اسحاق ڈار اور چینی وزیر خارجہ وانگ ای کی ملاقات، دوطرفہ تعلقات اور علاقائی امور پر تبادلہ خیال
اشاعت کی تاریخ: 24th, July 2026 GMT
شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس کے موقع پر نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ محمد اسحاق ڈار اور چین کے وزیرِ خارجہ وانگ ای کے درمیان ملاقات ہوئی۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات، علاقائی پیش رفت اور کثیر الجہتی فورمز میں تعاون پر تبادلہ خیال کیا۔
نائب وزیرِ اعظم محمد اسحاق ڈار نے علاقائی امن و استحکام کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہنے پر چینی وزیرِ خارجہ وانگ ای کا شکریہ ادا کیا۔
چینی وزیرِ خارجہ وانگ ای نے ایس سی او کونسل برائے سربراہانِ مملکت کی آئندہ صدارت سنبھالنے اور 2027 میں ایس سی او سربراہی اجلاس کی میزبانی کرنے پر پاکستان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: خارجہ وانگ ای
پڑھیں:
عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے
بشکیک: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے، جہاں رکن ممالک کے وزرائے خارجہ اہم علاقائی اور بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔
اجلاس کی میزبان ریاست کرغزستان کے وزیر خارجہ نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا استقبال کیا۔ اس موقع پر مختلف رکن ممالک کے نمائندے بھی موجود تھے۔
شنگھائی تعاون تنظیم کے اس سالانہ اجلاس میں چین، روس، پاکستان، بھارت، ایران اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ شریک ہیں۔ اجلاس میں خطے کی سکیورٹی، اقتصادی تعاون، انسداد دہشت گردی، علاقائی روابط اور باہمی شراکت داری سمیت مختلف اہم موضوعات پر بات چیت کی جا رہی ہے۔
عباس عراقچی نے اجلاس کے موقع پر ایک گروپ تصویر بھی جاری کی، جس میں وہ چین کے وزیر خارجہ وانگ ای، روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ کے ہمراہ اپنے اپنے قومی پرچموں کے سامنے موجود ہیں۔
شنگھائی تعاون تنظیم ایک اہم کثیرالجہتی علاقائی تنظیم ہے، جس کا مقصد رکن ممالک کے درمیان باہمی اعتماد کو فروغ دینا، اقتصادی تعاون کو مضبوط بنانا اور خطے کو درپیش مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تعاون بڑھانا ہے۔
اگرچہ تنظیم سکیورٹی اور علاقائی استحکام کے معاملات پر بھی توجہ دیتی ہے، تاہم یہ کسی فوجی یا دفاعی اتحاد کی حیثیت نہیں رکھتی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایسے وقت میں جب خطے میں جغرافیائی سیاسی کشیدگی برقرار ہے، شنگھائی تعاون تنظیم کا یہ اجلاس رکن ممالک کے درمیان سفارتی رابطوں اور تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔