ڈاکٹر نبیحہ نے حد سے تجاوز کیا، تنقید کے بعد مولانا طارق جمیل کے بیٹے خاموش نہ رہ سکے
اشاعت کی تاریخ: 10th, November 2025 GMT
معروف سوشل میڈیا اسٹار ڈاکٹر نبیہہ علی خان نے حال ہی میں اپنے قریبی دوست حارث کھوکھر کے ساتھ رشتۂ ازدواج میں منسلک ہو کر اپنی زندگی کے نئے سفر کا آغاز کیا ہے۔ دونوں کی نکاح کی تقریب معروف مذہبی اسکالر مولانا طارق جمیل کی رہائش گاہ پر منعقد ہوئی، جس کے بعد سوشل میڈیا پر اس تقریب کے حوالے سے مختلف آراء اور تنازعات سامنے آئے۔
ڈاکٹر نبیحہ علی خان کے نکاح کی ویڈیوز اور تصاویر تیزی سے سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئیں۔ ان ویڈیوز میں مولانا طارق جمیل کو دلہن کے ساتھ بیٹھے دیکھا گیا، جس پر بعض صارفین نے سوالات اٹھائے کہ آیا یہ طرزِ عمل مناسب تھا یا نہیں۔
View this post on Instagram
A post shared by Yousaf Jamil (@yousafjamilmtj)
اسی حوالے سے مولانا طارق جمیل کے صاحبزادے یوسف جمیل نے وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کے والد نے زندگی میں ہزاروں نکاح پڑھائے ہیں اور وہ دلہنوں کو اپنی بیٹیوں کی طرح سمجھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جو لڑکیاں نکاح پڑھوانے آتی ہیں ان کو ساتھ نہیں بیٹھنا چاہیے شرعاً اس کی کوئی گنجائش نہیں ہے لیکن مولانا ان کے لیے بزرگ کی مانند ہیں وہ کسی خواہش کی عمر میں نہیں ہیں۔ میرے والد اب بزرگ ہیں اور کسی کو منع نہیں کرتے۔
مولانا یوسف جمیل نے مزید کہا کہ وہ ڈاکٹر نبیحہ علی خان کی جانب سے حد سے تجاوز ہوا ہے جو کہ نا مناسب تھا۔ انہوں نے اس چیز کا بالکل خیال نہیں رکھا کہ ان کا نکاح کون پڑھا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ڈیڑھ کروڑ کے زیورات اور ایک کروڑ کا لباس، مولانا طارق جمیل نے نکاح پڑھایا، ڈاکٹر نبیہہ کی شادی توجہ کا مرکز
انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر نبیحہ نے اپنی خوشی کا اظہار کیا، مگر چونکہ تقریب مولانا کے گھر پر تھی، اس لیے انہیں وہاں گانے بجانے اور ویڈیوز بنانے سے اجتناب کرنا چاہیے تھا۔ اب اس سب کا پریشر مولانا طارق جمیل کو برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔ تو میری گزارش ہے کہ تنقید ضرور کریں لیکن یہ بھی دیکھیں کہ کرنے والا کون ہے۔
مولانا طارق جمیل تو ڈاکٹر نبیحہ کو جانتے بھی نہیں تھے انہیں تو ایک دوست نے کہا کہ ایک ڈاکٹر ہیں ان کا نکاح پڑھا دیں جس کی انہوں نے حامی بھر لی انہیں بالکل اندازہ نہیں تھا کہ بعد میں ایسا کچھ ہو گا۔ اگر انہیں اس چیز کا علم ہوتا تو وہ منع کر دیتے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ڈاکٹر نبیحہ نکاح مولانا طارق جمیل مولانا طارق جمیل تنقید.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ڈاکٹر نبیحہ نکاح مولانا طارق جمیل مولانا طارق جمیل تنقید مولانا طارق جمیل ڈاکٹر نبیحہ انہوں نے کہا کہ
پڑھیں:
وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
پاکستانی کرکٹ کے لیجنڈ وسیم اکرم، سابق کپتان مصباح الحق، میزبان و اداکار فخر عالم، سابق کرکٹر سعید انور اور دیگر معروف شخصیات نے اس سال مشترکہ طور پر فریضۂ حج ادا کیا۔ تاہم دورانِ حج سوشل میڈیا پر ان کی بعض ویڈیوز اور تصاویر وائرل ہونے کے بعد انہیں تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
وسیم اکرم کی رمی الجمرات کے دوران شیئر کی گئی ایک ویڈیو، جس میں انہوں نے اپنے مخصوص سوئنگ اسٹائل میں شیطان کو کنکریاں مارنے کا انداز اپنایا، خاصی وائرل ہوئی۔ بعد ازاں ایک اور ویڈیو میں وہ مصباح الحق کے لیے کیلے اٹھائے ہوئے دکھائی دیے، جس پر بھی صارفین نے مختلف تبصرے کیے۔
دوسری جانب فخرِ عالم نے اپنے حج سفر کی متعدد جھلکیاں سوشل میڈیا پر شیئر کیں جن میں اداکار بلال عباس خان اور کامیڈین تابش ہاشمی سمیت دیگر شخصیات بھی نظر آئیں۔ ان سرگرمیوں کے باعث بعض سوشل میڈیا صارفین نے اس سفر کو ’’حج کے بجائے پکنک‘‘ قرار دیا۔
@timesofkarachiWhy didn’t Wasim Akram, Fakhar-e-Alam, and Misbah-ul-Haq shave their heads as part of the Hajj ritual? #TOKReports #Hajj #WasimAkram #FakhareAlam #MisbahulHaq
♬ original sound - Times of Karachiحالیہ گفتگو میں وسیم اکرم، فخرِ عالم اور مصباح الحق نے ان تنقیدی تبصروں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ بہت سے لوگوں نے سوال اٹھایا کہ انہوں نے حج کے بعد سر منڈوانے کے بجائے صرف بال کیوں کٹوائے۔ ان کے مطابق حج پر روانگی سے قبل انہوں نے علماء کرام سے رہنمائی حاصل کی تھی جنہوں نے دو شرعی آپشنز بتائے تھے، یا تو مکمل سر منڈوایا جائے یا پھر قصر کروائی جائے، جس میں بالوں کا ایک حصہ کٹوایا جاتا ہے۔ انہوں نے دوسرا طریقہ اختیار کیا جو شرعی طور پر جائز ہے۔
انہوں نے ’’حج یا پکنک‘‘ سے متعلق تنقید پر بھی ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ حج ایک عظیم عبادت ہے، لیکن اس دوران انسان چوبیس گھنٹے صرف ایک ہی عمل میں مصروف نہیں رہتا۔ عبادت کے ساتھ دوستوں سے ملاقات، گفتگو، دعائیں، مسکراہٹیں اور خوشی کے لمحات بھی اس سفر کا حصہ ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تنقید کرنے سے پہلے لوگوں کو ان معاملات کی مکمل معلومات حاصل کرنی چاہئیں۔
وسیم اکرم اور ان کے ساتھیوں نے بتایا کہ انہوں نے نوجوان نسل کے لیے بھی مختلف ویڈیوز بنائیں تاکہ حج کی ادائیگی سے متعلق رہنمائی فراہم کی جا سکے اور نوجوانوں میں اس مقدس سفر کا شوق پیدا ہو۔ ان کے مطابق ان ویڈیوز کا مقصد صرف معلومات دینا اور لوگوں کو حج کے لیے آمادہ کرنا تھا۔
مدینہ منورہ سے گفتگو کرتے ہوئے فخر عالم نے کہا کہ حج مکمل کرنے کے بعد سب سے زیادہ یہی سوال پوچھا جا رہا ہے کہ آخر انہیں حج پر جانے کی ترغیب کیسے ملی۔ اس سوال کے جواب میں وسیم اکرم نے کہا کہ انہوں نے پہلے سے کوئی خاص منصوبہ بندی نہیں کی تھی، بلکہ وہ ہمیشہ یہی سوچتے تھے کہ جب دل سے تیاری محسوس ہوگی تو حج کریں گے۔ ان کے بقول جب انہیں معلوم ہوا کہ فخر عالم اور مصباح الحق بھی حج پر جا رہے ہیں تو انہوں نے بھی اس قافلے میں شامل ہونے کا فیصلہ کر لیا۔
View this post on Instagramوسیم اکرم نے مزید کہا کہ وہ جلد 60 برس کے ہونے والے ہیں اور انہیں محسوس ہوا کہ اب اس مقدس فریضے کی ادائیگی کا بہترین وقت آ گیا ہے۔ انہوں نے حج کے سفر کو جسمانی طور پر مشکل لیکن یادگار اور قابلِ برداشت قرار دیا۔
مصباح الحق نے بھی اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حج کا یہ سفر ان کی زندگی کے خاص ترین تجربات میں سے ایک ہے۔ ان کے مطابق دوستوں کے ساتھ اس روحانی سفر کو طے کرنے سے اس کی خوبصورتی اور یادیں مزید بڑھ گئیں، اور یہ تجربہ ہمیشہ ان کے دل میں محفوظ رہے گا۔