سائنسدانوں کی نئی دریافت، مکڑی کی انوکھی نسل منظرعام پر آگئی
اشاعت کی تاریخ: 4th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
امریکی ریاست کیلیفورنیا کے ساحلی ریتلے ٹیلوں میں سائنس دانوں نے مکڑی کی ایک نایاب اور نئی نسل دریافت کرلی ہے، جسے حیاتیاتی ماہرین ماحولیاتی توازن کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔
امریکی میڈیا کے مطابق اس نئی مکڑی کا نام ایپٹو اسٹیچس رامیرازی رکھا گیا ہے، جو کیلیفورنیا اور میکسیکو کے ساحلی علاقوں میں پائی جاتی ہے۔ اس نسل کا نام کیلیفورنیا اسٹیٹ یونیورسٹی کی کالج آف سائنس کی ڈین مارٹینا جیزیل رامیراز کے اعزاز میں رکھا گیا۔
تحقیق کی قیادت کرنے والے ماہرِ حشریات پروفیسر جیسن بانڈ (یو سی ڈیوس، شعبہ اینٹومولوجی و نیمی ٹولوجی) کے مطابق یہ مکڑیاں اپنی خوبصورتی اور منفرد طرزِ حیات کے باعث غیر معمولی اہمیت رکھتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ زیادہ تر لوگ مکڑیوں سے خوفزدہ رہتے ہیں، مگر یہ جاندار ماحولیاتی نظام میں توازن برقرار رکھنے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔
پروفیسر بانڈ نے وضاحت کی کہ یہ مکڑیاں پوری زندگی زمین کے اندر بلوں میں گزارتی ہیں، جہاں وہ اپنے بچوں کی نگہداشت کرتی ہیں، اور ان کی عمر 15 سال سے زیادہ ہو سکتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ دریافت اس بات کا ثبوت ہے کہ نئی انواع صرف دور دراز جنگلات میں نہیں بلکہ ہمارے اردگرد کے عام ماحولیاتی نظام میں بھی موجود ہیں۔
ماہرین کے مطابق کیلیفورنیا کے ساحلی علاقوں میں مکڑیوں کی جینیاتی تنوع کو سمجھنا ان کے تحفظ کے لیے نہایت ضروری ہے، کیونکہ یہ نئی نسل سطحِ سمندر میں اضافے، شہری توسیع اور جنگلات میں آگ جیسی ماحولیاتی تبدیلیوں کے باعث معدومیت کے خطرے سے دوچار ہے۔
سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اگر ان نایاب مکڑیوں کے مسکن محفوظ نہ کیے گئے تو ان کے ختم ہونے سے پورے ساحلی ماحولیاتی نظام پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔