بھارت کی فوج میں بڑھتی بےچینی، بھارتی آرمی چیف کا ملکی دفاعی صنعت پر عدم اعتماد کا اظہار
اشاعت کی تاریخ: 16th, November 2025 GMT
بھارتی فوج کے اندر بڑھتی ہوئی مایوسی نے بھارت کی شور و شغب سے بھرپور فوجی جدید کاری کے منصوبوں کی ناکامی کو بے نقاب کر دیا ہے اور ملک کے دفاعی ڈھانچے کی کمزوریاں سامنے آ گئی ہیں۔
نریندر مودی کے ’میک ان انڈیا‘ دفاعی عزائم ڈگمگاتے دکھائی دیتے ہیں، کیونکہ بھارتی فوج نے اب کھل کر شکوہ کرنا شروع کر دیا ہے کہ انہیں ہتھیار اور سازوسامان وقت پر فراہم نہیں کیا جا رہا۔
یہ بھی پڑھیے: ’جنگ نہیں چاہتے‘، انڈیا نے گھٹنے ٹیک دیے،بھارتی فوج کی ترجمان کی پریس کانفرنس
بھارت کے چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل انیل چوہان نے بھی ملکی دفاعی صنعت پر شدید عدم اعتماد کا اظہار کیا ہے۔
بھارتی جریدے دی پرنٹ کے مطابق جنرل انیل چوہان نے کہا کہ نریندر مودی کی بدعنوان قیادت میں دفاعی کمپنیوں نے اربوں روپے کی سرکاری فنڈنگ لینے کے باوجود جدید ہتھیار فراہم کرنے میں ناکامی کا مظاہرہ کیا۔
انہوں نے خبردار کیا کہ سامان کی وقت پر فراہمی نہ ہونا بھارت کی صنعتی صلاحیت کو کمزور کر رہا ہے۔
جنرل چوہان کا کہنا تھا کہ بھارتی فوج مودی کے منافع پر مبنی دفاعی منصوبوں سے قومی جذبے اور حب الوطنی کی توقع رکھتی ہے، لیکن زمینی صورتحال اس کے برعکس ہے۔
یہ بھی پڑھیے: بھارتی فوج کی تازہ ریاستی دہشتگردی، ضلع کپواڑہ میں 2کشمیری نوجوان شہید
انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ مقامی کمپنیوں کی اصل پیداوار صلاحیت کے بارے میں ایمانداری سے بات کی جائے، کیونکہ یہ معاملہ براہِ راست قومی سلامتی سے جڑا ہے۔
بھارت کی اعلیٰ فوجی قیادت کی جانب سے سامنے آنے والی یہ کھلی تنقید اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ بھارتی فوج کی جدید کاری کے پروگرام میں بدانتظامی، ناقص منصوبہ بندی اور گہرے اندرونی مسائل بڑھتے جا رہے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آرمی بھارتی فوج دفاعی صنعت.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بھارتی فوج دفاعی صنعت بھارتی فوج بھارت کی
پڑھیں:
چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
چیف جسٹس آف پاکستان نے ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے سیکیورٹی اہلکار کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔
چیف جسٹس آف پاکستان نے پاکستان کی عدلیہ کی جانب سے شہدا کے اہلِ خانہ سے دلی تعزیت کا اظہار کیا۔
ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے سیکیورٹی اہلکار مستونگ میں دورانِ ڈیوٹی دہشت گرد حملے میں شہید ہوئے تھے۔
چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی نے کہا کہ پاکستان کی عدلیہ اس ناقابلِ تلافی سانحے پر سوگوار خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان نے شہداء کے درجات کی بلندی اور اہلِ خانہ کے لیے صبر جمیل کی دعا کی۔
مزید پڑھیںمستونگ: قومی شاہراہ پر فائرنگ، سیشن جج گن مین سمیت شہید، ایڈیشنل سیشن جج سمیت 2 افراد شدید زخمی
چیف جسٹس آف پاکستان نے زخمی ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری اور جوڈیشل مجسٹریٹ کی جلد صحت یابی کی دعا کی جبکہ شہداء سے اظہارِ عقیدت اور بلوچستان کی ضلعی عدلیہ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے 25 جولائی کو شیڈول جوڈیشل ویلبیئنگ کانفرنس مؤخر کر دی گئی۔
چیف جسٹس نے کہا پاکستان کی عدلیہ بلاخوف و خطر انصاف کی فراہمی کے عزم پر قائم ہے، تشدد اور دہشت گردی کے واقعات قانون کی حکمرانی کے لیے ہمارے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی عدلیہ ہر حال میں انصاف کی بالادستی اور عدلیہ کی آزادی کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔