بھاری بھرکم ای چالان سے پریشان عوام کو کچھ ریلیف ملنے کا امکان
اشاعت کی تاریخ: 19th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک)کراچی میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر ہونے والے ای چالان کے جرمانے پر ملک کے دیگر علاقوں کی نسبت کراچی میں غیرمعمولی طور پر گفتگو ہو رہی ہے۔ عوامی مطالبے کے پیش نظر پولیس حکام کی جانب سے اس سلسلے میں سوچ بچار کیا جا رہا ہے اور جلد فیصلہ متوقع ہے۔ ایک اعلی پولیس افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر جیو نیوز کو بتایا کہ عوامی مطالبے کے پیش نظر سندھ میں ای چالان کے مختلف جرمانوں کی رقم میں کمی کرنے یا نہ کرنے کیلئے بات چیت جاری ہے۔ اعلی پولیس افسر کے مطابق سندھ حکومت کی مشاورت سے کچھ جرمانوں کی رقم میں کمی آئندہ ہفتے متوقع ہے، ای چالان کیٹیگریز کے سلسلے میں قطعی طور پر کوئی اعلانیہ رعایت نہیں دی جا رہی بلکہ مخصوص مدت کیلئے کچھ خلاف ورزیوں پر ای چالان کم اور انتہائی خطرناک خلاف ورزیوں پر چالاننگ میں اضافہ یا تیزی کی جا سکتی ہے۔ پولیس افسر کے مطابق آئندہ ہفتے اس سلسلے میں پولیس حکام کی جانب سے ایک بھر پور آگاہی مہم بھی شروع کی جا رہی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
کراچی، ہل پارک کے اطراف میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف آپریشن، پلاٹس مسمار
کراچی:شہر قائد میں ہل پارک کے اطراف پہاڑی علاقے کو کاٹ کر کی جانے والی غیرقانونی تعمیرات کے خلاف رات گئے بڑا آپریشن کیا گیا جس میں ہیوی مشینری کی مدد سے متعدد تعمیرات کو مسمار کر دیا گیا۔
میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب کی ہدایت پر شروع ہونے والی اس کارروائی کے دوران متنازعہ پلاٹ پر بنی باؤنڈری وال سمیت کئی غیرقانونی ڈھانچے گرا دیے گئے۔ کارروائی ڈائریکٹر انکروچمنٹ شیر علی کی نگرانی میں محکمہ لینڈ کے عملے نے انجام دی۔
ترجمان کے ایم سی کے مطابق ہل پارک کے اطراف سے تمام غیرقانونی تعمیرات کا خاتمہ کر دیا گیا ہے اور علاقے کو تجاوزات سے مکمل طور پر صاف کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب میئر کراچی نے سیکریٹری وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس کو خط لکھ کر پلاٹ نمبر 39 جی فور بلاک 6 کا مکمل ریکارڈ طلب کر لیا ہے۔
ذرائع کے مطابق مذکورہ پلاٹ کے حوالے سے پی ای سی ایچ ایس کی جانب سے لیز دینے کے دعوے سامنے آ رہے ہیں جس پر مزید جانچ پڑتال جاری ہے۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ شہر میں غیرقانونی تعمیرات کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رہے گی تاکہ سرکاری و محفوظ علاقوں پر قبضے کی کسی بھی کوشش کو روکا جا سکے۔