data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251104-08-25

 

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے پیر کے روز کراچی میں پاکستان انٹرنیشنل میری ٹائم ایکسپو اینڈ کانفرنس (پی آئی ایم ای سی) کے دوسرے ایڈیشن کا افتتاح کرتے ہوئے پاکستان کو مشرق اور مغرب کے درمیان ایک ’قدرتی سمندری پل‘ قرار دیا۔ یہ ایونٹ پیر3نومبرسے جمعرات 6 نومبرتک کراچی ایکسپو سینٹر میں جاری رہے گا، جس میں پاکستان سمیت 45 ممالک شرکت کر رہے ہیں، اس نمائش کا اہتمام پاک بحریہ کی مجموعی نگرانی میں کیا گیا ہے، جبکہ وفاقی اور صوبائی محکمے اس کے انتظامات میں معاونت فراہم کر رہے ہیں۔ پی آئی ایم ای سی سے خطاب کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان جغرافیائی لحاظ سے منفرد مقام رکھتا ہے کیونکہ یہ خطے (جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا، مشرق وسطیٰ اور افریقا) کے سنگم پر واقع ہے، جو اسے مشرق اور مغرب کے درمیان ایک قدرتی سمندری پْل بناتا ہے۔ تاہم انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ ان تمام جغرافیائی فوائد کے باوجود پاکستان کا میری ٹائم شعبہ ملکی جی ڈی پی میں ایک فیصد سے بھی کم حصہ ڈال رہا ہے، جبکہ دیگر سمندری ممالک میں یہ شرح 4 سے 7 فیصد کے درمیان ہے۔ وزیر منصوبہ بندی نے بتایا کہ پاکستان کے پاس ایک ہزار کلومیٹر سے زاید طویل ساحلی پٹی، تقریباً 2 لاکھ 90 ہزار مربع کلومیٹر پر مشتمل خصوصی اقتصادی زون اور قابلِ تجدید توانائی، ماہی گیری اور معدنی وسائل کے حوالے سے وسیع ساحلی امکانات موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے ’اڑان پاکستان‘ منصوبے کا مقصد 2035 تک ملک کو ایک کھرب ڈالر کی معیشت میں تبدیل کرنا ہے، جس کے لیے ’5Es فریم ورک‘ یعنی ایکسپورٹس، ای-پاکستان، ایکوئٹی و ایمپاورمنٹ، ماحولیات و موسمیاتی تبدیلی اور توانائی و انفرااسٹرکچر پر کام کیا جا رہا ہے۔ احسن اقبال نے مزید کہا کہ حکومت نے ایکسپورٹ پر مبنی ترقی کے 8 کلیدی عوامل کی نشاندہی کی ہے، جن میں زراعت اور فوڈ پروسیسنگ، مینوفیکچرنگ اور صنعت، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل سروسز، کان کنی اور معدنیات، افرادی قوت اور ہنر مندوں کی برآمد، تخلیقی و ثقافتی صنعتیں، سروسز سیکٹر و سیاحت اور بلیو اکانومی (سمندری معیشت) شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس باہمی جڑے ہوئے دور میں سمندر دوبارہ عالمی تجارت، توانائی اور رابطے کی شاہراہیں بن چکے ہیں اور وہ ممالک جو انہیں دانشمندی سے استعمال کرتے ہیں، دراصل مستقبل کی معاشی طاقت کی سمت طے کر رہے ہیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ دنیا کی خوشحالی حقیقتاً سمندروں پر سفر کرتی ہے، انہوں نے اقوام متحدہ کی تجارتی و ترقیاتی تنظیم (یو این سی ٹی اے ڈی) کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ دنیا کی کل تجارت کا 80 فیصد حجم اور 70 فیصد مالیت سمندری راستوں سے منتقل ہوتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ عالمی بلیو اکانومی ہر سال دنیا کی مجموعی پیداوار (جی ڈی پی) میں 2 ہزار 500 ارب ڈالر سے زیادہ کا حصہ ڈالتی ہے، شپنگ، بندرگاہوں، ماہی گیری، ساحلی سیاحت اور دیگر شعبوں میں 35 کروڑ سے زاید روزگار فراہم کرتی ہے۔ اپنے خطاب میں احسن اقبال نے جدید بلیو اکانومی کی روح کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ یہ تجارت، جدت اور تلاش کے ذریعے خدا کی نعمتوں کی جستجو ہے، جبکہ اس کی تخلیق کے شکر گزار اور ذمے دار نگران بننے کی کوشش ہے۔ سندھ کے وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے بھی افتتاحی تقریب میں شرکت کی۔مراد علی شاہ نے اس موقع پر کہا کہ پی آئی ایم ای سی ایک عظیم موقع ہے، جو ملکی اور غیرملکی سمندری کاروباری رہنماؤں کو یکجا کرتا ہے اور سرمایہ کاری کے نئے دروازے کھولتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت سمندری تجارت کو فروغ دینے اور دنیا بھر سے تعلقات مضبوط کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ پی آئی ایم ای سی 2025 میں 150 مقامی اور 28 بین الاقوامی نمائش کنندگان کو شامل کر رہا ہے۔ برطانیہ، سعودی عرب، چین، مصر اور ترکیہ سمیت 44 ممالک کے نمائندے یورپ، ایشیا، شمالی و جنوبی امریکا، اور مشرق بعید سے آنے والے 133 بین الاقوامی وفود کے ساتھ اس ایونٹ میں شریک ہیں۔ پاکستان انٹرنیشنل میری ٹائم ایکسپو اینڈ کانفرنس 2025 میں میری ٹائم کے مختلف شعبوں کی نمائش کے ساتھ ساتھ بزنس ٹو بزنس (بی ٹو بی) اور بزنس ٹو گورنمنٹ (بی ٹو جی) ملاقاتیں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط شامل ہوں گے۔ ان اعلیٰ سطح کی ملاقاتوں کا مقصد غیر ملکی مندوبین، سرکاری حکام اور بحری صنعت سے وابستہ اسٹیک ہولڈرز کے مابین تعاون کو فروغ دینا اور بندرگاہوں، شپنگ، ماہی گیری اور ساحلی ترقی جیسے اہم شعبوں میں شراکت داری کو مضبوط بنانا ہے۔

مانیٹرنگ ڈیسک.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: پی ا ئی ایم ای سی احسن اقبال نے میری ٹائم نے کہا کہ انہوں نے

پڑھیں:

’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا اجراء 

پشاور (بیورو رپورٹ) وزیراعلیٰ خیبر پی کے محمد سہیل آفریدی نے ’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا باضابطہ اجراء کر دیا۔ جو 5 سٹریٹجک ستونوں، 9کلیدی اہداف، 32 تھیمیٹک ڈومینز،  915 سٹریٹجک اقدامات پر مشتمل ہے۔اس پالیسی کے تحت حکومتی خدمات مرحلہ وار آن لائن اور Citizen-Centric بنائے جائیں گی۔ پیپر لیس گورننس کے ذریعے شفافیت، جوابدہی اور سرکاری کارکردگی میں نمایاں بہتری آئے گی۔ ایک لاکھ سے زائد نوجوانوں کو AI اور ڈیجیٹل مہارتوں کی تربیت دی جائے گی۔ گرین آئی سی ٹی، کاربن فٹ پرنٹ میں کمی اور کاربن کریڈٹ رجسٹری پر کام کیا جائے گا۔ ڈیجیٹل اصلاحات سے عوام کو سرکاری دفاتر کے غیر ضروری چکر نہیں لگانے پڑیں گے۔ 

متعلقہ مضامین

  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • ’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا اجراء 
  • کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
  • کراچی میں شوہر کے ساتھ موٹرسائیکل چوری کی درجنوں وارداتوں میں ملوث ملزمہ گرفتار
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • اہم ٹیلیفونک رابطہ، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا، سہیل آفریدی پر الزام، مریم نواز اور بلاول کے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی