بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی عبوری حکومت سے مذاکرات پر رضامند
اشاعت کی تاریخ: 8th, November 2025 GMT
بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) نے کہا ہے کہ اگر نگران حکومت کے چیف ایڈوائزر کی جانب سے براہ راست دعوت دی گئی تو وہ سیاسی مذاکرات میں شریک ہونے کے لیے تیار ہے، تاہم جماعتِ اسلامی کے ذریعے پیغام رسانی قابل قبول نہیں۔
ڈھاکا میں انسٹیٹیوٹ آف ڈپلومہ انجینئرز میں ’نیشنل ریولوشن اینڈ سولڈیریٹی ڈے‘ کی 50ویں سالگرہ کے موقع پر بی این پی کی طلبہ تنظیم جتیہ تابد چاترا دل کے زیراہتمام منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بی این پی کی اسٹینڈنگ کمیٹی کے رکن صلاح الدین احمد نے کہا کہ نگران حکومت کو اپنے اختیارات سے تجاوز نہیں کرنا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: عوامی لیگ کے دور میں ہونے والے غیرمنصفانہ معاہدوں پر بھارت سے مذاکرات کریں گے: بنگلہ دیش
ان کا کہنا تھا کہ ’آپ منتخب حکومت نہیں ہیں، یہ کبھی نہ بھولیں۔ طاقت کا غیر ضروری مظاہرہ آپ کے منصب کے شایانِ شان نہیں۔ ‘
جماعتِ اسلامی کے ذریعے مذاکراتی دعوت پر اعتراضصلاح الدین احمد نے کہا کہ اگر چیف ایڈوائزر ہمیں مذاکرات کی دعوت دیتے ہیں تو ہم ضرور جائیں گے، لیکن کسی دوسری سیاسی جماعت کے ذریعے یہ پیغام کیوں دیا جا رہا ہے؟ ’یہ کون ہیں جو ہمیں مذاکرات کے لیے بلا رہے ہیں؟ ‘
واضح رہے کہ جمعرات کو جماعتِ اسلامی کے رہنما سید عبداللہ محمد طاہر نے بی این پی کے سیکریٹری جنرل مرزا فخرالاسلام عالمگیر کو فون کرکے جولائی چارٹر اور آئندہ ریفرنڈم سے متعلق سیاسی مذاکرات پر گفتگو کی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش: عبوری حکومت کا سیاسی اختلافات پر اظہارِ تشویش، اتفاق نہ ہونے کی صورت میں خود فیصلے کرنے کا عندیہ
صلاح الدین نے کہا کہ بی این پی تمام سیاسی جماعتوں بشمول جماعتِ اسلامی اور نیشنلِسٹ سٹیزن پارٹی (این سی پی) سے جمہوری رابطے رکھتی ہے، تاہم کسی سیاسی جماعت کو مذاکرات میں ’’ریفری‘‘ کا کردار ادا کرنے کا حق نہیں دیا جا سکتا۔
جولائی چارٹر پر اختلافبی این پی نے نگران حکومت کو 28 اکتوبر کو نیشنل کنسینسس کمیشن کی سفارشات پر سخت اعتراض کیا ہے، جن کے مطابق جولائی چارٹر کے نفاذ کا مسودہ ’اصل معاہدے‘ سے کافی مختلف ہے جو 17 اکتوبر کو سیاسی جماعتوں نے دستخط کیا تھا۔
بی این پی کا مؤقف ہے کہ ریفرنڈم قومی انتخابات کے دن ہی ہونا چاہیے، جبکہ جماعتِ اسلامی ریفرنڈم کو پہلے کرانے کی حامی ہے تاکہ جولائی چارٹر کو انتخابات سے قبل قانونی حیثیت مل سکے۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش کا عالمی پلاسٹک معاہدے کے مسودے کو مسترد کرنے کا اعلان
نگران حکومت نے سیاسی جماعتوں سے ایک ہفتے میں اتفاقِ رائے پیدا کرنے کا کہا ہے، بصورتِ دیگر حکومت یکطرفہ فیصلہ کر سکتی ہے۔ اس پر ردِعمل دیتے ہوئے صلاح الدین نے کہا کہ ’آپ کو یہ اختیار نہیں کہ ہمیں سات دن میں شرائط منوانے کا حکم دیں۔ ایک غیر منتخب حکومت کے لیے ایسی دھمکیاں زیب نہیں دیتیں۔ ‘
جماعت اور عوامی لیگ پر تنقیدصلاح الدین احمد نے جماعتِ اسلامی کو متنبہ کیا کہ ’جن لوگوں نے 1971 کی روح کے خلاف کردار ادا کیا اور بعد میں ارشاد کے دور میں شامل ہوئے، اگر اب وہ عوامی لیگ کے ساتھ اتحاد کے ذریعے دوبارہ سیاست میں آنے کی کوشش کریں گے تو انجام اللہ ہی جانتا ہے۔ اس سے صرف آمرانہ قوتیں ہی مضبوط ہوں گی۔ ‘
انہوں نے کہا کہ’سیاسی مفادات کے لیے عوامی تحریک کو نقصان نہ پہنچائیں، عوام بنگلہ دیش کی جمہوری جدوجہد کو ذاتی مفادات کی نذر نہیں ہونے دیں گے۔ ‘
عوامی لیگ کے ’لاک ڈاؤن‘ پروگرام پر تبصرہصلاح الدین نے 13 نومبر کو عوامی لیگ کے اعلان کردہ ’لاک ڈاؤن‘ پروگرام پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ ’کیا وہ واقعی سمجھتے ہیں کہ عوام ان کی کال پر لبیک کہیں گے؟ اگر ایسا ہوتا تو وہ 5 اگست کو اقتدار سے کیوں ہٹائے گئے؟ آئیں اور دیکھیں کہ اب عوام ان کا استقبال کیسے کرتے ہیں۔‘
طلبہ رہنماؤں کا انتباہچاترا دل کے صدر رکیبول اسلام نے کہا کہ ملک میں انتشار اور عدم استحکام مخصوص حلقوں کی سازشوں کا نتیجہ ہے۔ ’جو قوتیں بھارت کے مفادات کے لیے سڑکوں پر تشدد اور افراتفری پھیلانا چاہتی ہیں، تاریخ انہیں معاف نہیں کرے گی۔‘
تقریب کی نظامت جنرل سیکریٹری نصیر الدین نے کی، جبکہ تنظیمی سیکریٹری امان اللہ امان اور ڈھاکا یونیورسٹی یونٹ کے صدر گنیش چندر رائے سمیت دیگر رہنماؤں نے بھی خطاب کیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
’نیشنل ریولوشن اینڈ سولڈیریٹی ڈے we news بنگلہ دیشن نیشنل پارٹی بی این پی بنگلہ دیش جتیہ تابد چاترا دل جماعت اسلامی چیف ایڈوائزر طلبہ تنظیم عبوری حکومت مذاکرات.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بنگلہ دیشن نیشنل پارٹی بی این پی بنگلہ دیش جماعت اسلامی چیف ایڈوائزر عبوری حکومت مذاکرات جولائی چارٹر عوامی لیگ کے نگران حکومت سیاسی جماعت صلاح الدین بنگلہ دیش بی این پی نے کہا کہ کے ذریعے الدین نے کرنے کا کے لیے
پڑھیں:
امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے خاتمے سے متعلق خبروں کو مسترد کرتے ہوئے انہیں غلط اور گمراہ کن قرار دیا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہاکہ یہ اطلاعات درست نہیں ہیں کہ ایران اور امریکا نے چند روز قبل ایک دوسرے سے بات چیت بند کردی ہے۔
ان کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان رابطے اور گفتگو کا سلسلہ مسلسل جاری ہے، اور آج بھی بات چیت ہوئی ہے۔
انہوں نے کہاکہ ان مذاکرات کا انجام کیا ہوگا، اس حوالے سے کوئی کچھ نہیں جانتا، تاہم ایران کو واضح پیغام دیا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ کسی نہ کسی صورت ایک معاہدہ کیا جائے۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران گزشتہ 47 برس سے اسی طرز پر معاملات چلا رہا ہے اور یہ صورتحال مزید جاری نہیں رہ سکتی۔
واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی بدستور برقرار ہے، اور پاکستان دونوں ممالک میں معاہدہ کرانے کے لیے بھرپور سفارتکاری کررہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews امریکا ایران مذاکرات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ معاہدہ وی نیوز