سابق امریکی سفیر اسرائیلی جاسوسی کمپنی کے سربراہ مقرر
اشاعت کی تاریخ: 10th, November 2025 GMT
فریڈمین جو ڈونلڈ ٹرمپ کی پہلی مدتِ صدارت میں اسرائیل میں امریکی سفیر تھے، اس وقت کمپنی کے بورڈ میں شامل ہوئے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں تعینات سابق امریکی سفیر کو اُس اسرائیلی کمپنی کا صدر مقرر کیا گیا ہے جو دنیا بھر میں موبائل فونز کی جاسوسی کے الزام میں بدنام ہے۔ خبر رساں ایجنسی تسنیم کے عبرانی شعبے کے مطابق اسرائیلی اخبار یدیعوت آحارونوت نے اطلاع دی ہے کہ بدنامِ زمانہ اسرائیلی کمپنی این ایس او گروپ، جو دنیا بھر میں اپنے جاسوسی سافٹ ویئر پیگاسس (Pegasus) کے باعث مشہور ہے، انہوں نے ڈیوڈ فریڈمین، سابق امریکی سفیر برائے تل ابیب، کو اپنے بورڈ آف ڈائریکٹرز کا سربراہ مقرر کیا ہے۔ اس عبرانی اخبار کے مطابق، فریڈمین جو ڈونلڈ ٹرمپ کی پہلی مدتِ صدارت میں اسرائیل میں امریکی سفیر تھے، اس وقت کمپنی کے بورڈ میں شامل ہوئے ہیں جب این ایس او گروپ امریکی سرمایہ کاروں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ کمپنی کو امید ہے کہ اس قدم سے اس کا نام امریکی وزارتِ تجارت کی بلیک لسٹ سے خارج ہو جائے گا اور اسے دوبارہ امریکہ میں اپنی سرگرمیاں شروع کرنے کا موقع ملے گا۔ یاد رہے کہ ایم ایس او گروپ اُس وقت عالمی سطح پر بدنام ہوا جب انکشاف ہوا کہ اس کے تیار کردہ پیگاسس اسپائی ویئر کو دنیا کی متعدد معروف شخصیات کی جاسوسی کے لیے استعمال کیا گیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: امریکی سفیر
پڑھیں:
بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔
پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔
ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔
سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔
ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔
پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔