دوسرے صوبوں کی گاڑیوں کے ای چالان کراچی والوں کو ملنے لگے
اشاعت کی تاریخ: 19th, November 2025 GMT
—فائل فوٹو
دوسرے صوبوں کی گاڑیوں کے ای چالان کراچی والوں کو ملنے لگے۔ کراچی میں چوری شدہ کارکے مالک کو 10 ہزار روپے کا ای چالان بھیج دیا گیا۔
چوری ہوئی گاڑی کو جرمانے کی تحقیقات کے دوران ایک اہم انکشاف سامنے آیا۔ خلاف ورزی کراچی رجسٹریشن کی کار نے نہیں بلکہ کوئٹہ سے رجسٹرڈ گاڑی نے کی۔
کراچی کی کار نمبر اے اے آر 540 چوری شدہ جبکہ اسی رجسٹریشن نمبر کی گاڑی کوئٹہ کی ہے۔ کوئٹہ میں رجسٹرڈ کار اے اے آر 540 کے ڈرائیور نے حب روڈ پر خلاف ورزی کی۔
کراچی کراچی کے فائیو اسٹار ہوٹل کو 28سال قبل چوری.
سیٹ بیلٹ نہ پہننے پر کوئٹہ کی گاڑی کا 10 ہزار کا ای چالان کراچی کے کار مالک کو بھیج دیا گیا۔ ایک ہی نمبر پلیٹ ہونے کی وجہ سے اس کا ای چالان کراچی کے مالک کو آیا۔
پولیس کے مطابق چوری شدہ گاڑی اور ای چالان شدہ گاڑی کا میک اور ماڈل بھی الگ الگ ہیں۔ گاڑی اے اے آر 540 صوبہ بلوچستان کے شہر کوئٹہ میں رجسٹرڈ ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں رجسٹریشن آن لائن نہیں، ایسی گاڑیاں کراچی پولیس کے لیے درد سر بن رہی ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: کا ای چالان کی گاڑی
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔