بھارت کے سینئر اداکار دھرمیندر، وینٹی لیٹر پر منتقل، حالت تشویشناک
اشاعت کی تاریخ: 10th, November 2025 GMT
ممبئی(ویب ڈیسک) بالی ووڈ کے لیجنڈری اداکار دھرمیندر کو ممبئی کے بریچ کینڈی اسپتال میں وینٹی لیٹر منتقل کردیا گیا۔خاندانی ذرائع کے مطابق دھرمیندر کو سانس لینے میں دشواری کی شکایت ہوئی تھی وہ ایک ہفتے سے زائد عرصے سے اسپتال میں زیرِ علاج ہیں۔
اداکار دھرمیندر 8 دسمبر 2025 کو اپنی 90ویں سالگرہ منائیں گے۔ اپریل میں ان کی آنکھوں کا ٹرانسپلانٹ کیا گیا تھا۔دھرمیندر نے 1960 میں فلم دل بھی تیرا ہم بھی تیرے سے فلمی سفر کا آغاز کیا۔ ابتدائی دور میں انہوں نے عام آدمی کے کرداروں کے ذریعے شہرت حاصل کی، جن میں ان پڑھ، بندنی، انوپما اور آیا ساون جھوم کے جیسی فلمیں شامل ہیں۔
بعدازاں انہوں نے ایکشن اور کامیڈی کرداروں سے اپنی پہچان مزید مضبوط کی اور بلاک بسٹر فلم شعلے اور دھرم ویر، چپکے چپکے، میرا گاؤں میرا دیش، ڈریم گرل جیسی یادگار فلموں میں جلوہ گر ہوئے۔
دھرمیندر کو آخری بار فلم تیری باتوں میں ایسا الجھا جیا میں شاہد کپور اور کریتی سینن کے ساتھ دیکھا گیا تھا۔ ان کی آئندہ فلم اکیس ہے، جس میں امیتابھ بچن کے نواسے آگستیا نندا مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں۔ فلم 25 دسمبر کو ریلیز ہونے والی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔