بھارتی فوج کے اندر بڑھتی ہوئی مایوسی نے بھارت کی شور و شغب سے بھرپور فوجی جدید کاری کے منصوبوں کی ناکامی کو بے نقاب کر دیا ہے اور ملک کے دفاعی ڈھانچے کی کمزوریاں سامنے آ گئی ہیں۔

نریندر مودی کے ’میک ان انڈیا‘ دفاعی عزائم ڈگمگاتے دکھائی دیتے ہیں، کیونکہ بھارتی فوج نے اب کھل کر شکوہ کرنا شروع کر دیا ہے کہ انہیں ہتھیار اور سازوسامان وقت پر فراہم نہیں کیا جا رہا۔

یہ بھی پڑھیے: ’جنگ نہیں چاہتے‘، انڈیا نے گھٹنے ٹیک دیے،بھارتی فوج کی ترجمان کی پریس کانفرنس

بھارت کے چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل انیل چوہان نے بھی ملکی دفاعی صنعت پر شدید عدم اعتماد کا اظہار کیا ہے۔

بھارتی جریدے دی پرنٹ کے مطابق جنرل انیل چوہان نے کہا کہ نریندر مودی کی بدعنوان قیادت میں دفاعی کمپنیوں نے اربوں روپے کی سرکاری فنڈنگ لینے کے باوجود جدید ہتھیار فراہم کرنے میں ناکامی کا مظاہرہ کیا۔

انہوں نے خبردار کیا کہ سامان کی وقت پر فراہمی نہ ہونا بھارت کی صنعتی صلاحیت کو کمزور کر رہا ہے۔

جنرل چوہان کا کہنا تھا کہ بھارتی فوج مودی کے منافع پر مبنی دفاعی منصوبوں سے قومی جذبے اور حب الوطنی کی توقع رکھتی ہے، لیکن زمینی صورتحال اس کے برعکس ہے۔

یہ بھی پڑھیے: بھارتی فوج کی تازہ ریاستی دہشتگردی، ضلع کپواڑہ میں 2کشمیری نوجوان شہید

انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ مقامی کمپنیوں کی اصل پیداوار صلاحیت کے بارے میں ایمانداری سے بات کی جائے، کیونکہ یہ معاملہ براہِ راست قومی سلامتی سے جڑا ہے۔

بھارت کی اعلیٰ فوجی قیادت کی جانب سے سامنے آنے والی یہ کھلی تنقید اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ بھارتی فوج کی جدید کاری کے پروگرام میں بدانتظامی، ناقص منصوبہ بندی اور گہرے اندرونی مسائل بڑھتے جا رہے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آرمی بھارتی فوج دفاعی صنعت.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بھارتی فوج دفاعی صنعت بھارتی فوج بھارت کی

پڑھیں:

سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی

بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔

عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔

Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy

— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 2026

59 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔

اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔

سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • وزیراعظم کا  آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
  • محسن نقوی کی مستونگ کے قریب  سیشن جج اور جوڈیشل مجسٹریٹ پر فائرنگ کی پرزور مذمت
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار