی بحران، سیاسی تقسیم اور سماجی مشکلات کا شکار ہے۔ ایسے میں مسلسل عسکری کارروائیاں نہ صرف اس کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا رہی ہیں بلکہ لاکھوں شہریوں کے مستقبل کو بھی تاریکی کی طرف دھکیل رہی ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو سے رابطہ اور بیروت میں ممکنہ کارروائی کو روکنے کی کوشش اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ واشنگٹن بھی اس بحران کے ممکنہ نتائج سے پوری طرح آگاہ ہے۔ تاہم مسئلہ یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں سفارتی بیانات اور زمینی حقائق کے درمیان ہمیشہ ایک وسیع فاصلہ موجود رہا ہے۔ ایک جانب جنگ بندی کے اعلانات ہوتے ہیں، دوسری جانب گولہ باری، فضائی حملے اور عسکری پیش قدمی جاری رہتی ہے۔ یہی تضاد عالمی سفارت کاری کی ساکھ کو مجروح کرتا ہے اور متحارب فریقوں کے درمیان عدم اعتماد کو مزید گہرا کر دیتا ہے۔
نیتن یاہو کی جانب سے جنوبی لبنان میں کارروائیاں جاری رکھنے کے اعلانات دراصل اسی پیچیدہ حقیقت کی ترجمانی کرتے ہیں۔ اسرائیل اپنی سلامتی کے نام پر عسکری اقدامات کو ناگزیر قرار دیتا ہے، جب کہ لبنان اور خطے کی دیگر قوتیں انھیں جارحیت اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتی ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ جب ہر فریق اپنی کارروائی کو دفاع اور دوسرے کے عمل کو جارحیت قرار دینے لگے تو پھر امن کا راستہ مزید دشوار ہو جاتا ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں بین الاقوامی اداروں اور ثالث ریاستوں کا کردار فیصلہ کن اہمیت اختیار کر لیتا ہے۔
لبنان میں ہونے والی ہلاکتوں اور زخمیوں کے اعداد و شمار محض شماریاتی معلومات نہیں بلکہ انسانی المیوں کی ایک طویل داستان ہیں۔ ہزاروں جانوں کا ضیاع اور لاکھوں انسانوں کی بے یقینی اس بات کا ثبوت ہے کہ جنگ کبھی بھی صرف فوجیوں کے درمیان نہیں ہوتی، اس کا سب سے بھاری بوجھ ہمیشہ عام شہریوں کے کندھوں پر آتا ہے۔ ایک ماں کی آغوش اجڑتی ہے، ایک بچے کا مستقبل تاریک ہوتا ہے، ایک خاندان اپنے سہارے سے محروم ہو جاتا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ عالمی سیاست میں اکثر انسانی دکھ کو جغرافیائی مفادات کے شور میں نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔
ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ جاری مذاکراتی عمل کو معطل کرنے کی اطلاعات اسی بگڑتی ہوئی صورتحال کا منطقی نتیجہ معلوم ہوتی ہیں، اگرچہ اس حوالے سے سرکاری سطح پر مکمل وضاحت سامنے نہیں آئی، تاہم ایرانی قیادت کے بیانات واضح کرتے ہیں کہ لبنان میں جاری کارروائیاں اعتماد کے ماحول کو شدید نقصان پہنچا رہی ہیں۔
سفارت کاری کا بنیادی اصول یہ ہے کہ مذاکرات طاقت کے استعمال کا متبادل ہوتے ہیں، لیکن جب میدانِ جنگ مسلسل گرم رہے تو مذاکراتی میز پر سنجیدہ پیش رفت تقریباً ناممکن ہو جاتی ہے۔ ایران کا یہ مؤقف کہ جنگ بندی کا اطلاق تمام محاذوں پر ہونا چاہیے، بین الاقوامی اصولوں کے تناظر میں خاصی اہمیت رکھتا ہے، اگر ایک معاہدہ صرف مخصوص علاقوں تک محدود رہے اور دوسرے مقامات پر عسکری کارروائیاں جاری رہیں تو اس کی حیثیت ایک عارضی سیاسی انتظام سے زیادہ نہیں رہتی۔ اس پورے بحران نے اقوام متحدہ کے کردار پر بھی کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس، تشویش کے بیانات اور قراردادوں کے مسودے اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن زمینی حقائق یہ ظاہر کرتے ہیں کہ عالمی ادارے اکثر طاقتور ریاستوں کے سیاسی مفادات کے سامنے بے بس دکھائی دیتے ہیں۔
بین الاقوامی قانون کی بالادستی کا تصور اسی وقت معتبر رہ سکتا ہے جب اس کا اطلاق سب پر یکساں ہو، اگر بعض ریاستوں کے لیے ایک معیار اور دوسروں کے لیے دوسرا معیار اختیار کیا جائے تو عالمی نظام کی اخلاقی بنیادیں کمزور پڑ جاتی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے سلامتی کونسل میں اختیار کیا گیا مؤقف خاص اہمیت رکھتا ہے۔ لبنان کی صورتحال کو ایک انسانی بحران قرار دینا دراصل اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ جنگوں کو محض عسکری زاویے سے نہیں دیکھا جا سکتا۔ انسانی جانوں کا تحفظ، بنیادی حقوق کی پاسداری اور شہری آبادی کا امن ہر قسم کی سیاسی مصلحت سے بالاتر ہونا چاہیے۔
پاکستان نے مسلسل یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ تنازعات کا حل طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات، سفارت کاری اور بین الاقوامی قانون کے دائرے میں تلاش کیا جانا چاہیے۔ یہی مؤقف آج خطے کی ضرورت بھی ہے اور عالمی امن کا تقاضا بھی۔ اس پوری صورتحال کو اگر وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک تاریخی دوراہے پر کھڑا ہے۔ ایک راستہ مسلسل عسکری تصادم، انتقامی کارروائیوں اور بڑھتی ہوئی نفرت کی طرف جاتا ہے۔ دوسرا راستہ مکالمے، مفاہمت اور سیاسی حل کی جانب لے جاتا ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ جنگ کا راستہ ہمیشہ زیادہ شور پیدا کرتا ہے جب کہ امن کی کوششیں خاموشی سے آگے بڑھتی ہیں۔ میڈیا کی شہ سرخیوں میں بمباری کی آواز زیادہ سنائی دیتی ہے، مگر سفارت کاری کی خاموش محنت اکثر نظروں سے اوجھل رہتی ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں بالآخر مذاکراتی میز پر ہی ختم ہوتی ہیں۔ کوئی بھی تنازع مستقل طور پر بارود کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکا۔ انسانی تہذیب کی بقا، اقتصادی ترقی اور عالمی استحکام کا انحصار بالآخر مکالمے پر ہی ہوتا ہے۔ آج لبنان، ایران، امریکا اور اسرائیل کے گرد گھومتا بحران اسی ابدی حقیقت کی ایک نئی یاد دہانی ہے، اگر عالمی قیادت نے دانش کا راستہ اختیار کیا تو یہ خطہ ایک اور بڑے سانحے سے بچ سکتا ہے، لیکن اگر طاقت کے استعمال کو ہی واحد حل سمجھا گیا تو اس کے نتائج صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا کو عدم استحکام کی نئی لہر کا سامنا کرنا پڑے گا۔ایسے میں پاکستان کی آواز، جو جنگ کے شور میں امن، مفاہمت اور مذاکرات کی بات کر رہی ہے، محض ایک سفارتی مؤقف نہیں بلکہ ایک اخلاقی ضرورت اور بین الاقوامی ذمے داری کی علامت بن چکی ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو تباہی کے اندھیروں سے نکل کر امن، استحکام اور مشترکہ انسانی مستقبل کی طرف لے جا سکتا ہے۔