کراچی: ہوٹلز مالکان نے قانون کی خلاف ورزی نہ کرنے کے حلف نامےجمع کروا دیے
اشاعت کی تاریخ: 14th, November 2025 GMT
کمشنر کراچی اور ہوٹلز ایسوسی ایشن کے درمیان معاملات طے پاگئے۔ کمشنر کراچی کی ہدایت پر سیل کیے گئے روڈ سائیڈ چائے خانے، ہوٹلز ڈی سیل کر دیے گئے ہیں۔
کمشنر کراچی کا کہنا ہے کہ ایس او پی بنا لی گئی ہے۔ ہوٹل مالکان نے عملدر آمد کیلئے تحریری یقین دہائی کروا دی۔ ایس او پی کا مقصد راہگیروں اور ٹریفک کیلئے فٹ پاتھ اور سڑک پر رکاوٹ کی روک تھام کرنا ہے۔
ڈپٹی کمشنرز کراچی نے شہر میں سیل کیے گئے روڈ سائڈ چائے خانوں اور ہوٹلوں کو قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد ڈی سیل کردیا ہے۔
کراچی انتظامیہ نے 27 اکتوبر کو فٹ پاتھوں اور سڑکوں پر قائم چائے خانوں اور ہوٹلوں کے خلاف کارروائی کر کے سیل کرنے کا سلسلہ شروع کیا تھا۔ اس دوران مجموعی طور پر 255 روڈ سائیڈ ہوٹلز اور چائے خانے سیل کیے گئے تھے۔
کمشنر کراچی نے سیل کئے گئے ہوٹلز اور چائے خانوں کو روکنے اور ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کیلئے ایس او پی بنائی تھی جس کے تحت ہوٹل یا چائے خانے کیلئے مطلوب جگہ کے تعین کا فیصلہ مختار کار اور ٹریفک پولیس کی تصدیق اور ٹاؤن افسر کی سفارش سے ہوگا۔ متعلقہ ڈی سی این او سی جاری کرے گا۔
روڈ سائیڈ ہوٹلز اور چائے خانوں کو ڈی سیل کرنے کا فیصلہ ایس او پی پر ہوٹلز ایسوسی ایشن کی جانب سے عملدرآمد کی تحریری یقین دہانی اور تحریری حلف نامہ جمع کرانے کے بعد کیا گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: کمشنر کراچی چائے خانوں ایس او پی
پڑھیں:
کراچی، رینجرز اور ایس آئی یولیس کے ساتھ مقابلے میں 3 بھتہ خور ہلاک، ایک زخمی گرفتار
کراچی:ملیر 15 کے علاقے میں سندھ رینجرز اور اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ (ایس آئی یو) پولیس کے مشترکہ آپریشن کے دوران مبینہ مقابلے میں تین ملزمان ہلاک جبکہ ایک زخمی حالت میں گرفتار کر لیا گیا۔
چھیپا حکام کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں اور مبینہ بھتہ خوروں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ تقریباً آدھے گھنٹے تک جاری رہا جس کے بعد تین ملزمان مارے گئے جبکہ ایک زخمی حالت میں گرفتار ہوا۔
فائرنگ ختم ہونے کے بعد ہلاک اور زخمی ملزمان کو ریسکیو کی ایمبولینسوں کے ذریعے جناح اسپتال منتقل کیا گیا۔
حکام کے مطابق ہلاک ہونے والے ملزمان کی شناخت شاہ رخ، راحب اور علی حمزہ کے ناموں سے ہوئی ہے جبکہ زخمی حالت میں گرفتار ملزم کی شناخت محمد وسیم کے نام سے کی گئی ہے۔
ابتدائی معلومات کے مطابق ہلاک اور گرفتار ملزمان بھتہ خوری سمیت دیگر سنگین جرائم میں ملوث تھے۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے واقعے کی مزید تفتیش کر رہے ہیں اور ملزمان کے ممکنہ ساتھیوں کی تلاش بھی جاری ہے۔