امریکی عدالت نے ٹرمپ کی فوج تعیناتی کا فیصلہ روک کر بڑا حکم جاری کردیا
اشاعت کی تاریخ: 21st, November 2025 GMT
واشنگٹن: امریکا میں فیڈرل جج نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں فوج تعینات کرنے سے عارضی طور پر روک دیا ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا ہے جب ٹرمپ انتظامیہ نے نیشنل گارڈ فورسز کو شہر میں ممکنہ بے امنی کے پیش نظر تعینات کرنے کا منصوبہ بنایا، تاہم مقامی حکام نے اس فیصلے کو قانونی اختیارات سے تجاوز قرار دیتے ہوئے عدالت سے رجوع کیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ڈسٹرکٹ جج جیا کوب نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ صدر ٹرمپ کا اقدام واشنگٹن ڈی سی کے میئر اور مقامی انتظامیہ کی قانونی اتھارٹی کو نظرانداز کرتا ہے۔ عدالت نے کہا کہ اگرچہ وفاقی حکومت کو مخصوص حالات میں ریاستی یا ضلعی معاملات میں مداخلت کا اختیار حاصل ہوتا ہے، لیکن مقامی معاملات میں فوج تعینات کرنا ایسا قدم ہے جس کے لیے غیر معمولی جواز درکار ہوتا ہے، جو اس کیس میں پیش نہیں کیا گیا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ جج نے یہ حکم فوری طور پر نافذ نہیں کیا بلکہ اس پر 21 دن کی تاخیر لگا دی ہے۔ اس تاخیر کا مقصد یہ ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کو اپیل کا حق استعمال کرنے کی مہلت مل سکے، جس کے بعد حتمی فیصلہ اعلیٰ عدالت میں بھی زیرِ غور آسکتا ہے۔
یہ مقدمہ واشنگٹن ڈی سی کے اٹارنی جنرل برایان شوالب کی جانب سے دائر کیا گیا تھا، جنہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ نیشنل گارڈ یا فوجی اہلکاروں کی تعیناتی شہر کی خودمختاری پر براہ راست اثر انداز ہو سکتی ہے۔
شوالب نے عدالت میں مؤقف پیش کیا کہ مقامی معاملات، خصوصاً سیکورٹی اور پولیسنگ سے متعلق فیصلے، مقامی اداروں کی ذمہ داری ہیں اور ان میں وفاقی حکومت کی یکطرفہ مداخلت آئینی توازن کو متاثر کر سکتی ہے۔
جج نے اپنے فیصلے میں کہا کہ اگرچہ صدر کو وفاقی املاک یا سرکاری عمارتوں کی حفاظت کے لیے فورس تعینات کرنے کا حق حاصل ہے، مگر اس اختیار کا مطلب یہ نہیں کہ وہ شہر کے اندرونی جرائم، احتجاج یا مقامی حکمرانی کے معاملات میں براہ راست فوج داخل کر سکتے ہیں۔ مقامی اور وفاقی حکومت کے درمیان اختیارات کی تقسیم ایک حساس آئینی معاملہ ہے جسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔