آئی فون میں بنا سگنل کے میسیجز اور میپس تک رسائی ممکن؟
اشاعت کی تاریخ: 10th, November 2025 GMT
ایپل ایسی نئی سیٹلائٹ ٹیکنالوجیز پر کام کر رہا ہے جو آئی فونز کو موبائل نیٹ ورک کے بغیر بھی کام کرنے کی سہولت فراہم کریں گی۔ حال ہی میں ایپل نے بتایا کہ صارفین ہنگامی حالات کے علاوہ بھی جلد ہی بغیر انٹرنیٹ یا سیلولر سروس کے پیغامات بھیج اور وصول کر سکیں، یعنی وہ “آف دی گرڈ” بھی رابطے میں رہ سکتے ہیں۔
بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق کمپنی کا منصوبہ ہے کہ آئی فونز میں سیٹلائٹ کنیکٹیویٹی کے ذریعے ایپل میپ اور میسیجز کی خدمات دستیاب ہوں، تاکہ صارفین بغیر سگنل کے بھی راستہ دیکھ سکیں یا پیغامات بھیج سکیں۔
یہ اقدام آئی فونز کو دور دراز علاقوں یا ہنگامی حالات میں زیادہ مفید بنانے کے لیے کیا جا رہا ہے۔ ایپل پہلے ہی ’ایمرجنسی ایس او ایس کے ذریعے سیٹلائٹ‘ کی سہولت فراہم کر چکا ہے، جو صارفین کو اس وقت ریسکیو ٹیموں سے رابطہ کرنے میں مدد دیتی ہے جب سیلولر سروس دستیاب نہ ہو۔ یہ فیچر آئی فون 14 کے ساتھ 2022 میں متعارف کرایا گیا تھا۔ بعد میں ایپل نے ایسے علاقوں میں پھنسے ہوئے ڈرائیورز کے لیے روڈ سائیڈ اسسٹنس بھی شامل کی۔
اس مقصد کے لیے ایپل کی اندرونی سیٹیلائٹ کنیکٹیویٹی گروپ نئی ٹیکنالوجی تیار کر رہی ہے جو آئی فونز کو براہ راست سیٹلائٹس سے جوڑے گی۔ یہ ٹیم گلوبل اسٹار کے ساتھ کام کر رہی ہے، جو موجودہ ایس او ایس فیچرز فراہم کرتا ہے۔ اگرچہ گلوبل اسٹار کا نظام اسپیس ایکس کے اسٹار لنک جیسی بڑی کمپنیوں کے مقابلے میں چھوٹا ہے، لیکن ایپل کی موجودہ خدمات کے لیے یہ کافی رہا ہے۔ کمپنی مبینہ طور پر گلوبل اسٹار کے نیٹ ورک میں اپ گریڈز کے لیے بھی سرمایہ کاری کر رہی ہے تاکہ مستقبل کے فیچرز کو سپورٹ کیا جا سکے۔
ایپل کی توجہ فی الحال، صارفین کو سیٹلائٹ سے کنیکٹ ہونے کے لیے آئی فون کو آسمان کی طرف موڑنا پڑتا ہے۔ آئندہ نظام میں یہ قدم ختم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، تاکہ ڈیوائس جیب، کار یا بیگ میں رکھنے کے باوجود کنیکٹڈ رہے۔
اگلی نسل کے آئی فونز میں 5 جی این ٹی این کی سپورٹ بھی شامل ہو سکتی ہے، جو موبائل ٹاورز اور سیٹلائٹس کو ملا کر زیادہ وسیع اور مضبوط کنیکٹیویٹی فراہم کرے گی۔ اگر یہ عملی ہو گیا، تو ایپل کے آلات ایسے علاقوں میں بھی قابل اعتماد ہو جائیں گے جہاں نیٹ ورک اکثر ڈراپ ہو جاتا ہے۔
ایپل کی سیٹلائٹ توسیع یہاں ختم نہیں ہوتی۔ کمپنی مبینہ طور پر ڈویلپرز کے لیے ایک فریم ورک بھی تیار کر رہی ہے، جس سے تھرڈ پارٹی ایپس بھی سیٹلائٹ کنیکشن استعمال کر سکیں گی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ سفری، صحت یا حفاظتی ایپس بغیر انٹرنیٹ کے بھی کام کر سکیں گی، جو ہنگامی حالات یا آف گرڈ سفر کے لیے خاص طور پر مفید ہوگا۔
ایپل کا لونگ ٹرم مقصد یہ ہے کہ صارفین کہیں بھی ہوں، ہمیشہ جڑے رہیں۔ کمپنی ہارڈویئر اور سافٹ ویئر دونوں پر کنٹرول رکھ کر یہ یقینی بنانا چاہتی ہے کہ تجربہ اس کے معیار کے مطابق ہو، خاص طور پر سیکیورٹی اور پرائیویسی میں۔ تاہم کچھ مشکلات ابھی باقی ہیں۔ ایپل کا موجودہ سیٹلائٹ پارٹنر گلوبل اسٹار ممکنہ طور پر فروخت کے لیے دیکھ رہا ہے، اور اسپیس ایکس ممکنہ خریدار ہو سکتا ہے۔ اگر ایسا ہوا، تو ایپل کو مستقبل میں اپ گریڈز اور تعاون کے طریقے دوبارہ سوچنے پڑیں گے تاکہ صارفین کے لیے سہولت برقرار رہے۔
اس وقت ایپل کی توجہ نئے سیٹلائٹ ٹولز پر ہے، جس میں بہتر میسجنگ فیچرز بھی شامل ہیں جو صرف ٹیکسٹ ہی نہیں بلکہ تصاویر بھی شیئر کر سکیں گے۔
اگر یہ فیچرز متوقع طور پر متعارف ہو گئے، تو آئی فون صارفین اپنے آلات کو سب سے دور دراز علاقوں میں بھی نیوییشن یا رابطے کے لیے استعمال کر سکیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: گلوبل اسٹار کہ صارفین کر رہی ہے آئی فونز فراہم کر کر سکیں آئی فون ایپل کی کے لیے کام کر رہا ہے
پڑھیں:
معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
کراچی: ملک میں معاشی سرگرمیوں میں بہتری کے ساتھ کے الیکٹرک صنعتی صارفین کی جانب سے بجلی کے استعمال نے نئی بلند ترین سطح حاصل کر لی۔ مالی سال 2026 کے دوران کے الیکٹرک کے صنعتی فیڈرز پر بجلی کی مجموعی کھپت 6 ارب 8 کروڑ یونٹس (6.08 ارب یونٹس) ریکارڈ کی گئی، جو ادارے کی تاریخ میں کسی بھی مالی سال کے دوران سب سے زیادہ ہے۔
کے الیکٹرک کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق صنعتی بجلی کی طلب میں یہ نمایاں اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو 3.7 فیصد رہی۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ کراچی کی صنعتوں کو مسلسل، قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی نے صنعتی پیداوار اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔
کے الیکٹرک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سید محمد طہٰ نے کہا کہ صنعتی بجلی کے استعمال میں ریکارڈ اضافہ حکومت پاکستان، اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (SIFC) اور کراچی کی صنعتی برادری کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہے۔ ان کے مطابق سرمایہ کاری کے بہتر ماحول، صنعتی سرگرمیوں میں تیزی اور کاروباری اعتماد میں اضافے نے اس کامیابی کو ممکن بنایا۔
انہوں نے کہا کہ کراچی ملک کی معاشی شہ رگ ہے اور کے الیکٹرک 2013 سے صنعتی فیڈرز کو لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ رکھے ہوئے ہے تاکہ صنعتوں کی پیداوار اور برآمدات متاثر نہ ہوں۔
بی تھری کیٹیگری میں سب سے زیادہ بجلی استعمال
اعلامیے کے مطابق سب سے زیادہ بجلی کا استعمال بی تھری (B3) کیٹیگری میں ریکارڈ کیا گیا، جس میں 501 سے 5 ہزار کلوواٹ تک بجلی استعمال کرنے والی صنعتیں شامل ہیں۔ اس زمرے میں سیمنٹ، اسٹیل، ٹیکسٹائل، کیمیکل اور دیگر بڑے صنعتی شعبے شامل ہیں۔
ماہانہ بنیاد پر جون 2026 میں صنعتی بجلی کی کھپت سب سے زیادہ رہی، جبکہ اپریل 2026 دوسرے نمبر پر رہا۔
گزشتہ سال کے مقابلے میں 20 فیصد سے زائد اضافہ
اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025 میں صنعتی صارفین نے 5.04 ارب یونٹس بجلی استعمال کی تھی، جبکہ مالی سال 2026 میں یہ مقدار بڑھ کر 6.08 ارب یونٹس تک پہنچ گئی، جو 20 فیصد سے زائد سالانہ اضافہ ظاہر کرتی ہے۔
اس سے قبل مالی سال 2022 میں صنعتی بجلی کی کھپت 5.84 ارب یونٹس ریکارڈ کی گئی تھی، تاہم رواں مالی سال میں یہ ریکارڈ بھی ٹوٹ گیا۔
349 نئے صنعتی کنکشنز فراہم
کے الیکٹرک کے مطابق مالی سال 2026 کے دوران 349 نئے صنعتی کنکشنز جاری کیے گئے، جبکہ 273 صنعتی صارفین نے اپنے بجلی کے لوڈ میں اضافہ کیا، جس سے مجموعی طور پر 168 میگاواٹ اضافی طلب قومی گرڈ میں شامل ہوئی۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ حکومت کی جانب سے صنعتوں کو کیپٹو پاور پلانٹس سے قومی گرڈ پر منتقل کرنے کی پالیسی، معاشی بحالی اور صنعتی پیداوار میں اضافے نے بھی بجلی کی طلب بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔
کمپنی کا مزید کہنا ہے کہ صنعتی فیڈرز کی ریکوری کی شرح تمام صارفین کے مختلف زمروں میں سب سے بہتر رہی، جو بروقت بلوں کی ادائیگی اور لوڈشیڈنگ سے استثنیٰ کے درمیان مضبوط تعلق کو ظاہر کرتی ہے۔
کے الیکٹرک نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کراچی کی صنعتوں اور کاروباری سرگرمیوں کو قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی آئندہ بھی اس کی اولین ترجیح رہے گی تاکہ ملکی معیشت کی ترقی میں اپنا کردار جاری رکھا جا سکے۔