data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

نواب شاہ( نمائندہ جسارت) شہر بھر کے والدین طلبہ نے نجی تعلیمی اداروں میں بڑھتی ہوئی بے ضابطگیوں، غیر واضح فیسوں اور شفافیت سے محروم مالی نظام کے باعث گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر ایک ایسا ڈیجیٹل فیس مانیٹرنگ سسٹم متعارف کروایا جائے جو تمام نجی اسکولوں کو ایک ہی مرکزی نظام سے منسلک کرے اور فیسوں کے نظم و ضبط کو مکمل طور پر قابلِ نگرانی بنا دے۔ والدین کے مطابق اس قسم کا نظام نہ صرف اسکولوں کے مالی امور میں شفافیت لائے گا بلکہ من مانی وصولیوں اور قانون شکنی کے دروازے بھی بند کرے گا۔والدین نے کہا کہ کئی نجی اسکول فیسوں میں اپنے طور پر اضافہ کر دیتے ہیں، جب کہ 2001ء کے قوانین اور 2005ء کے رولز واضح طور پر پابند کرتے ہیں کہ کوئی بھی ادارہ ڈائریکٹر ایجوکیشن پرائیوٹ کی منظوری کے بغیر فیس میں اضافہ نہیں کر سکتا۔ اس کے باوجود متعدد اسکول نہ تو منظوری لیتے ہیں اور نہ ہی اس تبدیلی کو نوٹس بورڈ پر آویزاں کرتے ہیں، جس سے والدین کو بروقت آگاہی نہیں ملتی اور انہیں غیر ضروری مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ والدین نے اسکولوں کے فیس اسٹرکچر کی وہ تفصیلات بھی سامنے رکھیں جو ان کے مطابق ہر ادارے کو شفاف انداز میں والدین کے سامنے رکھنی لازمی ہیں۔ ان میں داخلہ فیس شامل ہے جو صرف ایک مرتبہ لی جاتی ہے اور اس میں اضافہ جائز نہیں۔ رجسٹریشن فیس نئے داخلے کے وقت لی جاتی ہے لیکن والدین کے مطابق کئی اسکول اسی عنوان کے تحت اضافی رقوم بھی وصول کرتے ہیں۔ ماہانہ ٹیوشن فیس میں اضافہ صرف ڈائریکٹر ایجوکیشن کی تحریری اجازت کے بعد سالانہ 10 سے 15 فیصد تک کیا جا سکتا ہے، مگر اکثر اسکول اس بنیادی قانون کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔سالانہ فنڈ ایک سال میں صرف ایک بار لیا جا سکتا ہے، لیکن متعدد اسکول اسے مختلف عنوانات میں تقسیم کرکے والدین پر اضافی بوجھ ڈالتے ہیں۔ لیبارٹری یا کمپیوٹر فیس صرف اْن کلاسوں سے لی جا سکتی ہے جہاں یہ سہولت موجود ہو، مگر والدین نے شکایت کی کہ بعض اسکول پرائمری طلبہ سے بھی یہ فیس وصول کرتے ہیں۔ لائبریری فیس صرف اس وقت جائز ہے جب اسکول کے پاس مکمل طور پر فعال لائبریری موجود ہو۔ امتحانی فیس کے حوالے سے والدین نے افسوس کا اظہار کیا کہ سرکاری قوانین میں اس کی واضح ممانعت کے باوجود کئی ادارے اسے معمول کی طرح وصول کرتے ہیں۔ اسی طرح ایکٹیویٹی فیس صرف انہی سرگرمیوں کے لیے لی جا سکتی ہے جو حقیقت میں منعقد کی جا رہی ہوں۔ ٹرانسپورٹ فیس میں بھی مقررہ حد سے زیادہ اضافہ قانون کے خلاف ہے۔ والدین نے شکایت کی کہ اسکول والدین کو کتابیں اور یونیفارم مخصوص دکانوں سے خریدنے پر مجبور کرتے ہیں جو قانون کے صریح خلاف ہے۔

نمائندہ جسارت گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: والدین نے کرتے ہیں

پڑھیں:

کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار

فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) بلوچستان نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا۔

 ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔

انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لیے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔

ڈائریکٹر ایف آئی اے کا کہنا تھا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔

بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔

متعلقہ مضامین

  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن