اسلام آباد ہائیکورٹ نے انجینئر محمد علی مرزا سے متعلق اسلامی نظریاتی کونسل کی رائے 4 دسمبر تک معطل کردی
اشاعت کی تاریخ: 20th, November 2025 GMT
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) اسلام آباد ہائیکورٹ نے انجینئر محمد علی مرزا کے بیان سے متعلق اسلامی نظریاتی کونسل کی جاری کردہ رائے پر اہم حکم جاری کرتے ہوئے اسے 4 دسمبر تک معطل کر دیا ہے۔
تحریری فیصلے کے مطابق عدالت نے واضح کیا ہے کہ اسلامی نظریاتی کونسل کی یہ رائے کسی بھی عدالتی فورم پر بطور حوالہ پیش نہیں کی جا سکتی۔جسٹس محسن اختر کیانی نے اس حوالے سے دو صفحات پر مشتمل تحریری حکم نامہ جاری کیا۔
روزنامہ جنگ کے مطابق عدالت نے مزید کہا ہے کہ متعلقہ حکام یہ وضاحت پیش کریں کہ کون سی قانونی یا انتظامی اتھارٹی اسلامی نظریاتی کونسل کو ایف آئی اے، پولیس یا دیگر اداروں کو اس قسم کی آراء فراہم کرنے کا اختیار دیتی ہے۔ یہ حکم نامہ 12 نومبر کی سماعت کے حوالے سے تحریری صورت میں جاری کیا گیا ہے۔
بے وفائی بہت تکلیف دہ ہے، میں گووندا سے آخری سانس تک محبت کرتی رہوں گی، اہلیہ سنیتاآہوجا
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: اسلامی نظریاتی کونسل
پڑھیں:
کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات پر اہم اجلاس ہوا جس میں مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی زیر صدارت وزارتِ خارجہ میں کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی اور عملدرآمد سے متعلق کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔
اجلاس میں ملک بھر میں توانائی کے مؤثر استعمال اور کاروباری سرگرمیوں کے اوقات کارجبکہ جاری کفایت شعاری اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
موسمِ گرما میں دن کے دورانیے میں اضافے اور بلند درجہ حرارت کے پیش نظر کمیٹی نے دکانوں، بازاروں، شاپنگ مالز اور جنرل ریٹیل کاروبار کے اوقات کار رات 9 بجے تک بڑھانے کی منظوری دے دی۔
مزید پڑھیںلاہور میں بھی اسمارٹ لاک ڈاؤن پھر سے نافذ، پرانے اوقات کار بحال
اجلاس کے فیصلوں کے مطابق ریسٹورنٹس، کیفے اور دیگر کھانے پینے کے مراکز رات 11 بجے تک کھلے رہ سکیں گے، تاہم ٹیک اوے اور ہوم ڈلیوری سروسز ان اوقات کی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔
شادی ہالز اور تقریبات کے مقامات کے اوقات کار رات 10 بجے تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ فارمیسیز، ہسپتال، پٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق خدمات سمیت ضروری سروسز کو ان پابندیوں سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔
کمیٹی نے صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی کہ وہ وفاقی حکام کے ساتھ مکمل تعاون کرتے ہوئے ان فیصلوں پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنائیں۔
اجلاس میں وفاقی وزراء برائے پیٹرولیم، موسمیاتی تبدیلی، اطلاعات اور آئی ٹی و ٹیلی کام، وزیر اعظم کے معاونینِ خصوصی برائے خزانہ اور نائب وزیراعظم، وفاقی سیکریٹریز تجارت، کابینہ، پیٹرولیم اور آئی ٹی و ٹیلی کمیونی کیشنز کے علاوہ صوبائی حکومتوں کے سینئر حکام نے بھی شرکت کی۔کمیٹی نے ایجنڈے میں شامل دیگر امور اور کیسز کی بھی منظوری دی۔