چاہتا ہوں یوکرین جمعرات تک امریکی امن معاہدہ قبول کرلے، ڈونلڈ ٹرمپ
اشاعت کی تاریخ: 21st, November 2025 GMT
امریکا(ویب ڈیسک) ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ چاہتے ہیں یوکرین جمعرات تک امریکی امن معاہدہ قبول کرلے۔صدر ٹرمپ نے امریکی ریڈیو کو انٹرویو میں کہا کہ ان کے پاس بہت سی ڈیڈ لائنز تھیں لیکن اگر چیزیں ٹھیک چل رہی ہوں تو آپ ڈیڈ لائن میں توسیع کرتے ہیں۔
انھوں کہا کہ لیکن انکا خیال ہے امن معاہدہ قبول کرنے کیلئے جمعرات کا دن مناسب وقت ہے۔
دوسری جانب یوکرین کے صدر زیلنسکی نے فرانسیسی ہم منصب، برطانوی وزیراعظم اور جرمن چانسلر سے گفتگو کی ہے۔ یوکرینی صدر کا کہنا تھا کہ یوکرین اور اتحادی امریکی امن منصوبے میں یوکرین کے اصولی موقف کو یقینی بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ امریکا کے تیار کردہ دستاویز پر کام کر رہے ہیں، یہ ایک ایسا منصوبہ ہونا چاہیے جو حقیقی اور باوقار امن کو یقینی بنائے۔
فرانسیسی صدر نے اپنے یوکرینی ہم منصب سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ یوکرین کے مستقبل کے بارے میں کسی بھی بات چیت میں کیف کو مکمل طور پر شامل کرنا چاہیے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔