ڈونلڈ ٹرمپ کو بیس بال میچ میں شائقین کی جانب سے شدید مخالفت اور نعرے بازی کا سامنا
اشاعت کی تاریخ: 10th, November 2025 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ واشنگٹن کمانڈرز اور ڈیٹرائٹ لائنز کے درمیان ہونے والے این ایف ایل کے ریگولر سیزن میچ میں شریک ہو کر تقریباً نصف صدی بعد یہ اعزاز حاصل کرنے والے پہلے صدر بن گئے۔
میچ کے دوران جب ٹرمپ کا چہرہ اسٹیڈیم کی بڑی اسکرین پر دکھایا گیا، شائقین نے تالیوں کے بجائے شدید نعرے بازی کی۔ ہاف ٹائم میں جب اسٹیڈیم میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا تعارف کرایا گیا تو بھی شائقین نے احتجاج جاری رکھا۔ اسی دوران ایک تقریب میں ٹرمپ نے فوجیوں کو حلف پڑھایا، جس پر بھی شائقین نے مخالفت کا اظہار کیا۔
یہ بھی پڑھیں: بی بی سی کی ٹرمپ مخالف رپورٹ پر تنازع، ادارے کی قیادت بحران کا شکار
میچ کے آغاز سے پہلے ڈونلڈ ٹرمپ ایئر فورس ون سے جوائنٹ بیس اینڈریوز پہنچے۔ اس موقع پر انہوں نے صحافیوں سے بات چیت میں کہا کہ ’میں تھوڑا دیر سے پہنچا ہوں۔ ہم اچھا میچ دیکھیں گے۔ ملک کی صورتحال بہتر ہے، اور ڈیموکریٹس کو معاملات کھولنے چاہئیں‘۔
BREAKING: Trump was just viciously BOOED at the Washington Commanders Detroit Lions game.
I’ve never heard a president booed this loudly in my life. Holy cow! pic.twitter.com/leRnDUOtbv
— Brian Krassenstein (@krassenstein) November 9, 2025
تاریخی اعتبار سے، این ایف ایل کے ریگولر سیزن میچ میں صدر کی موجودگی صرف دو مرتبہ ہوئی ہے، ریچرڈ نکسن نے 1969 میں اور جمی کارٹر نے 1978 میں شرکت کی تھی۔ ٹرمپ اس لحاظ سے پہلے موجودہ صدر ہیں جنہوں نے اس طرح کے میچ میں شرکت کی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق، وائٹ ہاؤس کے ذریعے ایک ثالث نے کمانڈرز کے مالک گروپ کو بتایا کہ ٹرمپ چاہتے ہیں کہ ٹیم کے نئے سٹیدیم کا نام ان کے نام پر رکھا جائے، جو کہ تقریباً 4 ارب ڈالر کی لاگت سے تعمیر کیا جائے گا اور سابقہ RFK اسٹیڈیم کی جگہ ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: ’ ڈیموکریٹس صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر بھروسہ نہیں کرتے‘، امریکا میں 38 روزہ حکومتی شٹ ڈاؤن برقرار
براڈکاسٹ کے دوران صدر نے کہا ’یہ ایک خوبصورت سٹیدیم ہوگا، جس میں میں شامل ہوں اور تمام منظوری کے مراحل مکمل کر رہے ہیں۔ ٹیم کے مالک جوش ہیرس اور ان کی ٹیم شاندار کام کر رہی ہے‘۔
یہ دورہ ٹرمپ کے متعدد بڑے کھیلوں کے ایونٹس کے دورے کا تسلسل ہے، جن میں گالف کا رائیڈر کپ، موٹر ریسنگ کا ڈے ٹونا 500 اور ٹینس کا یو ایس اوپن شامل ہیں۔ انہوں نے براڈکاسٹ کے دوران کہا، مجھے یہ بہت پسند ہے۔ یہ زندگی کا ایک چھوٹا آئینہ ہے اچھا، برا اور بدصورت۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ کی مخالفت کے باوجود ظہران ممدانی کامیاب، ’کیا امریکی صدر کمزور ہورہے ہیں؟‘
میچ سے پہلے، دفاعی وزیر پیٹ ہیگسیتھ نے ٹیم کے مالک اور فوجی اہلکاروں کے ساتھ تقریب میں شرکت کی۔ وہ صدر ٹرمپ کے ساتھ میچ دیکھ رہے تھے، جن کے ہمراہ وائٹ ہاؤس کی چیف آف اسٹاف سوزی وائلز، ایجوکیشن سیکریٹری لنڈا مک مَہون اور ریپبلکن سینٹر اسٹیو ڈینس بھی موجود تھے۔
ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں این ایف ایل اور کھلاڑیوں کے درمیان تنازعہ بھی سامنے آیا تھا، جب انہوں نے قومی ترانے کے دوران گھٹنے ٹیکنے والے کھلاڑیوں کی مخالفت کی تھی، جو 2016 میں کولن کیئپرنک کے احتجاج سے شروع ہوئی تھی۔ صدر نے زور دیا تھا کہ کھلاڑی ترانے کے دوران کھڑے رہیں اور مالکان سے کہا تھا کہ احتجاج کرنے والے کھلاڑیوں کو نکالا جائے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ٹرمپ کے خلاف نعرے ڈونلڈ ٹرمپذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ٹرمپ کے خلاف نعرے ڈونلڈ ٹرمپ ڈونلڈ ٹرمپ کے دوران میچ میں ٹرمپ کے
پڑھیں:
پاکستان کو پانی کے شدید بحران کا سامنا،ذخائرمیں تیزی سے کمی
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: پاکستان کو پانی کے شدید بحران کا سامنا ہے، ذخائر میں تیزی سے کمی جاری ہے واٹر سیکیورٹی کے بغیر معاشی ترقی ممکن نہیں ہے پاکستان میں پالیسیاں مضبوط مگر عمل درآمد کمزور اور سست ہے۔
ایشیائی ترقیاتی بینک کی جانب سے ایشین واٹر ڈیویلپمنٹ آوٴٹ لک رپورٹ 2025ء جاری کردی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کو پانی کے شدید بحران کا سامنا ہے، ذخائر میں تیزی سے کمی جاری ہے۔
میڈیاذرائع کا کہنا ہے کہ رپورٹ سے انکشاف ہوا ہے کہ پاکستان کی 80 فیصد سے زائد آبادی پینے کے صاف پانی سے محروم ہے، پاکستان میں فی کس پانی دستیابی 3500 سے کم ہو کر 1100 مکعب میٹر رہ گئی ہے، زیر زمین پانی کے بے دریغ استعمال سے زہریلا آرسینک پھیل رہا ہے، ماحولیاتی تبدیلی، آبادی، ناقص مینجمنٹ سے پانی کا بحران بڑھ رہا ہے زرعی شعبہ سب سے زیادہ پانی ضائع کررہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق واٹر سیکیورٹی کے بغیر معاشی ترقی ممکن نہیں ہے پاکستان میں پالیسیاں مضبوط مگر عمل درآمد کمزور اور سست ہے، مالی وسائل کی شدید کمی، واٹر سیکٹر میں اصلاحات اور سرمایہ کاری درکار ہے۔
رپورٹ میں اگلی دہائی میں 10 سے 12 ٹریلین روپے درکار ہونے اور موجودہ سرمایہ ناکافی قرار دیا گیا ہے۔ کہا گیا ہے کہ پاکستان میں 2022ء کے سیلاب نے لاکھوں افراد کو بے گھر کیا پاکستان میں سیلاب اور خشک سالی کے خطرات برقرار ہیں پاکستان کو ایس ڈی جیز کیلئے سالانہ 12 ارب ڈالر درکار ہیں۔