وسیم اکرم نے اعظم خان کا ہاتھ توڑ دیا، معین خان نے کال کرکے فاسٹ بولر کو کیا کہا؟
اشاعت کی تاریخ: 10th, November 2025 GMT
پاکستانی کرکٹر اعظم خان نے قومی ٹیم کے سابق کپتان اور فاسٹ بولر وسیم اکرم کے حوالے سے ایک یادگار واقعہ سنایا جس میں انہوں نے قومی کرکٹر کا ہاتھ توڑ دیا تھا۔
ایک انٹرویو میں اعظم خان نے واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ وسیم اکرم نے کراچی میں فاسٹ بولرز کے لیے ایک تربیتی کیمپ لگایا تھا۔ شام کے وقت وہ بیٹسمینوں اور وکٹ کیپرز کو بلایا کرتے تھے تاکہ انہیں پریکٹس کروا سکیں۔
یہ بھی پڑھیں: ’مجھے ماریں گے تو نہیں؟‘ عمران خان کو سپر اسٹار قرار دیتے ہوئے اعظم خان ڈرگئے، ویڈیو وائرل
اعظم خان نے بتایا کہ ایک دن وسیم انکل نے مجھے بلایا اور کہا کہ پیڈ پہنو۔ میں اچھی بیٹنگ کر رہا تھا اور شاٹس مار رہا تھا، جس پر وہ بولے کہ پندرہ سال کا لڑکا تم سب کو مار رہا ہے، لاؤ بال مجھے دو۔
انہوں نے مزید کہا کہ جب وسیم اکرم نے بولنگ شروع کی تو انہوں نے کہا کہ میں آؤٹ سوئنگ کر رہا ہوں، میں نے گیند چھوڑ دی لیکن وہ سیدھی میرے بازو پر لگی اور کچھ دیر بعد بازو میں شدید درد شروع ہو گیا۔
اعظم خان کے مطابق، ایک گھنٹے بعد میں رکشہ لے کر گھر جا رہا تھا، جب پیسے نکالنے لگا تو میرا ہاتھ سیدھا نہیں ہو رہا تھا۔ میں نے فوراً والد کو فون کیا اور کہا کہ مجھے پک کر لیں، میرا لگتا ہے ہاتھ ٹوٹ گیا ہے۔ والد نے پوچھا کس نے توڑا تو میں نے کہا، وسیم انکل نے۔
یہ بھی پڑھیں: کیا کرکٹر اعظم خان نے اپنا وزن کم کرلیا؟ شاداب خان نے پول کھول دیا
انہوں نے مزید بتایا کہ ابو (معین خان) نے وسیم اکرم کو فون کیا اور کہا کہ آپ نے بھتیجے کا ہاتھ توڑ دیا ہے، تو وسیم انکل بولے کہ نہیں یار میں نے تو بڑے آرام سے بال کرائی تھی۔
اعظم خان نے ہنستے ہوئے مزید بتایا کہ ’میں والد کے ساتھ اسپتال جا رہا تھا تو راستے میں ایک ریسٹورنٹ آیا۔ میں نے کہا کہ اسپتال آگیا؟ تو والد بولے کہ پہلے کچھ کھا لیتے ہیں۔ میں نے کہا ہاتھ ٹوٹا ہوا ہے، تو انہوں نے کہا کوئی بات نہیں، پہلے سینڈوچ کھاتے ہیں، پھر اسپتال چلتے ہیں۔ چنانچہ ہم نے پہلے سینڈوچ کھایا، پھر اسپتال گئے‘۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اعظم خان پاکستانی کرکٹ قومی کرکٹ ٹیم معین خان وسیم اکرم.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاکستانی کرکٹ قومی کرکٹ ٹیم وسیم اکرم وسیم اکرم انہوں نے رہا تھا کہا کہ نے کہا
پڑھیں:
بھارت پاکستان میں دہشتگردی میں ملوث، افغانستان دہشتگردوں کو روکنے میں ناکام ہے: وزیرِ اعظم شہباز شریف
وزیراعظم شہباز شریف---فائل فوٹووزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی میں بھارت کا کردار واضح ہے، 2018ء میں ملک سے دہشت گردی کا مکمل خاتمہ ہو چکا تھا تاہم ایک منظم سازش کے تحت دہشت گردی دوبارہ واپس لائی گئی۔
بلوچستان نیشنل ورکشاپ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 90 ہزار پاکستانی جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں جبکہ حال ہی میں مستونگ میں سیشن جج کا قتل بھی دہشت گردی کی سنگین مثال ہے، دہشت گردی کا مقابلہ پوری قوم نے مل کر کرنا ہے۔
انہوں نے افغانستان کی عبوری حکومت پر زور دیا کہ وہ اپنی سر زمین دہشت گردوں کے لیے استعمال نہ ہونے دے تاہم افسوس کے ساتھ کہا کہ افغان حکومت دہشت گردوں کو روکنے میں ناکام رہی ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ خطے میں امن کے قیام کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو دنیا قدر کی نگاہ سے دیکھ رہی ہے جبکہ پاکستان کی حالیہ کامیابیاں دشمن کو ہضم نہیں ہو رہیں۔
انہوں نے فیلڈ مارشل عاصم منیر اور نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار کی سفارتی کاوشوں کو بھی سراہا۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان نے جدید ٹیکنالوجی میں اہم کامیابیاں حاصل کیں، ڈرونز کی 60 فیصد سے زائد مقامی تیاری حاصل کر لی گئی ہے
وزیرِ اعظم کا کہنا ہے کہ بلوچستان رقبے کے لحاظ سے ملک کا سب سے بڑا جبکہ آبادی کے اعتبار سے سب سے چھوٹا صوبہ ہے اور بلوچستان کے عوام نے قیامِ پاکستان اور وفاق کے استحکام میں ہمیشہ اہم کردار ادا کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے عوام کی قربانیاں کبھی رائیگاں نہیں جائیں گی۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے بتایا کہ کراچی سے چمن تک دو رویہ شاہراہ کی تعمیر پر کام جاری ہے۔
این ایف سی ایوارڈ کے حوالے سے وزیرِ اعظم نے کہا کہ پنجاب نے بلوچستان کے لیے بڑھ چڑھ کر حصہ ڈالا اور دیگر صوبوں نے بھی بھرپور تعاون کیا۔
انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ماضی کی غلطیوں کا ازالہ کرتے ہوئے چاروں صوبوں کو ان کا جائز حق دیا جائے گا۔
ورکشاپ کے شرکاء کے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کہا کہ پاکستان کی ترقی چاروں صوبوں کی مشترکہ کاوشوں سے ممکن ہے اور اب ملک کو ترقی کی نئی راہ پر گامزن کرنے کا وقت آ گیا ہے۔