امریکا نے وینزویلا کے صدر کے گروپ کو دہشت گرد قرار دے دیا
اشاعت کی تاریخ: 21st, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
واشنگٹن: امریکی حکومت نے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو سے منسلک گروپ کارٹیل ڈی لاس سولس کو غیر ملکی دہشت گرد تنظیم (FTO) قرار دے دیا ہے جس سے امریکا کے پاس اس گروپ کے خلاف وسیع قانونی اور عسکری اقدامات کرنے کے اختیارات حاصل ہو گئے ہیں۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی دفاعی سیکریٹری پیٹ ہیگسیٹھ نے کہا کہ اس اقدام سے امریکا کے پاس گروپ کے خلاف متعدد نئے اختیارات آئیں گے، مادورو کو امریکا ایک جائز رہنما کے طور پر تسلیم نہیں کرتا اور اسے منشیات کی اسمگلنگ میں ملوث قرار دیتا ہے حالانکہ مادورو نے ان الزامات کو بار بار مسترد کیا ہے۔
خیال رہےکہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ہفتے کے آغاز میں اس اقدام کا اعلان کیا تھا، اس اقدام کے تحت گروپ کو کسی بھی مادی تعاون کی فراہمی امریکی قانون کے مطابق جرم بن جائے گی ، کارٹیل ڈی لاس سولس وینزویلا کے دیگر کرمنل نیٹ ورکس جیسے Tren de Aragua کے ساتھ مل کر منشیات کی اسمگلنگ میں ملوث ہے، جس کی قیادت مادورو خود کر رہا ہے۔
واضح رہےکہ امریکی محکمہ خارجہ نے کہا تھا کہ کارٹیل ڈی لاس سولس وینزویلا میں مادورو کے غیر قانونی انتظامیہ کے اعلیٰ افسران کی قیادت میں کام کر رہا ہے، جنہوں نے فوج، انٹیلی جنس، قانون ساز اور عدلیہ کو کرپٹ کر دیا ہے۔
امریکا کی جانب سے یہ اقدام وینزویلا میں بڑھتے ہوئے سیاسی تناؤ اور ڈرگ ٹریفک کے خلاف سخت موقف کی نشاندہی کرتا ہے، امریکی فوج نے اب تک 21 حملے ایسے بحری جہازوں پر کیے ہیں جو مبینہ طور پر منشیات لے کر جا رہے تھے، جن میں 83 افراد ہلاک ہوئے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
نیوز بریفنگ کے دوران وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ توانائی اور سول جوہری تعاون کا معاہدہ سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت سے مشروط ہے۔ نیوز بریفنگ کے دوران کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ ماضی میں بھی سعودی عرب کے ساتھ مختلف معاہدوں کے حوالے سے بات چیت کر چکے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ سعودی عرب ابراہیم اکارڈز پر دستخط کرے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان متوقع ملاقات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کی مبینہ چوری کا معاملہ بھی زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔ کیرولین لیویٹ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکا سعودی عرب کے ساتھ توانائی اور سول جوہری تعاون سے متعلق مذاکرات جاری رکھے گا، تاہم کسی بھی حتمی معاہدے کے لیے متعلقہ شرائط پوری ہونا ضروری ہوں گی۔