پنجاب میں سیاسی ہلچل: حکومت اور پیپلز پارٹی کے درمیان پاور شیئرنگ پر بریک تھرو
اشاعت کی تاریخ: 7th, November 2025 GMT
پنجاب حکومت اور پیپلزپارٹی کے مابین پاور شیئرنگ کے حوالے سے بڑا بریک تھرو سامنے آیا ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے درمیان پاور شیئرنگ کےمعاملات طے پاگئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق مسلم لیگ ن کی صوبائی قیادت نے پیپلز پارٹی کے تحفظات دور کردیے، جس کے نتیجے میں مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کے درمیان اختلافی امور پر حل نکل آیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ ن نے پیپلز پارٹی کے 30 ارکان اسمبلی و ٹکٹ ہولڈرز کے انتخابی حلقوں میں ترقیاتی فنڈز جاری کرنے کی ایک بار پھر ہامی بھرلی ہے۔ پنجاب حکومت کے محکمہ قانون میں لا آفیسرز کی بھرتیوں میں بھی پیپلز پارٹی کو شیئر دینے کا امکان ہے۔ ذرائع کے مطابق ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن کمیٹیوں میں پی پی کے ایم پی ایز اور ٹکٹ ہولڈرز کو شامل کیے جانے کا امکان ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: پیپلز پارٹی مسلم لیگ ن پارٹی کے
پڑھیں:
رواں ماہ بجلی صارفین کو کتنا ریلیف ملے گا؟ پاور ڈویژن نے بتا دیا
اسلام آباد(نیوز ڈیسک)پاور ڈویژن کا کہنا ہے کہ جون 2026 میں بجلی صارفین کو 20 پیسے فی یونٹ ریلیف ملے گا۔ ترجمان پاور ڈویژن کے مطابق سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کی مد میں 1.93 روپے فی یونٹ کمی کا فائدہ صارفین کو منتقل کیا جا رہا ہے۔
ترجمان نے بتایا کہ ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کے تحت اگرچہ 1.73 روپے فی یونٹ اضافہ ہوا ہے، تاہم اس کے باوجود مجموعی طور پر صارفین کو بجلی سستی فراہم کی جا رہی ہے۔
پاور ڈویژن کے مطابق جون 2026 میں بجلی کے نرخ جنوری تا مئی 2026 کی سطح پر ہی برقرار رہیں گے۔
حکومتی مؤقف کے مطابق اس فیصلے سے صارفین پر کسی بڑے اضافی بوجھ کو منتقل نہیں ہونے دیا گیا۔
ترجمان نے مزید بتایا کہ حکومت نے مؤثر حکمت عملی کے ذریعے صارفین کو 38 ارب روپے کے ممکنہ اضافی بوجھ سے بچایا ہے جبکہ سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کی مد میں 65 ارب روپے کا ریلیف براہِ راست صارفین کے حق میں منتقل کیا گیا ہے۔
پاور ڈویژن کا مزید کہنا ہے کہ مجموعی اقدامات کے نتیجے میں بجلی نرخوں میں بڑا اضافہ ٹل گیا ہے اور صارفین کو وقتی طور پر ریلیف فراہم کیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں۔اسلام آباد میں دکانوں اور کاروباری مراکز کے اوقات میں توسیع، نیا شیڈول جاری