نیویارک میں پاکستانی بزنس مین کا شوکت خانم کو ایک کروڑ روپے عطیہ کرنے کا اعلان، شعیب اختر اور ریما حیران رہ گئے
اشاعت کی تاریخ: 10th, November 2025 GMT
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن)نیویارک میں شوکت خانم کینسر ہسپتال کیلئے فنڈ ریزنگ کی تقریب میں ایک پاکستانی بزنس مین نے ایک کروڑ روپے پاکستانی عطیہ کرنے کا اعلان کیا تو میزبانی کرنے والے شعیب اختر اور اداکارہ ریما ششدر رہ گئیں، چند لمحے رکنے کے بعد تصدیق کی کیا آپ واقعی دے رہے ہیں تو انہوں نے کہا جی بالکل میں دے رہاہوں ۔
تفصیلات کے مطابق نیویارک میں شوکت خانم کینسر ہسپتال کےلئے کی جانیوالی ایک فنڈ ریزنگ میں جب ایک پاکستانی امریکن بزنس مین مقصود ملک نے شوکت خانم ہسپتال کے لئے ایک کروڑ روپے فنڈ دینے کا اعلان کیا تو پروگرام کے میزبان کرکٹر شعیب اختر اور فلمسٹار ریما دونوں حیران ہو گئے ، انہیں فوری سمجھ انہیں آیا کہ مقصود ملک نے کیا اعلان کیا ، شعیب اختر اور ریما نے بار بار پوچھ کر مقصود ملک سے کنفرم کیا کہ انہوں نے کیا اعلان کیا ہے ۔
اقبالؒ پاکستان اور ایران کا مشترکہ فکری سرمایہ ہیں: وزیر خزانہ پنجاب کا ’’جشن اقبال ‘‘سے خطاب
مقصود ملک جو کہ ایک بڑی کنسٹرکشن کمپنی کے مالک ہیں ، کا کہنا تھا کہ ان کے بعض قریبی عزیز کی کینسر کے مرض سے اموات ہوئی ہیں جبکہ ان کے والد کو بھی جگر کا کینسر تھا، اس لیئے و اس مرض کا درد جانتے ہیں ۔ شعیب اختر اور ریما سمیت فنڈ ریزنگ ڈنر کے شرکاء نے مقصود ملک کی عظیم خدمت کو خراج تحسین پیش کیا ۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: شعیب اختر اور شوکت خانم اعلان کیا مقصود ملک
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔