موجودہ دور میں جدید علوم کا حصول ناگزیر ہو چکا، ملک ڈیجیٹائزیشن کی راہ پر گامزن ہے، اسحاق ڈار
اشاعت کی تاریخ: 4th, November 2025 GMT
اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ اس دور میں جدید علوم کا حصول ناگزیر ہو چکا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ٹیکنالوجی کی تیز رفتار ترقی کے ساتھ ہم نے بھی نمایاں پیش رفت کی ہے اور یہ سلسلہ جاری ہے۔ اسحاق ڈار نے بتایا کہ ملک ڈیجیٹائزیشن کی راہ پر گامزن ہے، اور یہ سفر مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے دور میں شروع ہوا جب نواز شریف کی قیادت میں فور جی ٹیکنالوجی متعارف کرائی گئی۔
یہ بھی پڑھیے: استنبول: وزیرخارجہ اسحاق ڈار کی ترک ہم منصب سے ملاقات، دفاعی تعاون بڑھانے پر اتفاق
اسحاق ڈار نے اس بات پر زور دیا کہ انسانیت کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مشترکہ اور بھرپور کوششیں کرنا ہوں گی۔
غزہ کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ گزشتہ ماہ غزہ امن معاہدے پر دستخط ہو چکے ہیں، جن پر ڈونلڈ ٹرمپ کی موجودگی میں اتفاق ہوا تھا، اب اسرائیل کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس معاہدے پر مکمل عمل کرے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسحاق ڈار ٹیکنالوجی سائنس.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسحاق ڈار ٹیکنالوجی اسحاق ڈار
پڑھیں:
امریکا کیوں ایران سے ڈیل کی بھیک مانگ رہا ہے؟ امریکی ڈیموکریٹک سینیٹر کے وزیر خارجہ سے سخت سوالات
مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا ایران جنگ ختم ہوچکی اور مذاکرات کی بھیک نہیں مانگی جا رہی۔ ایرانی ایٹمی پروگرام پر مذاکرات "انتہائی ٹیکنیکل" معاملہ ہے۔ جو 5 دن میں طے نہیں ہوسکتا۔ اسلام ٹائمز۔ امریکا کے ڈیموکریٹک سینیٹر کوری بُکر نے وزیر خارجہ مارکو روبیو کو ایران کے معاملے پر آڑے ہاتھوں لیا۔ سینیٹ میں پیشی کے موقع پر کوری بُکر نے کہا کہ آخر امریکا کیوں ایران سے ڈیل کی بھیک مانگ رہا ہے۔؟ ڈیموکریٹک سینیٹر کوری بُکر نے کہا کہ ڈیل بھی ایسی جسے خود امریکا ہی پہلے کچرے کے ڈبے میں پھینک چکا تھا۔ ایران نے آبنائے ہرمز بند کی ہوئی ہے۔ مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا ایران جنگ ختم ہوچکی اور مذاکرات کی بھیک نہیں مانگی جا رہی۔
ایرانی ایٹمی پروگرام پر مذاکرات "انتہائی ٹیکنیکل" معاملہ ہے۔ جو 5 دن میں طے نہیں ہوسکتا۔ انہوں نے کہا کہ ماہرین کی میٹنگز ایک مہینہ، دو مہینے یا تین مہینوں تک بھی چل سکتی ہے۔ ایران کو انتہائی افزودہ یورینیم کی تلفی کے حوالے سے مذاکرات کا عہد کرنا ہوگا۔ مارکو روبیو کے مطابق آج ایران اپنے ایٹمی پروگرام کے جن پہلووں پر بات کرنے کو راضی ہوگیا ہے، پہلے ان پر انکاری تھا۔