محکمہ داخلہ میں چیئرمین کابینہ کمیٹی برائے امن و امان سے شیعہ علما کی ملاقات
اشاعت کی تاریخ: 10th, November 2025 GMT
صوبائی وزیر خواجہ سلمان رفیق کا کہنا تھا کہ محکمہ داخلہ میں وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے وفد کو خوش آمدید کہتے ہیں، حکومت پنجاب صوبہ بھر میں اتحاد بین المذاہب اور اتحاد بین المسلمین کو فروغ دے رہی ہے، پاکستان کو بدقسمتی سے دہشتگردی کا سامنا رہا ہے، آج اس امر کی ضرورت ہے کہ اتحاد بین المسلمین کو فروغ دیا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر محکمہ داخلہ میں علماء کرام سے ملاقاتوں کا سلسلہ جاری ہے۔ صوبائی وزیر و چیئرمین کابینہ کمیٹی برائے امن و امان خواجہ سلمان رفیق نے محکمہ داخلہ میں وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے وفد سے ملاقات کی۔ علماء کرام کے وفد کی قیادت ادارہ منہاج الحسینؑ کے سربراہ ڈاکٹر علامہ محمد حسین اکبر نے کی۔ سیکرٹری داخلہ پنجاب ڈاکٹر احمد جاوید قاضی، سیکرٹری اوقاف سید طاہر رضا بخاری، ڈی آئی جی سپیشل برانچ، ایڈیشنل سیکرٹری انٹرنل سکیورٹی احسان جمالی، چیف ایگزیکٹو آفیسر پنجاب چیریٹیز کمیشن کرنل شہزاد عامر و متعلقہ افسران نے بھی شرکت کی۔ علماء کرام کے وفد میں مرکزی سیکرٹری جنرل وفاق المدارس علامہ محمد افضل حیدری، نائب صدر علامہ سید مرید حسین نقوی، محمد غلام باقر گھلو، لال حسین توحیدی، مہتمم اعلیٰ ادارہ منہاج الحسینؑ علامہ محمد سبطین اکبر، علامہ سید محسن علی شاہ، قاری سید اذکار حسین نقوی اور مولانا سید مستنصر عباس کاظمی شامل تھے۔ ملاقات کے دوران امن و امان کی صورتحال اور اتحاد بین المسلمین پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
صوبائی وزیر خواجہ سلمان رفیق کا کہنا تھا کہ محکمہ داخلہ میں وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے وفد کو خوش آمدید کہتے ہیں، حکومت پنجاب صوبہ بھر میں اتحاد بین المذاہب اور اتحاد بین المسلمین کو فروغ دے رہی ہے، پاکستان کو بدقسمتی سے دہشتگردی کا سامنا رہا ہے، آج اس امر کی ضرورت ہے کہ اتحاد بین المسلمین کو فروغ دیا جائے۔ خواجہ سلمان رفیق نے کہا کہ پاکستان کی ترقی کا راز ایک خوشحال اور پُرامن ریاست میں مخفی ہے، اسلام امن اور سلامتی کا دین ہے، دین اسلام ہمیں برداشت، بھائی چارے اور اتحاد بین المسلمین کا درس دیتا ہے۔ خواجہ سلمان رفیق نے کہا کہ پاکستان کی ترقی کیلئے اداروں سمیت تمام سٹیک ہولڈرز نے اپنا بنیادی کردار ادا کرنا ہے، ریاست پاکستان امن، بھائی چارے اور تشدد کے کلچر کی مخالفت کی امین ہے، ریاست پاکستان میں ترقی اور قیام امن کی ذمہ داری معاشرے کے تمام سٹیک ہولڈرز پر عائد ہوتی ہے۔ خواجہ سلمان رفیق نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کے احکامات اور نبی کریم ؐ کی سنت پر عمل کرنیوالے جید علماء کرام امت مسلمہ کا فخر ہیں، اللہ تعالیٰ کے احکامات اور نبی کریمؐ کی سنت کی روشنی میں رہنمائی کیلئے علماء کرام سے رجوع کرتے رہیں گے۔
سیکرٹری داخلہ پنجاب ڈاکٹر احمد جاوید قاضی نے کہا کہ معزز علماء کرام ہمیشہ امن کے فروغ اور تشدد کے خاتمے کا درس دیتے ہیں، معزز علما و آئمہ کرام کے تمام مسائل کا فوری حل حکومت پنجاب کی اولین ترجیح ہے، عوام کے جان و مال اور عزت و آبرو کا تحفظ ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ سیکرٹری داخلہ پنجاب نے کہا کہ لوگوں کو دین کی صحیح روح سے آگاہ کرنا علماء کرام کی عظیم خدمت ہے۔ شیعہ علما کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات امن و سکون اور سلامتی کا تقاضہ کرتے ہیں، قیام امن اور اتحاد بین المسلمین کیلئے حکومت پنجاب کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ علماء کرام نے اداروں اور نظام مدارس کے درمیان بہترین ہم آہنگی کیلئے سفارشات پیش کیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: اتحاد بین المسلمین کو فروغ اور اتحاد بین المسلمین خواجہ سلمان رفیق نے محکمہ داخلہ میں وفاق المدارس حکومت پنجاب علماء کرام نے کہا کہ کے وفد
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔