افغانستان میں چائے کا کپ ہمیں 2012 پر لے آیا، دہشتگردی کے خاتمے کے لیے متحد ہونا پڑےگا، اسحاق ڈار
اشاعت کی تاریخ: 4th, November 2025 GMT
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے افغانستان کے ساتھ تعلقات میں مسلسل بگڑتی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ باوجود ان کی ذاتی اور پاکستان کی کوششوں کے، تعلقات میں بہتری نہیں آ سکی۔
’افغانستان میں چائے کا کپ مہنگا پڑا‘
سینیٹ اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے گزشتہ حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہاکہ وہ اتنی زیادہ کوششیں کر رہے تھے کہ ہم وہاں صرف ایک کپ چائے کے لیے گئے لیکن وہ کپ چائے ہمارے لیے بہت مہنگا ثابت ہوا۔
اسحاق ڈار نے کہاکہ اس کے نتیجے میں 35 سے 40 ہزار طالبان واپس آئے اور پچھلی حکومت نے 100 ایسے مجرموں کو رہا کیا جنہوں نے سوات میں پاکستانی پرچم جلایا اور سینکڑوں افراد کو شہید کیا۔ یہ سب سے بڑی غلطی تھی۔
نائب وزیراعظم نے مزید کہاکہ ملک کو درپیش مسائل اس حد تک بڑھ گئے کہ ملک سنہ 2012 کی حالت پر واپس چلا گیا۔
افغان وزیرخارجہ امیر متقی کی ’بے بسی‘ کا تذکرہ
افغانستان کے ساتھ جاری مذاکرات کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ افغان طالبان کے وزیر خارجہ امیر خان متقی نے 6 دن قبل انہیں 6 مرتبہ فون کیا۔
انہوں نے کہاکہ آپ نے ہم سے صرف ایک بات مانگی تھی کہ افغانستان کی زمین سے پاکستان میں کوئی دہشتگردانہ کارروائیاں نہ ہوں لیکن یہاں تک آ گئے ہیں کہ میں بھی، جو آپ کی مدد کرنا چاہتا ہوں، بے بس محسوس کر رہا ہوں۔
اسحاق ڈار نے کہاکہ پاکستان افغانستان کے ساتھ تمام مسائل کا پرامن حل چاہتا ہے۔ انہوں نے خطے کے لیے پاکستان، ازبکستان اور افغانستان کے ٹرانس ریلوے منصوبے کو فائدہ مند قرار دیا۔
انہوں نے کہاکہ ہم اپنے تمام ہمسایوں کے ساتھ بہترین تعلقات کے خواہاں ہیں اور افغانستان کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے کاوشیں کی گئی ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ہمیں متحد ہو کر دہشتگردی کے ناسور کو ختم کرنا ہوگا اور اس مقصد کے لیے اپوزیشن کی تجاویز کا خیرمقدم کیا جائے گا۔
اسحاق ڈار نے مزید کہاکہ 2012 اور 2013 میں ملک بھر میں دہشت گردی عروج پر تھی، ماضی میں دہشتگردوں کے خلاف آپریشن کیے گئے اور مالی مشکلات کے باوجود دہشتگردی کے خلاف جنگ کے لیے فنڈز فراہم کیے گئے۔ انہوں نے زور دیا کہ ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھ کر آگے بڑھنا ہوگا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews اسحاق ڈار پاک افغان تعلقات دہشتگردی وزیر خارجہ وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسحاق ڈار پاک افغان تعلقات دہشتگردی وی نیوز افغانستان کے ساتھ اسحاق ڈار نے انہوں نے نے کہاکہ کے لیے
پڑھیں:
بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رکن قومی اسمبلی نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہا ہے کہ پاکستان کے خلاف ایک خاموش جنگ لڑی جا رہی ہے جو بارود سے زیادہ نوجوانوں کے ذہنوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
صوبائی وزرا علی مدد جتک اور عاصم کرد گیلو کے ہمراہ کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ دشمن پاکستان اور بلوچستان کو توڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ 2018 میں بشیر زیب نے جب ایک کالعدم تنظیم کی کمان سنبھالی تو حالات مزید خراب ہوئے، جبکہ جنید بشیر زیب کا رائٹ ہینڈ ہے۔
انہوں نے کہاکہ آج کی جنگ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر لڑی جا رہی ہے اور کالعدم تنظیموں کے کارندے زنگی ایپ کے ذریعے ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کالعدم تنظیمیں سنگل ایپ کے ذریعے آپریشنل منصوبہ بندی جبکہ ڈیلٹا چیٹ کے ذریعے خفیہ بھرتیاں کرتی ہیں۔
نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ آج دشمن صرف گولی کا استعمال نہیں کر رہا بلکہ سوشل میڈیا پر ٹرینڈز چلا کر بھی اپنا ایجنڈا آگے بڑھا رہا ہے۔ ہم نہیں چاہتے کہ نوجوان پہاڑوں کا رخ کریں۔
انہوں نے دعویٰ کیاکہ کالعدم تنظیموں نے اپنی سرگرمیوں میں خواتین کا استعمال بھی شروع کر دیا ہے۔ شہناز بلوچ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے جلسوں میں شرکت کرتی تھیں اور ان کا باہوٹ کے ذریعے کالعدم تنظیم سے رابطہ ہوا۔
نوابزادہ جمال رئیسانی نے مزید کہاکہ بلوچ یکجہتی کمیٹی بلوچستان کی قیادت ڈاکٹر صبیحہ کر رہی ہیں اور ان کا بھائی ایک کالعدم تنظیم کا حصہ ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے کراچی سیل کی قیادت فوزیہ شاہوانی کررہی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بلوچستان سیاست خاموش جنگ نوابزادہ جمال رئیسانی وی نیوز