آئی فونز اور دیگر اسمارٹ فونز پر بھاری ٹیکسوں کا معاملہ پارلیمانی کمیٹی میں اٹھایا جائے گا
اشاعت کی تاریخ: 19th, November 2025 GMT
رکن قومی اسمبلی قاسم گیلانی نے کہا ہے کہ حکومت نے یقین دلایا ہے کہ اسمارٹ فونز، خصوصاً آئی فونز پر بھاری ٹیکس کے معاملے کو اگلے ماہ پارلیمانی کمیٹی میں اٹھایا جائے گا، جس کا مقصد عوام پر پڑنے والے مالی بوجھ کو کم کرنا ہے۔
گیلانی، جو سابق وزیراعظم اور موجودہ سینیٹ چیئرمین سید یوسف رضا گیلانی کے صاحبزادے ہیں، نے کہا کہ حکومت کی ہدایت پر انہوں نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA) کے موبائل رجسٹریشن ٹیکس کے خلاف قرارداد پیش کرنے سے پہلے کمیٹی کے اجلاس کا انتظار کیا۔
مزید پڑھیں: ٹرمپ کی آئی فون کے بعد اسمارٹ فونز اور یورپی یونین پر بھی اضافی ٹیکس کی دھمکی
انہوں نے مزید بتایا کہ قومی اسمبلی کی مالیاتی کمیٹی 3 دسمبر کو اجلاس کرے گی، جس میں FBR کے سربراہ بھی موجود ہوں گے۔
گیلانی نے کہا کہ انہیں سیاسی جماعتوں کی حمایت حاصل ہے اور وہ وزیراعظم شہباز شریف سے بھی ملاقات کرکے ٹیکس میں کمی کے لیے اتفاق رائے پیدا کرنا چاہتے ہیں۔
ایک سینئر ایف بی آر (FBR) اہلکار نے عرب نیوز کو بتایا کہ بھاری ٹیکس کے باعث اب پاکستان میں 95 فیصد ہینڈ سیٹس مقامی طور پر تیار کیے جا رہے ہیں، جبکہ درآمد شدہ ہینڈ سیٹس کی تعداد کم ہے۔
مزید پڑھیں: سام سنگ کا مصنوعی ذہانت والا اسمارٹ فون لانچ کرنے کا اعلان
عرب نیوز کے مطابق عوامی تشویش زیادہ تر اعلیٰ معیار کے فونز پر ٹیکس کے بوجھ کے بارے میں ہے، اور حکومت اصلاحات پر کام کر رہی ہے تاکہ اسمارٹ فونز کی قیمتیں صارفین کے لیے قابل برداشت ہوں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آئی فونز اور دیگر اسمارٹ فونز بھاری ٹیکسوں کا معاملہ پارلیمانی کمیٹی رکن قومی اسمبلی قاسم گیلانی سینیٹ چیئرمین سید یوسف رضا گیلانی عرب نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: آئی فونز اور دیگر اسمارٹ فونز بھاری ٹیکسوں کا معاملہ پارلیمانی کمیٹی رکن قومی اسمبلی قاسم گیلانی سینیٹ چیئرمین سید یوسف رضا گیلانی عرب نیوز اسمارٹ فونز بھاری ٹیکس ٹیکس کے
پڑھیں:
ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
اسلام آباد:قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے چیئرمین جاوید حنیف خان کا کہنا ہے کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں اور سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔
ایکسپریس کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس چیئرمین جاوید حنیف خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں گزشتہ بیس برس کے دوران ملکی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے کی وجوہات پر تفصیلی غور کیا گیا۔
جاوید حنیف خان نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں۔
اجلاس میں رکن کمیٹی عالیہ کامران نے کہا کہ پاکستان کی صرف ایک فارماسیوٹیکل کمپنی کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آلو جلد خراب ہو جاتے ہیں انہیں برآمد کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ عالیہ کامران نے مزید کہا کہ ملک میں حلال فوڈ اتھارٹی تو موجود ہے لیکن تاحال اس کے قواعد و ضوابط مرتب نہیں کیے گئے جبکہ ایسا سازگار ماحول بھی پیدا نہیں ہو رہا کہ بیرونی سرمایہ کار پاکستان آ کر سرمایہ کاری کریں۔
قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں لائف انشورنس نیشنلائزیشن ترمیمی بل 2026ء بھی زیر بحث آیا۔ اس موقع پر سیکریٹری تجارت جواد پال نے بتایا کہ کمپنی کا نام اسٹیٹ لائف انشورنس لمیٹڈ رکھا جائے گا۔ کمیٹی کے رکن مرزا اختیار بیگ نے استفسار کیا کہ آیا یہ کمپنی پبلک پرائیویٹ لمیٹڈ ہوگی یا سرکاری ادارہ ہوگا اس پر حکام نے وضاحت کی کہ اگر حکومت کے پاس 51 فیصد شیئرز ہوں گے تو کمپنی پبلک شمار ہوگی، بصورت دیگر اسے پرائیویٹ تصور کیا جائے گا۔
سیکریٹری تجارت جواد پال نے مزید بتایا کہ کمپنی وزارت کے ماتحت ہی رہے گی تاہم اس کا بورڈ آزاد ہوگا اس پر کمیٹی کے ایک رکن نے رائے دی کہ اگر بورڈ کو آزاد بنانا مقصود ہے تو اسے آزادانہ طور پر کام کرنے کی بھی اجازت ہونی چاہیے۔
چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ یہ کمپنی بہرحال ایس او ایز ایکٹ کے تحت قائم کی جائے گی۔
سیکریٹری تجارت نے واضح کیا کہ کسی پبلک لمیٹڈ کمپنی کے غیر محدود شیئرز نہیں ہو سکتے۔
اجلاس کے دوران صوبائی قوانین اور اثاثوں کی منتقلی کے معاملات پر بھی گفتگو ہوئی چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ پراپرٹی یا اثاثوں کی منتقلی پر صوبائی قوانین نافذ ہوتے ہیں لہٰذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس بل کے ذریعے صوبائی قانون کو کیسے بائی پاس کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے خبردار کیا کہ اسٹیمپ ڈیوٹی یا متعلقہ فیسوں کے حوالے سے صوبے کسی بھی وقت سوال اٹھا سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ صوبوں میں انشورنس کے تقریباً دو ٹریلین روپے کے اثاثے موجود ہیں اس لیے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اتنے بڑے اثاثوں پر اسٹیمپ ڈیوٹی کی مالیت کتنی ہوگی؟چیئرمین کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی ایسا قانون نہیں بنایا جا سکتا جو صوبوں کے مفادات کو متاثر کرتا ہو۔