خواجہ آصف کا پی آئی اے کے خلاف ’منفی مہم‘ پر ردعمل، تمام الزامات مسترد
اشاعت کی تاریخ: 10th, November 2025 GMT
وفاقی وزیر برائے ہوا بازی اور دفاع خواجہ آصف نے پی آئی اے سے متعلق سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر گردش کرنے والے اطلاعات کو ’بنیاد سے محروم اور بدنیتی پر مبنی پروپیگنڈا‘ قرار دیتے ہوئے یکسر مسترد کر دیا۔
وفاقی وزیر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حکومت قومی ایئر لائن کو نجی شعبے کے حوالے کرنے کے عمل میں مصروف ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پی آئی اے کے حوالے سے غیر ذمہ دارانہ بیانات دینے والوں کا احتساب ہونا چاہیے، خواجہ آصف
رواں سال اپریل میں حکومت نے پی آئی اے کی فروخت کے لیے نئی ایکسپریشن آف انٹرسٹ کی دعوت دی تھی۔
Propaganda targeting PIA, its flights safety and its operations is totally baseless.
-Safety is non-negotiable but unqualified people cannot dictate it in the presence of Pakistani and International Regulators. #PIA flight ops are strictly adhered to PCAA/international safety…
— Khawaja M. Asif (@KhawajaMAsif) November 10, 2025
پہلے اس کے لیے 3 جون کی آخری تاریخ مقرر کی گئی تھی جسے بعد میں 19 جون تک بڑھا دیا گیا، تاہم تمام شرائط وہی برقرار رکھی گئیں۔
حکومت پی آئی اے کے 51 سے 100 فیصد حصص فروخت کرنے کی خواہش رکھتی ہے تاکہ قرضوں میں ڈوبی ہوئی ایئر لائن سے چھٹکارا حاصل کیا جا سکے۔
اور دیگر خسارے میں چلنے والے سرکاری اداروں میں اصلاحات لائی جا سکیں۔ یہ اقدامات 7 ارب ڈالر کے آئی ایم ایف پروگرام کے تحت اصلاحاتی ایجنڈے کا حصہ ہیں۔
مزید پڑھیں: ’عمران خان اور غلام سرور نے پی آئی اے کو قبرستان بنایا‘ وزیر دفاع خواجہ آصف کا ممکنہ حکومتی کارروائی کا عندیہ
گزشتہ سال حکومت کی نجکاری کی پہلی کوشش ناکام ہو گئی تھی کیونکہ صرف ایک ہی پیشکش موصول ہوئی تھی جو 300 ملین ڈالر کے مقررہ قیمت سے کہیں کم تھی۔
خواجہ آصف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ پروازوں کی حفاظت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا، اور ’غیر مستند افراد‘ کسی صورت اس معاملے پر رائے نہیں دے سکتے جب کہ پاکستانی اور بین الاقوامی ریگولیٹرز موجود ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ پی آئی اے کی تمام پروازیں پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی اور بین الاقوامی حفاظتی معیاروں پر مکمل عمل درآمد کے تحت جاری ہیں۔
مزید پڑھیں: برطانیہ کے لیے پی آئی اے پروازوں کا دوبارہ آغاز اہم سنگِ میل ہے، وزیراعظم کا پابندی کے خاتمے کا خیرمقدم
وزیر نے کہا کہ حکومت پی آئی اے کی منافع بخشی کی بحالی اور اس کے نیٹ ورک کے توسیعی منصوبوں کی مکمل حمایت کرتی ہے۔
ان کے مطابق، پچھلے 3 دنوں کے دوران پی آئی اے کی یومیہ اوسط آمدنی 60 کروڑ روپے تک پہنچ گئی ہے، جو کہ باقاعدہ ملکی و غیر ملکی پروازوں کے شیڈول کے تحت حاصل کی گئی۔
انہوں نے بعض عناصر پر ملک دشمن افواہیں پھیلانے اور قومی ایئر لائن کی بحالی کی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کا الزام لگایا۔
مزید پڑھیں: پی آئی اے کی تباہی کا الزام، غلام سرور خان اپنے دفاع کے لیے تیار
ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے گزشتہ 5 برسوں میں پی آئی اے کو دوبارہ فعال اور مستحکم بنانے کے لیے انتھک محنت کی ہے۔
خواجہ آصف نے مزید بتایا کہ پی آئی اے اس وقت ٹورنٹو، مانچسٹر، پیرس، سعودی عرب، چین اور مشرق بعید کے لیے باقاعدہ پروازیں چلا رہی ہے.
وزیر دفاع کے مطابق جلد ہی یورپ اور شمالی امریکا کے مزید روٹس پر بھی پروازیں شروع کی جائیں گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ایکس ایوی ایشن پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی پی آئی اے خواجہ آصف وزیر دفاع
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایکس ایوی ایشن پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی پی ا ئی اے خواجہ ا صف وزیر دفاع پی آئی اے کی پی ا ئی اے خواجہ آصف ئی اے کی کے لیے
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔