بلاول کا بیان دیکھا، بیان دینا ان کا حق ہے، اسحاق ڈار
اشاعت کی تاریخ: 4th, November 2025 GMT
نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار۔فوٹو: فائل
نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ بلاول بھٹو کا بیان دیکھا تھا بیان دینا ان کا حق ہے، بلاول نے جن باتوں کی نشاندہی کی وہ ہوا میں نہیں کی، ان پر بات ہوئی ہے۔
سینیٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ پیپلز پارٹی اور ہم ایک پوائنٹ پر پہنچے ہیں اور اب ہم دوسرے اتحادیوں کو لائیں گے۔ 27ویں ترمیم آنے والی ہے، کوشش کریں گے کہ یہ آئین کے مطابق پیش کریں۔
انھوں نے کہا کہ وزیر قانون آئینی ترمیم کو سینیٹ میں لا کر کمیٹی کو بھیجیں، کمیٹی کو چیئرمین ہدایت دیں وہ قومی اسمبلی کی قانون و انصاف کی کمیٹی کو اجلاس میں مدعو کریں۔
اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ کہا گیا یہ آئینی ترمیم کہاں سے آ رہی ہے، یہ آئینی ترمیم حکومت کی ہے، یہ کہیں سے پیرا شوٹ نہیں ہو رہی۔
یہ بھی پڑھیے پیپلز پارٹی کے بغیر کوئی بھی ترمیم نہیں ہوسکتی، طلال چوہدری 27ویں آئینی ترمیم نومبر کے اختتام سے پہلے پاس ہو جائے گی: فیصل واؤڈا پی ٹی آئی کا 27ویں آئینی ترمیم کے خلاف مزاحمت کا فیصلہانھوں نے کہا کہ ہم اس پر شراکت داروں اور وکلاء فورمز سے بھی بات کریں گے، آپ 27ویں ترمیم پر تقریر کریں گے رائے دیں گے، کمیٹی میں معاملہ جائے گا، اس کمیٹی میں قومی اسمبلی کی کمیٹی بھی آجائے گی۔
اسحاق ڈار نے کہا یہ نہیں ہو گا کہ جلد بازی میں ترمیم منظور کروالی جائے، یہ یقین دہانی کرواتا ہوں، ہم ابھی اپنے سب سے بڑے اتحادی کے ساتھ بیٹھے ہیں، دیگر اتحادی جماعتوں ایم کیو ایم، اے این پی اور بی اے پی کو بھی اعتماد میں لینا ہے۔
انھوں نے کہا حتمی دستاویز آپ کے سامنے پیش کر دی جائے گی، حکومت سے کہتا ہوں کہ آئینی ترمیم قومی اسمبلی سے پہلے سینیٹ میں لے آئیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: اسحاق ڈار نے کہا کہ
پڑھیں:
مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
عالمی ادارہ ایمنسٹی انٹرنیشنل بھارت میں غیر سرکاری تنظیموں اور تنقیدی آوازوں کو دبانےکا مذموم منصوبہ سامنے لے آیا۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت8انسانی حقوق کی تنظیموں نے فارن کنٹری بیوشن ریگولیشن ایکٹ کے قواعد میں کی جانے والی ترمیم واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کےمطابق بھارت کے نئےغیرملکی فنڈنگ قوانین، سول سوسائٹی پر سخت نگرانی اورتنظیم سازی کی آزادی کے حق کو دبا رہے ہیں۔
انسانی حقوق،پالیسی تحقیق،عوامی شعور،قانونی اصلاحات اورحکومتی احتساب پرکام کرنے والی ہزاروں تنظیمیں زد میں آئیں گی ، بھارت کے قوانین عالمی اصولوں کیخلاف ہیں جن کے ذریعے این جی اوز پرغیر ضروری اور حد سے زیادہ پابندیاں عائد کی گئیں۔
بھارتی حکومت گزشتہ ایک دہائی میں انسانی حقوق کی 22 ہزار 498تنظیموں کی رجسٹریشن منسوخ کر کےانہیں کام سے روک چکی ، اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے بھی 2016میں این جی اوز پر پابندیوں کے کالے قوانین کو ختم کرنے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔
اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندوں کے مطابق بھارتی حکومت یہ قوانین تنقید کرنے والی این جی اوزکو دبانے کیلئے استعمال کر رہی ہے۔ مالیاتی شفافیت کے نام پر بنائے گئے یہ قوانین دراصل سول سوسائٹی کو کنٹرول کرنے کا ہتھکنڈہ بن چکے ہیں۔