اسحاق ڈار کا اومانی اور مصری وزیر خارجہ سے ٹیلیفونک رابطہ
اشاعت کی تاریخ: 16th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251116-01-15
اسلام آباد (صباح نیوز)نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے اومان کے وزیر خارجہ سید بدر بن حمد بن حمود البوسیدی سے ٹیلیفونک گفتگو کرتے ہوئے برادر ملک کے قومی دن سے قبل پرتپاک مبارکباد پیش کی۔ ہفتہ کو ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق نائب وزیراعظم نے پاکستان اور اومان کے دیرپا برادرانہ تعلقات کو سراہا۔ دونوں فریقوں نے 8 ویں مشترکہ وزارتی کمیشن کے اجلاس کو جلد از جلد باہمی طور پر آسان تاریخ پر دوبارہ شیڈول کرنے پر اتفاق کیا اور آئندہ اعلیٰ سطح کے دو طرفہ مصروفیات پر تبادلہ خیال کیا۔علاوہ ازیںنائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے مصر کے وزیر خارجہ ڈاکٹر بدر احمد محمد عبدالعاطی سے ٹیلیفون پر گفتگو کی جنہوں نے پاکستان میں حالیہ دہشت گردی کے حملوں میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر تعزیت کا اظہار کیا۔ ہفتہ کو دفتر خارجہ کے مطابق انہوں نے مشرق وسطیٰ سمیت علاقائی پیشرفت اور غزہ کے لیے امن کی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا۔ مسلسل اعلی سطح کی مصروفیات کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے مصری وزیر خارجہ نے جلد از جلد پاکستان کا دورہ کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
امریکا کیوں ایران سے ڈیل کی بھیک مانگ رہا ہے؟ امریکی ڈیموکریٹک سینیٹر کے وزیر خارجہ سے سخت سوالات
مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا ایران جنگ ختم ہوچکی اور مذاکرات کی بھیک نہیں مانگی جا رہی۔ ایرانی ایٹمی پروگرام پر مذاکرات "انتہائی ٹیکنیکل" معاملہ ہے۔ جو 5 دن میں طے نہیں ہوسکتا۔ اسلام ٹائمز۔ امریکا کے ڈیموکریٹک سینیٹر کوری بُکر نے وزیر خارجہ مارکو روبیو کو ایران کے معاملے پر آڑے ہاتھوں لیا۔ سینیٹ میں پیشی کے موقع پر کوری بُکر نے کہا کہ آخر امریکا کیوں ایران سے ڈیل کی بھیک مانگ رہا ہے۔؟ ڈیموکریٹک سینیٹر کوری بُکر نے کہا کہ ڈیل بھی ایسی جسے خود امریکا ہی پہلے کچرے کے ڈبے میں پھینک چکا تھا۔ ایران نے آبنائے ہرمز بند کی ہوئی ہے۔ مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا ایران جنگ ختم ہوچکی اور مذاکرات کی بھیک نہیں مانگی جا رہی۔
ایرانی ایٹمی پروگرام پر مذاکرات "انتہائی ٹیکنیکل" معاملہ ہے۔ جو 5 دن میں طے نہیں ہوسکتا۔ انہوں نے کہا کہ ماہرین کی میٹنگز ایک مہینہ، دو مہینے یا تین مہینوں تک بھی چل سکتی ہے۔ ایران کو انتہائی افزودہ یورینیم کی تلفی کے حوالے سے مذاکرات کا عہد کرنا ہوگا۔ مارکو روبیو کے مطابق آج ایران اپنے ایٹمی پروگرام کے جن پہلووں پر بات کرنے کو راضی ہوگیا ہے، پہلے ان پر انکاری تھا۔