اسحاق ڈار اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کی اہم ملاقات، خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال
اشاعت کی تاریخ: 24th, July 2026 GMT
انور عباس: نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کرغزستان میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ اجلاس کے موقع پر ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات کی، جس میں پاک ایران تعلقات اور خطے کی تازہ صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
آئی جی پنجاب نے27افسران کے تقرروتبادلے کر دیے
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق اسحاق ڈار نے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مذاکرات، تحمل اور کشیدگی میں کمی کی ضرورت پر زور دیا۔ ملاقات میں جون 2026 میں اسلام آباد میں طے پانے والی مفاہمتی یادداشت پر پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا۔
ترجمان کے مطابق عباس عراقچی نے علاقائی امن کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہا اور ایرانی ماہی گیروں اور عملے کی محفوظ واپسی میں پاکستان کے کردار کی تعریف کی۔ دونوں رہنماؤں نے قریبی رابطے اور باقاعدہ مشاورت جاری رکھنے کے ساتھ خطے میں امن، استحکام اور مشترکہ خوشحالی کے لیے مل کر کام کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
آج شام و رات سے 27 جولائی تک مزید بارشوں کی پیشگوئی
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: اسحاق ڈار ایرانی عباس عراقچی ملاقات اسحاق ڈار ملاقات عباس عراقچی ایرانی
پڑھیں:
عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے
بشکیک: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے، جہاں رکن ممالک کے وزرائے خارجہ اہم علاقائی اور بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔
اجلاس کی میزبان ریاست کرغزستان کے وزیر خارجہ نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا استقبال کیا۔ اس موقع پر مختلف رکن ممالک کے نمائندے بھی موجود تھے۔
شنگھائی تعاون تنظیم کے اس سالانہ اجلاس میں چین، روس، پاکستان، بھارت، ایران اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ شریک ہیں۔ اجلاس میں خطے کی سکیورٹی، اقتصادی تعاون، انسداد دہشت گردی، علاقائی روابط اور باہمی شراکت داری سمیت مختلف اہم موضوعات پر بات چیت کی جا رہی ہے۔
عباس عراقچی نے اجلاس کے موقع پر ایک گروپ تصویر بھی جاری کی، جس میں وہ چین کے وزیر خارجہ وانگ ای، روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ کے ہمراہ اپنے اپنے قومی پرچموں کے سامنے موجود ہیں۔
شنگھائی تعاون تنظیم ایک اہم کثیرالجہتی علاقائی تنظیم ہے، جس کا مقصد رکن ممالک کے درمیان باہمی اعتماد کو فروغ دینا، اقتصادی تعاون کو مضبوط بنانا اور خطے کو درپیش مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تعاون بڑھانا ہے۔
اگرچہ تنظیم سکیورٹی اور علاقائی استحکام کے معاملات پر بھی توجہ دیتی ہے، تاہم یہ کسی فوجی یا دفاعی اتحاد کی حیثیت نہیں رکھتی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایسے وقت میں جب خطے میں جغرافیائی سیاسی کشیدگی برقرار ہے، شنگھائی تعاون تنظیم کا یہ اجلاس رکن ممالک کے درمیان سفارتی رابطوں اور تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔