پی ایس ایل 11 کا شیڈول مسئلہ بننے لگا، فرنچائزز اور پی سی بی میں ڈیڈلاک
اشاعت کی تاریخ: 16th, November 2025 GMT
پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے گیارہویں ایڈیشن کا شیڈول مسئلہ بننے لگا، فرنچائزز اور پی سی بی میں ڈیڈلاک برقرار ہے۔
تفصیلات کے مطابق پاکستان سپر لیگ کا گیارہواں ایڈیشن آئندہ سال اپریل اور مئی میں ہوگا۔
پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے 2 نئی ٹیموں کی فروخت کا عمل شروع کر دیا ہے البتہ میچز کی تعداد پر تاحال اتفاق نہیں ہو سکا۔
ابتدائی طور پر 44 سے 60 میچز کی تجویز سامنے آئی ہے، فرنچائزز چاہتی ہیں کہ آمدنی میں اضافے کیلیے زیادہ میچزرکھے جائیں۔
فرنچائزز کا خیال ہے کہ ابتدائی راؤنڈ میں ہر ٹیم کو کم از کم 14 میچز کھیلنے کا موقع دیا جائے، البتہ بورڈ حکام کا کہنا ہے کہ ونڈو میں کم جگہ کی وجہ سے ایسا کرنا ممکن نہ ہو گا۔
ٹیم اونرز نے تجویز دی کہ جمعہ، ہفتہ اور اتوار کو 2،2 میچز رکھے جائیں تاکہ یہ مسئلہ حل ہو جائے، ابھی اس پر بات چیت کا سلسلہ جاری ہے۔
اس کے علاوہ ڈرافٹ یا آکشن پر بھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہو سکا ہے۔
دوسری جانب مینیجر پارٹنر شپس اینڈ پلیئرز ایکویزیشن شعیب خالد کے مستعفی ہونے پر پی سی بی کو تاحال کوئی مناسب متبادل نہیں مل سکا ہے۔
گزشتہ دنوں کنسلٹنٹ پلیئرز ایکویزیشن پی ایس ایل کی تقرری کیلیے اشتہار جاری کیا گیا تھا، درخواست دینے کی آخری تاریخ گزشتہ روز گزر چکی اور حکام اب اس حوالے سے کوئی فیصلہ کریں گے۔
یہ اہم ترین ذمہ داری ہے، غیرملکی کرکٹرز اور ایجنٹس سے رابطے کیلیے کسی تجربہ کار آفیشل کا تقرر ضروری ہوگا۔
اسی لیے پی سی بی نے اپنے بعض سابق ملازمین اور پی ایس ایل فرنچائزز سے منسلک چند موجودہ آفیشلز سے بھی رابطہ کیا ہے۔
البتہ مستقل ملازمت چھوڑ کر بورڈ میں آنے پر وہ ہچکچاہٹ کا شکار ہیں، نئے آفیشل کا تقرر رواں ماہ ہی کیے جانے کا امکان ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: پی ایس ایل پی سی بی
پڑھیں:
کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
محکمہ کالج ایجوکیشن سندھ واضح اعلان کے باوجود کراچی میں سرکاری کالجوں میں داخلہ شروع نہیں کرسکا ہے اور کم از کم سوا لاکھ طلبہ انٹر سال اول میں داخلوں کے منتظر ہیں۔
تفصیلات کے مطابق انٹر سال اول میں داخلہ یکم جون سے شروع ہونے تھے اس سلسلے میں 23 مئی کو قومی اخبارات میں اشتہارات جاری کیے گئے تھے جس کے مطابق تمام سرکاری کالجوں میں انٹر سال اول میں نویں جماعت کے نتائج کی بنیاد پر یکم جون سے داخلہ فارم کی رجسٹریشن شروع ہوجانی تھی جبکہ داخلہ فارم رجسٹریشن کی آخری تاریخ 15 جولائی مقرر کی گئی ہے۔
انٹر سال اول میں صرف کراچی کے سرکاری کالجوں میں سوا لاکھ کے قریب طلبہ داخلہ لیتے ہیں جن کے لیے سینٹرلائزڈ ایڈمیشن پالیسی کے تحت 6 مختلف فیکیلٹیز پری انجینئرنگ، پری میڈیکل، کمپیوٹر سائنس ، کامرس ، ہیومینیٹیز اور ہوم اکنامکس میں داخلے دیے جاتے ہیں۔
اس سلسلے میں جب میٹرک کا امتحان دینے والے داخلے کے خواہشمند طلبہ نے www.seccap.dgcs..gos.pk کے پورٹل پر داخلہ رجسٹریشن فارم تک پہنچنے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ یہ پورٹل ہی بند ہے۔
ادھر "ایکسپریس" نے اس سلسلے میں ڈائریکٹر جنرل کالجز سندھ پروفیسر زاہد راجپر سے جب اس سلسلے میں رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ تکنیکی وجوہات کی بنا پر پورٹل بند ہے ہماری ٹیکنیکل ٹیم کام کررہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پوری امید ہے کہ بدھ کی صبح تک پورٹل کھل جائے جس کے بعد طلبہ داخلے کے لیے اپلائی کرسکیں گے۔
ڈی جی کالجز کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس بار ہم نے تمام سرکاری کالجوں میں "ڈیس ایبل" کوٹہ مختص کیا ہے تاکہ ایسے طلبہ اس کوٹے کی بنیاد پر اپنے قرب و جوار کے کالجوں میں بھی اپلائی کرسکتے ہیں۔