علم و ادب کا چراغ بجھ گیا، پروفیسر ڈاکٹر عارفہ سیدہ زہرا انتقال کرگئیں
اشاعت کی تاریخ: 10th, November 2025 GMT
پاکستان کی نامور ماہرِ تعلیم، محقق، ادیبہ اور فکری رہنما پروفیسر ڈاکٹر عارفہ سیدہ زہرا لاہور میں انتقال کر گئی ہیں۔
پاکستانی ادبی و علمی حلقوں میں گہرے دکھ کی لہر دوڑ گئی۔ معروف ڈرامہ نگار اور شاعر اصغر ندیم سید نے ان کے انتقال کی تصدیق کرتے ہوئے گہرے رنج و افسوس کا اظہار کیا۔
مزید پڑھیں: ذکرِ فیض چلے!
ڈاکٹر عارفہ سیدہ زہرا ایک روشن دماغ، ایک مؤقر آواز، اور اردو زبان و تہذیب کی متحرک ترجمان تھیں۔ انہوں نے گورنمنٹ کالج لاہور سے ایم اے اردو اور یونیورسٹی آف ہوائی سے تاریخ میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ وہ فارمن کرسچن کالج میں پروفیسر اور لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی کی سابق پرنسپل رہ چکی تھیں۔
ڈاکٹر عارفہ سیدہ نے نہ صرف تدریس بلکہ سماجی، ثقافتی اور فکری مکالمے میں بھی نمایاں کردار ادا کیا۔ وہ خواتین کی حیثیت سے متعلق قومی کمیشن کی چیئرپرسن اور پنجاب کی نگران صوبائی وزیر بھی رہیں۔
مزید پڑھیں: معروف شاعر و محقق پروفیسر ڈاکٹر نذیر تبسم دوران مشاعرہ انتقال کرگئے
ان کی علمی بصیرت 7 زبانوں پر عبور، تہذیبی شعور، اور فہم و فراست سے آراستہ تھی۔ انہوں نے اپنی زندگی تعلیم، تحقیق، خواتین کے حقوق اور قومی زبان کے فروغ کے لیے وقف کر دی۔
ان کے لیکچرز، خطابات اور مکالمے نسلِ نو کے لیے روشنی کا مینار بنے رہیں گے۔ ادبی و علمی حلقوں نے ڈاکٹر عارفہ سیدہ زہرا کے انتقال کو ’علم و فہم کے ایک عہد کا خاتمہ‘ قرار دیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پروفیسر ڈاکٹر عارفہ سیدہ زہرا عارفہ سیدہ زہرا.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: عارفہ سیدہ زہرا ڈاکٹر عارفہ سیدہ زہرا پروفیسر ڈاکٹر
پڑھیں:
کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک
ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے فرار ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہوگئے۔اسپیشل انویسٹی گیشن (ایس آئی ایو) نے دعویٰ کیا ہےکہ گلشنِ معمار، عمر بروہی گوٹھ میں گرفتار ڈاکوؤں کی نشاندہی پر ان کے فرار ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے چھاپا مارا تو ملزمان نے فائرنگ کردی جس سے پولیس اہلکار بھی زخمی ہوگیا۔ایس آئی یو کا کہنا ہے کہ فائرنگ کےدوران ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے مارے گئے۔13 جولائی کو کراچی کے علاقے کلفٹن میں بینک کے باہر ڈاکوؤں کی فائرنگ سے نوجوان ڈاکٹر آکاش جاں بحق ہوگیا تھا جب کہ ملزمان بینک سے نکالے گئے 50 لاکھ روپے میں سے 25 لاکھ لوٹ کر فرار ہوگئے تھے۔ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں پولیس نے تفتیشی رپورٹ جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں جمع کرائی تھی جس میں واردات میں نامعلوم خاتون کے ملوث ہونے کاانکشاف بھی کیا گیا تھا۔پولیس نے بتایا تھا کہ کلفٹن تین تلوار کے قریب ڈکیتی واردات کے دوران ڈاکٹر آکاش کو فائرنگ کرکے قتل کرنے کے واقعے میں گرفتار ملزمان کے بینکوں کے باہر رقم چھیننے اور تاجر کو لوٹنے کے واقعات میں ملوث ہیں۔