پاکستان، اردن میں کئی سمجھوتے، دفاعی تعاون، سرمایہ کاری بڑھانے پر زور: وزیراعظم، شاہ عبداللہ دوم میں ملاقات، فیلڈ مارشل بھی موجود تھے
اشاعت کی تاریخ: 16th, November 2025 GMT
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی+ اپنے سٹاف رپورٹر سے) صدرِ مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم محمد شہباز شریف نے نور خان ایئر بیس پہنچنے پراردن کے فرمانروا شاہ عبداللہ دوم کا استقبال کیا، ایوان صدر کے بیان کے مطابق وفاقی وزرا، خاتون اوّل بی بی آصفہ بھٹو زرداری اور چیرمین پی پی پی بلاول بھٹو زرداری بھی استقبال کے موقع پر موجود تھے۔ صدر زرداری نے کہا کہ شاہ عبداللہ دوم کا دورہ دوطرفہ تعلقات کو نئی سٹریٹجک جہت دے گا، پاکستان اور اردن کے تعلقات تاریخی برادری، باہمی اعتماد اور مشترکہ اقدار کی بنیاد پر قائم ہیں۔ شاہ عبداللہ دوم کا دورہ پاکستان اردن اور پاکستان کے مابین دیرینہ برادرانہ تعلقات کی عکاسی کرتا ہے، یہ دورہ دونوں ممالک کے مابین سیاسی اقتصادی اور ثقافتی تعلقات کی مزید مضبوطی کا باعث ہوگا۔ شاہ عبداللہ دوم کے اعزاز میں وزیراعظم ہاؤس میں باضابطہ استقبالہ دیا گیا۔ وزیراعظم شہبازشریف اور شاہ عبداللہ دوم نے گرم جوشی سے مصافہ کیا۔ استقبالیہ تقریب کے آغاز پر دونوں ملکوں کے قومی ترانے بجائے گئے۔ شاہ عبداللہ دوم کو گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔ شاہ عبداللہ دوم وزیراعظم شہبازشریف کی دعوت پر دو روزہ سرکاری دورہ پاکستان پر آئے ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف اور اردن کے شاہ عبداللہ دوم کے درمیان خوشگوار جملوں کا تبادلہ ہوا۔ شاہ عبداللہ دوم نے وزیراعظم ہاؤس میں پودا بھی لگایا۔ دونوں رہنماؤں نے ملک وقوم کیلئے دعا مانگی۔ مسلح افواج کے چاق و چوبند دستے نے اردن کے شاہ عبداللہ دوم کو گارڈ آف آنر پیش کیا، شاہ عبداللہ دوم نے گارڈ آف آنر کا معائنہ کیا۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے وفاقی کابینہ کے ارکان کا اردن کے شاہ عبداللہ دوم سے تعارف کرایا۔ دریں اثناء وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرصدارت ملکی ٹیکس نظام میں اصلاحات پر ہفتہ وار جائزہ اجلاس ہوا، وزیر اعظم نے کہا کہ ٹیرف اصلاحات کی بدولت مثبت رجحانات اور ایف بی آر کو جدید، شفاف اور بہتر بنانے کے حکومتی اقدامات کے درست ہونے کا ٹھوس ثبوت ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ تازہ ترین معاشی اعداد و شمار، حکومتی معاشی اصلاحات کو درست ثابت کر رہے ہیں جن کے نتیجے میں معاشی ترقی کی رفتار ہر دِن بہتر ہو رہی ہے جس کے شواہد بھی کاروباری برادری اور قوم کے سامنے آ رہے ہیں۔ اجلاس میں دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ رواں سال ہونے والی ٹیرف اصلاحات کا کوئی منفی اثر ریونیو وصولی پر مرتب نہیں ہوا بلکہ درآمدی سطح پر ڈیوٹیوں اور ٹیکس کی وصولی میں 25 فی صد اضافہ ہوا ہے۔ بریفنگ میں کہا گیا کہ یہ اضافہ قابل ڈیوٹی مصنوعات کی مقدار میں صرف 3.
پاکستان ٹیلی ویژن کارپوریشن لمیٹیڈ اور جارڈن ریڈیو اینڈ ٹیلیویژن کے درمیان تعاون کا معاہدہ، پاکستان براڈکاسٹنگ کارپوریشن اور جارڈن ریڈیو اینڈ ٹیلیویژن کارپوریشن کے درمیان تعاون کا معاہدہ جس کے مطابق پاکستان اور اردن کے درمیان ثقافتی پروگرام ، یونیورسٹی آف جارڈن میں اردو اور مطالعہء پاکستان کی چیئرز کا قیام کے حوالے سے مفاہمتی یادداشت پر سائن ہوئے۔ادھر اے پی پی کے مطابق شہباز شریف نے قومی ٹیم کی سری لنکا کے خلاف ون ڈے سیریز میں کامیابی پر انہیں مبارکباد دی ہے۔ سماجی رابطہ کی ویب سائیٹ ’’ایکس‘‘ پر اپنے پیغام میں وزیر اعظم نے کہا پاکستان کی قومی کرکٹ ٹیم نے سری لنکا کے خلاف ون ڈے سیریز جیت کر ملک کا نام روشن کیا ہے۔ اس شاندار کامیابی پر قومی ٹیم کو دلی مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ محمد شہباز شریف نے چیئرمین پی سی بی محسن نقوی اور ان کی پوری ٹیم کی محنت اور بہترین کارکردگی کو بھی سراہتے ہوئے اپنے پیغام میں کہا کرکٹ نے ایک بار پھر اتحاد اور یکجہتی کی خوبصورت مثال پیش کی ہے۔ وزیر اعظم نے سری لنکن کھلاڑیوں اور انتظامیہ کا بھی خصوصی شکریہ ادا کیا جن کی شرکت دونوں ممالک کے دیرینہ، مضبوط اور دوستانہ تعلقات کی عکاس ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: اردن کے شاہ عبداللہ دوم پاکستان اور اردن کے شاہ عبداللہ دوم نے دونوں رہنماو ں نے محمد شہباز شریف شہباز شریف نے کے حوالے سے پاکستان کے کے درمیان کے مطابق نے والی کے ساتھ نے کہا دوم کا
پڑھیں:
سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
حکمران اکثر یہ بات کرتے رہتے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں سرمایہ کاری درکار ہے بلکہ ایسے بیانات مسلسل آتے رہے ہیں اور آئی ایم ایف کے مطالبات پر حکومت فوری رضامندی بھی ظاہر کر دیتی ہے تاکہ قرض کی منظوری میں تاخیر نہ ہو۔ قرض منظوری کے بعد ایسے بیانات جاری ہوتے ہیں جیسے بہت بڑا معرکہ سر کر لیا ہو۔ مطلب یہ ہے کہ ہمیں قرض کے حصول کے لیے آئی ایم ایف کی ہر شرط ماننا اور بے انتہا کوشش کے بعد قرض حاصل کرنے میں کامیابی حاصل ہوتی ہے۔
ملک کو اس حالت میں پہنچایا جا چکا ہے کہ خود انحصاری کی منزل بہت دور ہوگئی ہے ۔ پاکستان کی ہر حکومت نے آئی ایم ایف کی ہر بات مانی لیکن خود انحصاری کی منزل نہ مل سکی۔ غیر سیاسی وزیر خزانہ بھی اس امید پر لائے گئے کہ ان کی کوشش سے ملک خود انحصاری کی طرف بڑھے گا اور غیر ملکی قرضوں کے مزید حصول کی کوشش نہیں ہوگی لیکن سب نے اپنا اولین مقصد مزید قرضے حاصل کرنا بنا رکھا ہے اور آئی ایم ایف کو ہر ممکن طریقے سے مزید قرض دینے پر آمادہ کرنا رہ گیا ہے ۔
اب بھی پاکستان کے لیے آئی ایم ایف کا مزید قرضہ منظور کرا لیا گیا ہے جس کا حکومتی حلقے پرجوش خیر مقدم کررہے ہیں۔ ہر وزیر خزانہ کے بارے میں یہ دعویٰ سننے میں آتا رہاکہ وہ آئی ایم ایف سے معاملات طے کرنے کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں، لیکن معاملہ مرض بڑھتا ہی گیا جوں جوں دوا کی جیسا ہی رہا۔ آئی ایم ایف سے جان نہیں چھوٹ رہی بلکہ آئی ایم ایف مزید شرائط سخت کرتا جا رہا ہے اور حکومت کو پرانے قرضوں پر سود ادا کرنے کے لیے مزید قرضے لینا پڑ رہے ہیں۔
آئی ایم ایف اپنی ہر شرط منوا رہا ہے اور حال ہی میں آئی ایم ایف نے پٹرولیم لیوی ہدف میں 18 فی صد اضافے کا کہا ہے جب کہ حکومت نے یہ لیوی آئی ایم ایف کے مطالبے سے بھی بہت زیادہ بڑھا رہی ہے مگر آئی ایم ایف ہے کہ مطمئن ہی نہیں ہوتا۔ آئی ایم ایف نے قرض دینے کے لیے کبھی یہ شرط نہیں رکھی کہ پاکستانی حکومت اپنے شاہانہ اخراجات اور حکومتی افراد کے غیر ملکی دورے کم کرکے اپنی آمدنی کے مطابق اخراجات کم کرے تاکہ اسے مزید قرضے نہ لینا پڑیں۔
موجودہ حکومت کی طرف سے پی ٹی آئی حکومت پر الزام لگایا جاتا ہے کہ اس نے سب سے زیادہ غیر ملکی قرضے لیے اور اقتدار جاتا دیکھ کر آئی ایم ایف کو مزید ناراض کرنے کے فیصلے کیے تھے جس پر نئی حکومت کو غیر ملکی قرضوں کے حصول کے لیے سخت محنت کرنا پڑی تھی اور چار سال سے عوام سرکاری طور یہ دعوے ہی سنتے آ رہے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں غیر ملکی سرمایہ کاری چاہیے۔
یہ دعوے صرف دکھاوے کے لیے ہیں اور حکومت کی اولین ترجیح غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول رہی ہے۔ حکومت پاکستان کو قرضے مانگنے کی عادت چھوڑدینی چاہیے اور اپنے پیروں پر کھڑے ہونے اور اپنے حاصل مالی وسائل استعمال کرکے خود انحصاری کی عملی کوشش کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔ ملکی صنعتوں اور غریبوں پر ٹیکسوں کی بھرمار ہے اور جو تنخواہ دار طبقہ ٹیکسز کے شکنجے میں پہلے سے پھنسا ہوا ہے اس پر اور عوام پر مزید ٹیکس بڑھا دیے گئے ہیں۔
حکومتی ٹیکسوں کی بھرمار، مہنگی بجلی و گیس پر فکسڈ چارجز لگا کر بھی حکومت مطمئن نہیں۔ عوام بجلی نہ بھی استعمال کریں اور سولر سسٹم لگائیں وہ بھی حکومت کو قبول نہیں۔ بجلی پر پہلے ہی بے شمار ٹیکس لگے ہوئے ہیں اس پر کم سے کم بجلی استعمال پر فکسڈ چارجز دو ماہ بعد ہی چھ سو سے نو سو روپے ماہانہ کر دیے گئے ہیں۔ فکسڈ چارجز سے آمدنی بڑھانے کا نیا طریقہ ایجاد کر لیا گیا ہے۔
عوام سانس لینے اور سڑکیں ضرور مفت استعمال کر رہے ہیں اور ہر چیز پر ٹیکس متعلقہ اداروں کو ادا کر رہے ہیں اور وزارت خزانہ ایک ہزار روپے معاوضہ لینے والوں سے بھی ڈیڑھ سو روپے ٹیکس لے رہا ہے اور بیس ہزار ماہانہ کمانے والوں سے بھی تین ہزار روپے لیے جا رہے ہیں جو حکومتی مظالم کی انتہا ہے پھر بھی حکومتی رونا ختم ہونے میں نہیں آتا اور عوام پر جھوٹا الزام کہ وہ ٹیکس نہیں دیتے۔
بڑے تاجروں سے انکم ٹیکس وصولی اور ہر سال اپنے اہداف وصولی میں ناکامی سرکار کا قصور ہے سرکاری ادارے اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام ثابت ہو چکے ہیں۔ حکومت دکھاوے کی حد تک سرمایہ کاری کو اپنی ترجیح قرار تو دیتی ہے مگر عملی طور ایسا نہیں کر رہی اور اس کی ترجیح اب بھی غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول ہے۔
وزیر توانائی نے کہا ہے کہ قابل تجدید توانائی کے لیے تین سو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہمیں ضرورت ہے۔ ملکی صنعتوں پر پہلے سے ٹیکسوں کی بھرمار ہے ، نئی سرمایہ کاری کہاں سے آئے گی۔ صنعتیں باہر سے کون لائے گا یہاں تو ملکی سرمایہ بیرون ملک منتقل کیا جا رہے ہے تو یہاں بیرونی سرمایہ کار کیوں آنا چاہیں گے۔ نجیبجلی کمپنیوں کو نوازنا جاری ہے ۔ ایک مخصوص طبقے کو ٹیکسوں پر چھوٹ دی جارہی ہے، جب کہ عام لوگوں کو حکومت ریلیف کیا دے گی ،اسے تو طاقتوروں کو ٹیکسوں سے چھوٹ دینے سے ہی فرصت نہیں مل رہی۔