عدالتی احکامات تک شہر کے پارکوں میں کوئی تعمیراتی کام نہیں ہوگا: لاہور ہائیکورٹ
اشاعت کی تاریخ: 19th, November 2025 GMT
لاہور ہائیکورٹ نے عدالتی احکامات تک لاہور کے پارکوں میں تعمیراتی کام سے روک دیا۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد کریم نے سموگ تدارک سے متعلق کیس کی گزشتہ سماعت کا 2 صفحات پر مشتمل تحریری حکم جاری کر دیا۔تحریری حکمنامے میں کہا گیا کہ عدالتی احکامات تک لاہور کے پارکوں میں کوئی تعمیراتی کام نہیں ہوگا، پی ایچ اے کے وکیل پارک کا کچھ حصہ کنٹریکٹ پر دینے بارے دو ہفتوں میں رپورٹ جمع کرائیں گے، پی ایچ اے وکیل بتائیں گے کہ کیا پارک کا کچھ حصہ کرائے پر دینا موزوں ہے یا نہیں۔حکم میں کہا گیا کہ ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کنٹونمنٹ بورڈ کی حدود میں برگد کا درخت کاٹے جانے بارے رپورٹ جمع کرائی، ممبر جوڈیشل کمیشن رپورٹ کا جائزہ لے کر عدالت کو آگاہ کریں۔تحریری حکم نامے میں کہا گیا کہ کیس کی سماعت 21 نومبر تک ملتوی کی جاتی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
پشاور: سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ کے حوالے سے خیبرپختونخوا حکومت نے اہم فیصلہ کرتے ہوئے صوبے کے پنشنرز کی نیٹ پنشن میں 7 فیصد اضافے کی منظوری دے دی ہے۔ اس فیصلے کا اطلاق یکم جولائی 2026 سے ہوگا، جبکہ اس حوالے سے محکمہ خزانہ نے باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا ہے۔
جاری کردہ اعلامیے کے مطابق یہ اضافہ 30 جون 2026 تک وصول کی جانے والی نیٹ پنشن کی بنیاد پر دیا جائے گا۔ حکومت کے اس اقدام سے لاکھوں ریٹائرڈ سرکاری ملازمین اور ان کے اہل خانہ کو مہنگائی کے موجودہ دور میں مالی سہارا ملنے کی امید ہے۔
نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ یکم جولائی 2026 یا اس کے بعد ریٹائر ہونے والے سرکاری ملازمین بھی اس 7 فیصد اضافے سے مستفید ہوں گے۔ اسی طرح فیملی پنشن حاصل کرنے والے افراد اور کمپیشنٹ الاؤنس لینے والے مستحقین پر بھی یہ اضافہ یکساں طور پر لاگو ہوگا۔
محکمہ خزانہ کے مطابق بیرون ملک مقیم وہ پنشنرز بھی، جو خیبرپختونخوا حکومت کی پنشن کے اہل ہیں، مقررہ قواعد و ضوابط کے تحت اس اضافے سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔
حکومت نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ یہ اضافہ پہلے سے دی جانے والی کسی بھی خصوصی اضافی پنشن پر لاگو نہیں ہوگا، بلکہ صرف بنیادی نیٹ پنشن کی بنیاد پر ادا کیا جائے گا۔
ماہرین کے مطابق سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ کا یہ فیصلہ بڑھتی مہنگائی کے پیش نظر ریٹائرڈ ملازمین کے لیے اہم ریلیف ثابت ہوگا اور ان کے ماہانہ اخراجات پورے کرنے میں مدد فراہم کرے گا۔