سیلاب متاثرین کی بحالی، نقصانات کی تحقیقات کیلیے پنجاب کی اعلیٰ اختیاراتی پارلیمانی کمیٹی قائم
اشاعت کی تاریخ: 16th, November 2025 GMT
لاہور:
حالیہ سیلاب سے نقصانات کی تحقیقات، متاثرین کی بحالی کے لیے لائحہ عمل مرتب کرنے اور آئندہ سیلاب سے بچاؤ سے متعلق سفارشات کے لیے پنجاب کی اعلیٰ اختیاراتی پارلیمانی کمیٹی قائم کر دی گئی۔
پیپلز پارٹی کے سید علی حیدر گیلانی کمیٹی کے سربراہ ہوں گے۔ کمیٹی میں 24 اراکین اسمبلی شامل ہیں۔
پنجاب اسمبلی سیکرٹریٹ نے کمیٹی کے قیام کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا جس کے مطابق کمیٹی 30 روز میں اپنی رپورٹ تیار کرے گی۔
کمیٹی سیلاب سے زراعت، لائیو اسٹاک اور انفرا اسٹرکچر کے نقصانات کا جائزہ لے گی جبکہ کمیٹی سیلاب متاثرین کے نقصان کا بھی تخمینہ لگائے گی۔ کمیٹی سیلاب میں انسانی جانوں کے ضیاع کے اسباب و عوامل کا بھی جائزہ لے گی۔
اس کے علاوہ، کمیٹی سیلاب سے متاثرہ افراد کی بحالی کے بارے سفارشات مرتب کرے گی جبکہ سرکاری محکموں کی کارکردگی اور انتظامی امور پر بھی غور کرے گی۔ کمیٹی مستقبل میں سیلاب سے بچاؤ کے لیے تدبیر بھی تجویز کرے گی۔
کمیٹی سیلاب میں پنجاب اور وفاق کے درمیان کوارڈینیشن کے بارے بھی معلومات حاصل کرے گی۔ کمیٹی سیلاب سے قبل وارننگ سسٹم کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات تجویز کرے گی۔
کمیٹی 30 دن میں اپنی سفارشات مرتب کرے گی اور کسی بھی ماہر کو اجلاس میں طلب کر سکے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کمیٹی سیلاب سیلاب سے کے لیے کرے گی
پڑھیں:
کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔
7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔
نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاریترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔
شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔
متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔