لندن: بحیرہ شمال میں تیل کے کنوؤں پر کام کرنے والے آف شور مزدوروں کو خبردار کیا گیا ہے کہ اگر انہوں نے وزن کم نہ کیا تو وہ آف شور پلیٹ فارم پر جانے کے اہل نہیں رہیں گے، جس سے ان کی نوکریاں خطرے میں پڑ سکتی ہیں۔

برطانوی کمپنی آف شور انرجیز نے اعلان کیا ہے کہ نومبر 2026 سے سمندر میں موجود تیل کے پلیٹ فارمز پر جانے والے ہر مزدور کا زیادہ سے زیادہ وزن 124.

7 کلوگرام (کپڑوں سمیت) ہونا ضروری ہوگا تاکہ ہنگامی صورتحال میں ہیلی کاپٹر کے ذریعے انہیں محفوظ طور پر ریسکیو کیا جا سکے۔

برطانوی کوسٹ گارڈ کے مطابق ریسکیو ہیلی کاپٹر پر نصب ونچ 249 کلوگرام تک وزن اٹھا سکتی ہے، جس میں ایک ریسکیو ورکر (90.3 کلوگرام)، ایک اسٹریچر (29 کلوگرام) اور بچاؤ کا سامان (5 کلوگرام) شامل ہوتا ہے۔

کمپنی کے مطابق، فی الحال 2 ہزار 200 سے زائد مزدور ایسے ہیں جن کا وزن مقررہ حد سے زیادہ ہے۔ اگر انہوں نے وزن کم نہ کیا تو انہیں ملازمت سے فارغ کیا جا سکتا ہے۔

یہ پالیسی میری ٹائم اینڈ کوسٹ گارڈ ایجنسی کی جانب سے جاری کردہ وارننگ کے بعد لائی گئی، جس میں کہا گیا تھا کہ ریسکیو مشینری بھاری وزن محفوظ طریقے سے نہیں اٹھا سکتی، جو کسی ہنگامی ریسکیو کے دوران حادثے کا باعث بن سکتا ہے۔

برطانوی میڈیا کے مطابق، 2008 کے بعد سے آف شور مزدوروں کا اوسط وزن 10 کلوگرام بڑھ چکا ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی

ایرانی پاسداران انقلاب نے برطانیہ کو دھکمی دی ہے کہ اگر ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں ملوث ہوئے تو جارحیت کے استعمال ہونے والے کسی بھی بیس پر ہمارے حملے جائز ہوں گے اور برطانیہ کو اپنے ماضی کو مزید خراب نہ کرے۔

ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پاسداران انقلاب نے بیان میں کہا کہ برطانیہ نے ایران پر حالیہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں بڑا کردار ادا کیا ہے لہٰذا ہم برطانوی حکومت جو ہمارے خطے کے لوگوں کی تقدیر خراب کرنے کی بنیادی وجہ ہے، کو تنبیہ کر رہے ہیں کہ وہ اپنے ماضی پر مزید بوجھ مت ڈالیں۔

پاسداران انقلاب نے کہا کہ امریکی بحری فورسز بحیریہ ہند میں فعال ہے مگر ان کے کروز میزائل کا ذخیرہ ختم ہوگیا ہے اور اسی لیے وہ انگلینڈ آر اے ایف فیئرفورڈ سے بی ون بمبار استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ حملہ آور امریکی فوج جنگ کے آغاز کے بعد بحر ہند میں موجود اپنے بحری جہازوں سے کروز میزائل داغنے پر انحصار کر رہی تھی مگر ان جہازوں کے میزائلوں کا ذخیرہ ختم ہونے کے بعد کل برطانیہ کے فیرفورڈ فضائی اڈے سے پرواز کرنے والے بی ون طیاروں کے استعمال پر مجبور ہو گئی ہے۔

پاسداران انقلاب نے زور دیتے ہوئے کہا کہ جیسا کہ وزارت خارجہ کے عہدیداروں نے بھی واضح کیا ہے کہ ایرانی سرزمین کے خلاف استعمال ہونے والا کوئی بھی بیس ہمارے لیے نشانہ بنانے کے جائز ہدف ہوگا۔

مزید کہا گیا کہ برطانیہ کا اسلامی ممالک کی تقسیم، ان ممالک میں بڑے پیمانے پر قتل عام، آمرانہ حکومتوں کے قیام اور سب سے بڑھ کر فلسطین پر قبضے کو منظم کرنے اور اس کی سرپرستی کرتے ہوئے اسرائیل کے قیام جیسے سانحے کو جنم دینے کا ایک سیاہ ریکارڈ ہے۔

خیال رہے کہ پاسداران انقلاب کی جانب سے برطانیہ کو دھمکی ایک ایسے وقت میں دی گئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان لڑائی اپنے عروج پر ہے دونوں اطراف سے ایک دوسرے کی تنصیبات پر حملے کیے جا رہے ہیں۔

برطانیہ پہلے ہی نئے قانون کے تحت پاسداران انقلاب کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے چکا ہے جبکہ ایران نے اس اقدام کو جارحانہ قرار دیتے ہوئے جواب میں اسی طرح کا اقدام کرنے کا عزم ظاہر کر دیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • ٹیسلا نے بچوں کے لیے نئی بیلنس بائیک متعارف کرا دی، قیمت کتنی ہے؟
  • عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
  • سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
  • آبنائے ہرمز میں ہر حملے کے بدلے ایک پل یا پاور پلانٹ تباہ کریں گے، ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی
  • مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ
  • حیسکو میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف